Mohammad Saeed Javed

ریل کی پٹری اور کھیل تماشے

محمد سعید جاوید

 Rail tracks

جب نئی نئی ریل گاڑی چلی تو روز نت نئے تماشے ہوتے تھے ۔ میری کتاب ریل کی جادو نگری کا یہ اقتباس دیکھیں۔اس وقت اس ریل گاڑی کی رفتارمحض آٹھ دس میل فی گھنٹہ ہوتی تھی یعنی زیادہ سے زیادہ کوئی سولہ کلومیٹر فی گھنٹہ۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ پٹری کے ساتھ والی سڑک پر جاتا ہوا کوئی سائیکل یا گھڑسوار انجن ڈرائیور کو سیٹی بجا کر چھیڑتا اور پھرآنکھ مارکراُسے ریس کی دعوت دیتا ہوا آگے نکل جاتا۔ ڈرائیورمسکرا کر رہ جاتا ، وہ بیچارہ اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا کیوں کہ وہ انجن کی دسترس کے مطابق ہی زور لگا سکتا تھا- جذباتی ہو کر اگر وہ اس سے زیادہ طاقت اس میں جھونک دیتا تو کچھ بعید نہ تھا کہ ایک دھماکے سے اس کا بوائلر پھٹ جاتا اور ہر سو بڑی تباہی پھیل جاتی اس لیے وہ جی ہی جی میں کُڑھتا رہتا تھا لیکن انجن کی رفتار نہ بڑھاتا تھا۔
یہ بھی ہوتا تھا کہ اس نام نہاد ریل گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کچھ شوخ لونڈے لپاڑے چلتی گاڑی سے چھلانگ مار کر نیچے اتر آتے کچھ رنگ بازی کرتے ،اچھل کود کرکے ہاتھ ‎پیر سیدھے کرتے اور پھراسی گاڑی کے پیچھے دوڑ تے ہوئے پچھلے ڈبے پرجا چڑھتے تھے۔
ریل کی پٹری کے آس پاس قائم زرعی اور مویشیوں کے فارموں میں ایک علیحدہ ہی قیامت مچی رہتی تھی۔ وہاں کھیتوں میں چرنے والے مویشی اس دیو ہیکل ، کالی کلوٹی اور شور مچانے والی شے کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتے اور پناہ کی تلاش میں ادھر اُدھر بھاگے پھرتے۔اکثر تو جان بچانے کی خاطروہاں سے کھسک جانے میں ہی عافیت جانتے مگر کچھ بیوقوف اور متجسس مویشی اس بلا کو قریب سے دیکھنے کے اتنے مشتاق ہوتے کہ انجن کی راہ گزر پر آن کھڑے ہو تے ، ڈرائیور انجن کی سیٹیاں بجا بجا کر ہلکان ہوجاتا ، لیکن وہ پٹری سے ٹلنے کا نام ہی نہ لیتے، حتیٰ کہ گاڑی کے وہاں پہنچنے پر اُن جانوروں کا تجسس ختم ہوجاتا اور اکثر اوقات وہ خود بھی۔
جب اس قسم کے حادثات بڑھنے لگے تو انجن کی پیشانی پر ایک ایسا فولادی آنکڑہ نصب کر دیا گیاجو یوں سامنے آ جانے والے اس طرح کے نامعقول جانوروں کو اٹھا کر پٹری سے دور پھینک دیا کرتا تھا۔ مویشی کی جان تو بچ جاتی تھی لیکن وہ اس چکر میں اپنی کئی ہڈیاں تڑوا بیٹھتا تھا۔ بعد میں یہ مالک کی مرضی پر منحصر ہوتا تھا کہ وہ اُسکا علاج کروائے یا دوستوں کے ساتھ مل کر سر شام ایک سٹیک پارٹی اُڑائے۔
ان فارموں کے مالکوں کو یہ انجن ایک آنکھ نہ بھاتا تھا ، انھوں نے تو ریل کمپنی پر یہاں تک الزام لگا دیا کہ اس بیہودہ سے انجن کے خوف کی وجہ سے ان کی گائیں اور بھیڑ بکریوں نے دودھ دینا اور بچے جننا کم کر دیے ہیں۔ انھوں نے عدالت میں ان پر کئی مقدمے بھی کردیے،مگر اُن کی سنی اَن سنی کر دی گئی ۔
یہ اُنھی دنوںکا قصہ ہے کہ امریکہ میں ایک سادہ لوح کسان نے انجن ڈرائیور پر اپنی گائے کو ریل گاڑی تلے روند کر مارنے کا الزام لگا کر انصاف کا مطالبہ کیا ۔ جج نے ڈرائیور کو طلب کرکےاسے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ اصل میں کیا ماجرہ ہے؟ ڈرائیور ، جو پہلے ہی اپنی اس بے معنی سی پیشی پر تپا ہوا بیٹھا تھا، کہنے لگا، حضور میری ریل گاڑی اس کے کھیتوں کے پاس بچھی ہوئی پٹٹری پر چل رہی تھی کہ انجن نے قریب ہی اس کی گائے کو چرتے دیکھا تو پٹری چھوڑ کر اس کی طرف لپکا اور کچھ دور تک کھیتوں میں اس کا پیچھا کرکے اسے جالیا اور کچل ڈالا۔ جب جج صاحب اور حاضرین عدالت قہقہہ لگا کر ہنسے تو مدعی نے اپنا کیس ہاتھ سے جاتا دیکھ کر وہاں سے کھسک جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ بعد میں یہ واقعہ زباں زد عام ہوا اور ایک اچھا خاصا لطیفہ بن گیا۔
اس قسم کی درخواستیں خارج ہوتے ہی ریل مالکان کو گویا ہلہ شیری ملی اور یوں پٹریاں ‎بچھانے اور گاڑیاں دوڑانے کا کام مزیدتیزی پکڑتا گیا ۔ بعد ازاں ایسے فارموں کے مالکوں اور ریلوے محکمے کے درمیان سمجھوتہ ہوگیا اور طے پایا کہ محکمہ ریل کو کوسنے کے بجائے اپنے جانوروں کو پٹری پر جانے سے روکنے کے لیے وہ اپنے کھیتوں کے اردگرد باڑ لگا کر ان کا راستہ مسدود کر دیں گے ۔

(ریل کی جادو نگری سے اقتباس)

اپنا تبصرہ بھیجیں