Raja Shahid Rasheed

اداروں کو نشانہ نہ بنائیں

صاحبانِ سیاست نے سب سرحدیں توڑ دی ہیں تمام حدیں چھوڑ دی ہیں اور اس ضمن میں ن لیگ کے رہنما خواجہ محمد آصف نے صد فی صد درست فرمایا تھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ۔ میں تحریک انصاف کے کئی رہنمائوں کے نام بتا سکتا ہوں جو ماضی میں نازاں تھے ‘ بڑی بڑی باتیں کرتے تھے‘ پھولے نہیں سماتے تھے اور فخراً بتاتے تھے کہ چئیرمین PTI عمران خان نے آج پھر فرمایا کہ جناب جنرل قمر جاوید باجوہ جیسا جمہوریت پسند جرنیل کوئی نہیں۔ عمران خان حسبِ عادت بنی گالہ گھر میں ٹیبل پہ ٹانگیں رکھے بیٹھے ہوتے تھے ‘ یاد کریں اخبارات میں تصاویر بھی چھپتی تھیں کپتان کبھی ٹی شرٹ پاجامہ زیب تن فرما کر ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید بھی تشریف فرما ہوتے تھے ‘ تب سب کچھ ٹھیک تھا جنرلز اچھے تھے اور ادارے بھی درست تھے۔؟لیکن آج جنرل باجوہ بہت بُرے ہو گئے ہیں‘ عمران کا ہر تیر ہر تنقید ہر بات باجوہ باجوہ سے شروع ہوتی ہے اور باجوہ باجوہ ہی پہ ختم ہوتی ہے ‘ مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے مرشد نہ صرف جاگتے بلکہ سوتے ہوئے بھی باجوہ باجوہ جپتے رہتے ہوں گے جبکہ دوسری جانب مریم نواز ہیں جو ججز کے پیچھے پڑی ہیں اور تُلی ہیں ترازو کے دونوں پلڑے برابر کرنے پہ یعنی عدالتوں اور ججز کی کوئی حرمت ہے نہ پت‘ بس کوئی’’ ہٹی‘‘ ہے وہاں ترازو ہے ’’کھنڈ پتاسہ‘‘ ہے یا کوئی ’’پتلی تماشہ‘‘ ہے۔ عمران خان اور مریم نواز آپس کی اس لڑائی میں اداروں کو بھی گھسیٹ رہے ہیں۔ مریم بی بی بولتی ہیں کہ ’’عمران خان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کریں گے‘‘۔ عمران و مریم یہ نہیں جانتے کہ ایسے ٹوپی ڈراموں سے ان کے اپنے پَلے ’’ککھ‘‘ نہیں بچا‘ دوسروں کو بے نقاب کرتے کرتے یہ احمق خود بے نقاب ہو گئے ہیں بلکہ بے وقار بھی۔ کوئی شرم نہیں کوئی حیا نہیں لشکر لے کر آ جاتے ہیں‘ چاہے کوئی بھی ہو‘ جتھے جمع کرنا اور یہ لشکر کشی ملک کے مفاد میں ہے نہ عوام کے اور نہ ہی سیاست و اہل سیاست و جمہوریت کے لئے یہ بدگمانی و بد زبانی کسی طور پہ بھی مناسب نہیں ہے اور اگر یہی چلن چل گیا تو نہ رہے گا بانس اور نہ بجے کی بانسری اور پھر آنے والی نسلیں بھی تمہیں معاف نہیں کریں گی۔
بیرونی بھاری سودی قرضوں ‘IMF کے احکامات و شرائط‘ منی لانڈرنگ و کرپشن اور غربت و معیشت و مہنگائی کو نہیں‘ یہ جاہل و نااہل حکومت عمران خان کی گرفتاری کو ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھ بیٹھی ہے‘ اپنے مقدمات ختم کرانے خود کو بچانے کے بعد یہ حکمراں کوشاں ہیں بلکہ سرگرداں ہیں عمران خان کو گرفتار کر کے نااہل کرانے کیلئے ۔ رات کے 12 بجے عدالتیں کھلیں تھیں تب یہ حکمراں مسند نشین ہوئے تھے‘ دیکھنا یہ ہے اور سوچنا یہ ہے کہ آج یہ حکمراں عدالتوں اور ججز کے ساتھ کیا کر رہے ہیں‘ سپریم کورٹ پہ حملہ کرنے والی ن لیگ کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے مریم نواز نے جلسوں میں ججز کی تصاویر دکھا دکھا کر توہین کی‘ کیا سپریم کورٹ آئین کے ساتھ اس کھلواڑ کا نوٹس لے گی؟ آج اپنے پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سچ‘ مکمل سچ‘ اصل سچ اور صد فی صد سچ بتلا رہا ہوں کہ اس سسٹم نے‘ اشرافیہ نے ہمیشہ ہی ’’شریفوں‘ کو سپورٹ کیا‘ اقتدار کے گھوڑے پہ بٹھایا بھی اور پھر بچایا بھی‘ سب کو معلوم ہے ‘ دنیا نے دیکھا کہ کبھی یہ جدہ جا اُترتے ہیں اور کبھی برطانیہ بھاگ جاتے ہیں‘ ان سے کبھی بھی کوئی ثبوت نکلا نہ منی ٹریل ملی ‘ قطری خط اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے جو سپریم کورٹ میں ثابت ہوا لیکن اس کے باوجود یہ بڑی ہی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پہ نکالا ‘ مجھے کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا۔ عمران خان کی حکومت کب مثالی تھی شدید بحران اور معاشی بدحالی تھی پھر اس کے بعد PDM نے آکر ملک ICU میں پہنچا دیا‘ مہنگائی سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی‘ معیشت تباہ‘ ملک کا بیڑا غرق کر دیا اور اس کے ذمہ دار یہ سب ہیں جو اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں اور ملک و قوم کی کوئی فکر نہیں۔
عمران خان اور مریم نواز جنرلز اور ججز کو نشانہ بنانے‘ الزامات لگانے سے پہلے اپنا احتساب خود کریں‘ میڈیا میں نہیں عدالتوں میں اپنے اپنے تحائف توشہ خانوں‘ گھڑیوں ‘ گاڑیوں ‘ فارن فنڈنگ اور بے نامی جائیدادوں کا حساب دیں‘ خود کو صادق و امین ثابت کر دکھائیں تب مانیں گے۔ حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک و قوم کے مسائل کو چیلنج جان کر ہم سب ایک ہو جائیں نیک ہو جائیں۔ عہد ِ موجود میں اہل پاکستان کیلئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ یں پھر ہاتھ نہ چھوڑیں ساتھ نہ چھوڑیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران و مریم مل کر معیشت کو درست سمت لے جائیں‘ ہجوم کو قوم بنائیں اور قوم کو سچ بتائیں یہ ملک بچائیں اور اداروں کو نشانہ نہ بنائیں۔ میرا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ :
امن چاہتا ہوں حق اور اقرار کی بات کرتا ہوں
میں پت جھڑ خزاں میں بہار کی بات کرتا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں