Rana Zahid Iqbal

رمضان اور مہنگائی کا عفریت

ماہِ رمضان رمضان آن پہنچا۔ اگر چہ مادی نقطۂ نظر سے اس مہینے اور دوسرے مہینوں میں کوئی خاص امتیاز محسوس نہیں ہوتا لیکن حقیقت میں یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں عملِ قلیل پر بھی جزائے جلیل عطا کی جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے لئے پورا سال جنت کو سنورا اور نکھارا جاتا ہے پھر جب یکم رمضان المبارک کا دن آتا ہے تو پھولوں کی خوشبو سے لبریز معطر ہوائیں چلتی ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں پر ہزاروں بیش قیمت نعمتوں کا لامحدود و لامتناہی سلسلہ ہمہ وقت ابرِ رحمت کی صورت میں رکھتا ہے۔ اگر ہم اس کی عطاؤں اور بخششوں کے احسانِ عظیم کے حق کو ادا کرنے کا تصور کریں تو تمام عمر نہیں کر پا سکتے۔ خدا کی انہی نعمتوں میں سے رمضان المبارک بھی عظمتوں اوربرکتوں والا متبرک مہینہ ہے۔ ہمیں ماہِ رمضان المبارک کا استقبال خالص اور سچی توبہ کے ذریعے کرنا چاہئے اور اس کے پیغام و مقصد کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تا کہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اورا س بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہِ مبارکہ میں اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق معمولات کی تجدید کریں پھر ان معمولات کی فہرست بھی بنا لیں جنہیں رمضان المبارک میں ادا کرنا ہے۔ اگر آپ کے ساتھ تقاضے ہیں اور عبادت کے لئے خود کو بالکل فارغ نہیں کر سکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مٔوخر کر سکتے ہیں۔ اس ماہِ مبارک میں ہم اپنی زندگی، صحت اور جوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں۔ معاشرتی روابط اور حقوق پر خاص طور سے دھیان دیں کسی کا کوئی قرض یا دعویٰ ہے تو اسے فوراً چکا دیں اور معاملے کا تصفیہ کر لیں ۔ بروزِ قیامت وہ شخص بڑا بد نصیب اور مفلس ہو گا جو نماز روزے اور زکواۃ کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوؤں کا ایک انبار ہو گا، کسی کومارا ہو گا، کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کی بے عزتی کی ہو گی، لہٰذا اس کی نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دی جائیں گی کہ جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور دعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھونپ دئے جائیں گے۔ اس ماہِ مبارکہ میں اپنے سلوک اور کردار پر دھیان دیں اپنے آپ کو حسنِ سلوک کا پیکر بنائیں۔
اللہ پاک نے ماہِ رمضان کے عنوان سے اپنے بندوں کو ایک ایسا مہینہ عنایت کیا ہے جس میں وہ اپنے بندوں کو روزہ و نماز اور صدقات کے ذریعے اپنے بے حد قریب آنے کا موقع نصیب فرماتا ہے۔ اللہ پاک کے نیک بندے اس مبارک مہینے میں اپنی مسلسل عبادت و اطاعت سے اپنے مہربان کو راضی کر کے رحمت، مغفرت، نجات اور جنت کی بشارت حاصل کرتے ہیں۔ ماہِ رمضان اہلِ ایمان کے لئے بہار کا موسم ہے۔ پاکستان میں ہر سال ماہِ رمضان کی آمد سے پہلے اور اس کے آغاز پر ہر حکومت عوام کو یہ خوشخبری سناتی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں اشیائے ضرویہ کی قیمتوں میں کمی کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی چیز کی قلت یا گرانی پیدا نہیں ہونے دی جائے گی۔ دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کرسمس ہو یا کوئی اور مذہبی رسومات کا دن، وہاں حکومت اور کاروباری طبقہ مل کر ایسے اقدامات کرتا ہے اور صارفین کو واقعی رعایتی نرخوں پر مختلف اشیاء فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے یہاں ہر دور میں اعلانات تو بڑے کئے جاتے ہیںاور ان کی میڈیا کے ذریعے کوریج خصوصی طور پر کروائی جاتی ہے مگر عملی طور پر صارفین کو بہت ساری چیزیں سستی نہیں مہنگی خریدنی پڑتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ماہِ صیام کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر عید سیل کے نام پر جو لوٹ مار ہوتی ہے اس کی کوئی انتہا نہیں۔
اس سال بھی یقیناً ہمارے وزیرِ اعظم جناب میاں محمد شہباز شریف کم از کم فوٹو سیشن کے لئے اسلام آباد کے کسی یوٹیلٹی سٹور پر ضرور جائیں گے اور اسی طرح وزرائے اعلیٰ بھی ان کی تقلید کریں گے اور وہاں وزیرِ اعظم اور وزرائے اعلیٰ صاحبان پچھلے سالوں کی طرح روایتی بیان دیں گے کہ ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس نے عملی طور پر اس مبارک مہینے میں اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں نہ صرف کمی کی ہے بلکہ یوٹیلٹی سٹورز اور دیگر سروسز کی تعداد اور سہولتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں ہمیشہ سے چلتا آ رہا ہے۔ ہمارے بے چارے عوام بڑے سادہ اور زیادہ باتیں یاد رکھنے والے نہیں ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی حکومت جو یہ دعوے کرتی ہے کہ ہماری اقتصادی اصلاحات کا ساری دنیا میں اعتراف کیا جاتا ہے اور پاکستان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، پاکستان میں غربت کم اور خوشحالی بڑھ رہی ہے ۔ لیکن شائد موجودہ حکومت یہ بھی نہ کہہ سکے کیونکہ گزشتہ ایک سال میں وطنِ عزیز میں مہنگائی نے پاکستان کی تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دئے ہیں ۔ ایک سال پہلے تک جو روٹی پانچ چھ روپے میں ملتی تھی آج پندرہ بیس روپے میں میسر ہو رہی ہے۔ دنیا کے ہر مہذب ملک میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ روٹی، کھانے پینے کی اشیاء اورا دویات میں نہ تو ملاوٹ ہو اور نہ ہی ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو ہمارا ملک اس سوچ سے بالا تر ہے اور یقیناً بالا تر ہی رہے گا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے جو ملک زرعی معیشت کا حامل قرار دیا جاتا ہو وہاں گندم بھی وافر پیدا ہوتی لیکن وہاں اسی سال اس کی مارکیٹ میں نرخوں میں بھی اتنا ہی اضافہ ہو، وہاں عوام بے چارے کیا کر سکتے ہیں۔ عوام اس صورتحال پر خاصے پریشان ہیں اور سوچتے ہیں کہ اس حکومت کے دور میں گندم اور آٹے کے نرخوں میں جو اضافہ ہوا، اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جا سکتی ہے۔
اس سال چونکہ پہلے سے مہنگائی بہت زیادہ ہے اسی لئے اس سال ماہِ رمضان میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا جو کہ ہمارے ہاں ہر سال روایت بن چکی ہے کہ جونہی یہ مبارک مہینہ شروع ہوتا ہے بلکہ اس سے قبل ہی ذخیرہ اندوز متحرک ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ہمارے سیاست دانوں کی بڑی تعداد اس ملک کی معیشت میں چینی، کھاد، ٹیکسٹائل اور گندم کے بزنس سے وابستہ ہے وہ کیسے کسی کے خلاف کوئی کاروائی کرنے دیں گے۔ عوام کی رائے ہے کہ وہ یہاں زیادہ تر ڈیمو کریسی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی نظام پر پارلیمانی شخصیات کی گرفت کی وجہ سے وہ ڈیمو کریسی ڈریون افراطِ زر کے دباؤ میں ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عوام مہنگائی کا اصل بوجھ اپنے کئی پارلیمنٹیرین کی وجہ سے برداشت کرتے ہیں جو ایسے ادارے اور صنعتیں چلاتے ہیں جہاں عوام کو کھانے پینے کی اشیاء ہر سال، ہر ماہ، ہر ہفتہ اور اب ہر روز مہنگی سے مہنگی خریدنی پڑتی ہیں۔
روز افزوں مہنگائی آج ہمارے ملک کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی دو بھر ہوتی جا رہی ہے۔ لوگوں کے گھریلو بجٹ کا سارا تخمینہ فیل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہر اگلے روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے کہ ایک چیز جس نرخ پر گزشتہ روز خریدی ہوئی ہوتی ہے آج اس نرخ پر میسر نہیں ہوتی۔ آٹا، دال، چاول، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی چیز بھی اب عوام کی دسترس میں نہیں ہے۔ آج جتنے پیسے گھر آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے پہلے ہزار پانچ سو روپے کی بڑی وقعت ہوتی تھی اب وہی ہزار پانچ سو کا نوٹ ایسے خرچ ہو جاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ بازار میں صارف کا استحصال کئی طرح سے ہوتا ہے دوکاندار ناجائز طریقوں سے اشیاء کے دام لگاتے ہیں۔ اس سے بازار میں افراتفری کا ماحول بنا رہتا ہے۔ اجناس اور خدمات کی قیمت بڑھتے ہی کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے۔ جو بالآخر معاشی نمو میں سستی کا باعث بنتی ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑ احصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کا گزار رہا ہے۔ پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا۔ حکمران طبقے، با اثر سیاست دانوں، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی کو اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب سے پی ڈی ایم کی حکومت آئی ہے اس نے پی ٹی آئی کی حکومت کو کوسنے دینے کے سوا ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اپنی معاشی پالیسی کے خدو و خال واضح کئے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں