ریڈیو پاکستان by taseer naqvi

ریڈیو پاکستان اور یادیں

کئی مرتبہ ریڈیو پاکستان لاہور جانے کا پروگرام بنا , مشاعرے اور مسالمے کے لیئے دعوت بھی ملی مگر کبھی محرم الحرام اور کبھی کسی خاص نجی مصروفیت کی وجہ سے نہ جا سکا لیکن دل بہت کرتا تھا – کہ ریڈیو اسٹیشن جایا جائے بلکہ جب ہمارے اسلامیہ کالج سول لائن کے زمانے کے دیرینہ دوست رضا کاظمی اسٹیشن ڈائریکٹر لاہور تعینات ہوئے تو کئی مرتبہ دعوت دی کہ ریڈیو اسٹیشن چکر لگاؤں مگر نہ جا سکا ۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1971 ء میں آخری مرتبہ کالج کے دوستوں کے ہمراہ ریڈیو اسٹیشن کا چکر لگا تھا اور ہم اپنے دور کی نامور شخصیات ممتاز شاعر ناصر کاظمی , سجاد باقر رضوی , احمد ندیم قاسمی , اے حمید , اشفاق احمد , اُستاد امانت علی خان , فریدہ خانم , غلام علی , نظام دین اور دیگر معروف شخصیات سے ملے ۔ کیا خوبصورت دور تھا ریڈیو پر ایک گہما گہمی کا سماع ہوتا تھا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا زمانہ تھا معیاری علمی , ادبی , بچوں کے پروگرام اور ڈرامے نشر ہوتے تھے مگر دن بدن یہ ادارے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے زوال کا شکار ہوتے چلے گئے ۔

آج موسیقی کی دنیا کے مشہور شام چوراسی گھرانے کے نامور کلاسیکل گایئک اُستاد اختر علی خان کے ہونہار صاحبزادے شان اختر علی خان کے ہمراہ ریڈیو اسٹیشن جانا ہوا وہاں جا کر اُداسییوں نے استقبال کیا جہاں کبھی شاعر , ادیب , فنکار غرض کہ کارکنوں کی رونق دیدنی ہوتی تھی مگر آج بے رونقی دیکھ کر دل خراب ہوا , دل و دماغ ماضی کی یادوں میں کھو گیا سیکیورٹی روم کے باہر ہی ریڈیو پروڈیوسر ثروت علی خان سے ملاقات ہوئی ثروت شام چوراسی گھرانے کے اُستاد تصدق علی خان کے صاحبزادے ہیں ۔ بڑے پُرتپاک انداز میں ملے کینٹین پر بیٹھے اور گپ شپ میں پرانے دور اور سینئرز کی باتیں ہویئں انکل ناصر کاظمی اور دوسرے دانشوروں کی یادوں کو تازہ کیا ۔

ابھی گذشتہ دنوں ثروت علی خان کی ہمشیرہ کینسر کے موزی مرض میں مبتلا رہ کر انتقال کر گئی تھیں- اُنکے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی ۔ کافی دیر میوزیشنز اور دیگر احباب سے باتیں ہوتی رہیں ۔ ہماری چھوٹی بہنوں جیسی عفت علوی جو ریڈیو پر پروڈیویسر ہیں اُن سے فون پر بات ہوئی اُنھیں جلدی جانا تھا ملاقات نہ ہو سکی ,

خیر یادگار لمحات ریڈیو پاکستان میں گذارنے کے بعد جب باہر آنے لگے تو برآمدے میں خوبصورت , خوش مزاج اور خوش شکل سفید باریش شخصیت اسٹیشن ڈائریکٹر لاہور مُصطفےٰ کمال صاحب سے ملاقات ہوئی جو تعارف کے بعد اپنے دفتر لے گئے اور مُختلف موضوعات پر گفتگو کی وہاں اپنے یار ِ دیرینہ رضا کاظمی مرحوم سابق اسٹیشن ڈائریکٹر کی باتیں کر کے یاد کرتے رہے ۔ بیگ میں ہمارے پاس اپنا شعری مجموعہ ” ساحل پہ کھڑے لوگ ” موجود تھا مصطفے کمال صاحب کو پیش کیا جنہوں نے اپنے ایک کولیگ کو کہہ کر تصویر بنوائی اور ہم خدا حافظ کہہ کر الحمراء مال روڈ کی طرف چل دیئے

الحمراء میں کلچر ڈے کے حوالے سے تقریبات جاری تھیں ہر طرف ڈھول کی تھاپ پر لوگ دھوتی اور سر پر پگڑیاں پہن کر رقص کرتے نظر آئے , وہاں ہمارے شاعر دوست کامران نذیر بھی موجود تھے جو طایر بیٹھے لان میں چائے اور سِگریٹ سے محضوض ہو رہے تھے وہیں ڈاکٹر ایم ابرار , کنور عبدالماجد , زین مدنی سٹی 42 , اور دیگر بھی ملے امین حفیظ بھی اہنے مخصوص انداز میں سلام دعا لیتے گذرے , باتوں میں وقت کا پتہ ہی نہ چلا تین مرتبہ چائے کا دور بھی چلا , وہیں بیٹھے تھے کہ پاکستان موسیقی کانفرنس کی بانی حیات احمد خان مرحوم کی بیٹی اپنے شوہر اور معروف ادبی شخصیت خالد غیاث صاحب کے ہمراہ تقریب میں شرکت کے لیئے آیئں , اُن سے ملاقات ہوئی بڑی مُحبت سے مل ,

مغرب کی اذانیں شروع ہو چکی تھیں اور اندھیرے اپنا آپ دِکھانے لگ چکے تھے سو کامران نذیر صاحب اور دیگر احباب کو خُدا حافظ کہہ کر گھر کی طرف چل دیئے ۔ آج کا دِن یادوں کے حصار میں اپنے عہد کی لیجنڈ شخصیات کو یاد کرتے گذرا
یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ :
” اج دا دن وی چنگا ای لنگیا “

اپنا تبصرہ بھیجیں