قرآن کے بارے میں

قرآن خدا کی عظیم رحمت ہے

سورۂ یونس 57،58

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۞ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ ۞

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے (قرآن کی شکل میں) پند و موعظہ، دلوں کی بیماریوں کی شفا اور اہلِ ایمان کے لئے ہدایت و رحمت کا مجموعہ آگیا ہے۔ ۔ (اے رسول) کہیے کہ (یہ سب کچھ) خدا کے خاص فضل اور اس کی خصوصی رحمت کا نتیجہ ہے اس لئے چاہیے کہ لوگ خوشی منائیں یہ چیز اس دولتِ دنیا سے بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں۔ ۔
🔸تفسیر آیات🔸

بعض گزشتہ آیات میں قرآن کے بارے میں کچھ مباحث آئی ہیں اور ان میں مشرکین کی مخالفت کا کچھ ذکر آیا ہے ۔ زیر بحث آیات میں بھی اسی مناسبت سے قرآن کے بارے میں گفتگو آئی ہے ۔ پہلے ایک ہمہ گیر عالمی پیغام کے حوالے سے تمام انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اے لوگوں تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے وعظ و نصیحت آئی ہے (یَااٴَیّھَا النَّاسُ قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُم) ۔اور ایسا کلام کہ جو تمہارے دلوں کی شفاء کا سبب ہے ( وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُور) ۔ ایسی چیز کہ جو ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہے (وَھُدًی) اور مومنین کے لئے رحمت ہے ( وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ) ۔
اس آیت میں قرآن کی چار صفات بیان ہوئی ہیں ، انھیں سمجھنے کے لئے پہلے ان کے لغوی معانی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ”وعظ“ ( اور ”موعظہ“) جیسا کہ مفردات میں آیا ہے ، ایسی نہین کو کہتے ہیں جس میں تہدید کی آمیزش ہو لیکن ظاہراً ”موعظہ “ کا معنی اس سے وسیع تر ہے جیسا کہ مشہور عرب دانشر خلیل کا قول مفردات ہی میں لکھا ہے کہ ” موعظہ “ نیکیوں کا تذکر اور یادہانی ہے جس میں رقت ِ قلب بھی موجود ہو۔ در حقیقت ہر قسم کی پند و نصیحت جو مخاطب پر اثر کرے ، اسے برائیوں سے ڈرائے یا اس کے دل کے نیکیوں کی طرف متوجہ کرے اسے ”وعظ “ اور ”موعظہ“کہتے ہیں البتہ اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ ہرموعظہ کا اثر ہونا چاہئیے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ آمادہ دلوں پر اس طرح سے اثر کرے ۔
دلوں کی بیماری سے شفاے کا باعث یا قرآن کی تعبیر میں اس سے شفاء کا سبب جو سینوں میں ہے اس سے مراد معنوی اور روحانی آلودگیوں سے شفاء ہے ۔ مثلاً بخل، کینہ ، حسد، بزدلی ،شرک اور نفاق وغیرہ سے شفاء کہ جو سب کی سب روحانی بیماریاں ہیں ۔”ہدایت“ سے مراد ہے مقصود کی طرف راستہ مل جانا۔ یعنی انسان کا ارتقاء اور پیش رفت تمام مثبت پہلووٴں کے سلسلے میں ۔
نیز” رحمت“ سے مراد خدا کی بخشی ہوئی وہ مادی اور معنوی نعمتیں ہیں جو اہل انسانوں کو میسر آتی ہیں جیسا کہ مفردات میں ہے کہ ”رحمت “ کی جب خدا کی طرف نسبت دی جائے تو اس کا معنی نعمت بخشنا ہے اور جب انسانوں کی طرف اس کی نسبت ہو تو اس کا مطلب ہے رقت طلبی اور مہربانی ۔
قرآن کے سائے میں انسان کی تربیت اور اس کے تکامل و ارتقاء کو مندرجہ بالا آیات میں در حقیقت چار مراحل میں بیان کیا گیا ہے ۔
پہلا مرحلہ۔ موعظہ اور پند و نصیحت ہے ۔
دوسرا مرحلہ۔ طرح طرح کے اخلاقی رذائل سے روحِ پاک انسانی کو پاک کرنا ہے ۔
تیسرامرحلہ۔ ہدایت کا ہے جو پاکسازی کے بعد انجام پاتا ہے اور
چوتھامرحلہ۔ وہ ہے کہ انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ پروردگار کی رحمت و نعمت اس کے شامل حال ہو۔ ان میں سے مرحلہ دوسرے کے بعد آتا ہے اور جاذبِ نظر یہ ہے کہ یہ سب مراحل قرآن کے زیرسایہ انجام پاتے ہیں ۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کو پند و نصیحت کرتا ہے ، قرآن ہے کہ جو گناہ کے زنگ اور بری صفت کو اس کے دل سے دھوتا ہے ۔ قرآن ہے کہ جو انسانوں کے دلوں میں نور ہدایت کی روشنی کرتا ہے ، اور قرآن ہی ہے جو معاشرے پر خدائی نعمتوں کے نزول کا باعث ہے ۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جامع گفتگو میں نہایت خوبصورت انداز میں اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے ، آپ (ع) فرماتے ہیں :
فاستشفعوہ من ادوائکم و استعینوا بہ علی لاوائکم فان فیہ شفاء من اکبر الداء وھو الکفر و النفاق و الغی و ضلال ۔ قرآن سے اپنی بیماریوں کی شفاء طلب کرو اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے اس سے مدد طلب کرو کیونکہ قرآن میں سب بڑی بیماری یعنی کفر، نفاق گمراہی کی شفاء ہے ۔ ( نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶) ۔ یہ چیز بتاتی ہے کہ قرآن ایک ایسا نسخہ ہے جو فرد اور معاشرے کی مختلف اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں کے علاج کے لئے کار گر ہے اور یہ وہ حقیقت ہے ، جسے مسلمان بھلا چکے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اس شفاء بخش دوا سے فائدہ اٹھائیں ، اپنا علاج دوسرے مکاتب میں تلاش کرتے پھرتے ہیں اور انھوں نے اس عظیم آسمانی کتاب کو فقط پڑھنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے اور یہ نہیں کہ وہ اس میں غور و فکر کریں اور اس پر عمل کریں ۔ اگلی آیت میں بحث کی تکمیل کے لئے اور اس عظیم خدائی نعمت یعنی قرآن مجید کہ جو ہر نعمت سے برتر ہے کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے پیغبر! کہہ دو کہ لوگ پروردگار کے فضل اور اس کی بے پایاں رحمت پر اور اس عظیم آسمانی کتاب کے نزول پر خوش ہو جائیں کہ جو تمام نعمتوں کی جامع ہے ۔ نہ کہ دولت کے انباروں پر ، بڑے مقام و منصب پر اور قوم و قبیلہ کی کثرت پر (قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِہِ فَبِذَلِکَ فَلْیَفْرَحُوا ) ۔ کیونکہ یہ سرمایہ ان تمام چیزوں سے بہتر اور بالا تر ہے کہ جو انھوں نے جمع کر رکھی ہے ۔ ان میں سے کوئی بھی اس سے موازنہ کے قابل نہیں ہے (ھُوَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ) ۔
📚تفسیر نمونہ 📚

اپنا تبصرہ بھیجیں