حنا پرویز بٹ

تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت کو شکست ہے کیونکہ جبر کی وجہ سے لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ رہے ہیں، یہ بات بالکل درست ہوتی اگر تحریک انصاف واقعی ایک حقیقی سیاسی جماعت ہوتی، حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کبھی سیاسی جماعت تھی ہی نہیں، سیاسی جماعت تو وہ ہوتی ہے جس کی قیادت جیل بھرو تحریک میں غائب نہیں ہوتی اور پکڑی جائے تو عدالتوں کے پیچھے نہیں چھپتی ، تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں بلکہ مختلف فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جن کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں ، انصافی فرقہ والے تو ایک رات حوالات میں رہنے کے بعد ہی رو پڑے، جعلی انقلابی اتنے بزدل نکلے کہ ایک رات سےزیادہ کی قید پر سیاست ہی چھوڑنے کا حلفیہ بیان دیدیا، سیاسی کارکن ہرگز ایسے نہیں ہوتے ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ جس تیزی سے انصافی فرقے سےاینٹ اور روڑے الگ ہورہے ہیں وہ دن دور نہیں جب پیرنی صاحبہ بھی تحریری بیان دے کر علیحدگی کا اعلان کر ڈالیں گی، انصافی فرقے کے ارکان نے مقدموں سے بچنے کیلئے شدید بین ڈالے، ایک نے تو گرفتاری سے بچنے کیلئے ایسی دوڑ لگائی کہ بے شرمی کا عالمی ریکارڈ بنا ڈالا ، عوام کو اس فرقے کی جعلی بہادری اور حقیقی بزدلی کے بارے صاف پتہ چل چکا ہے،عوام کہہ رہے ہیں کہ حقیقی سیاسی جماعت وہ ہوتی ہے جس کا لیڈر شان ِبے نیازی سے پھانسی چڑھ جاتا ہے لیکن کسی کے پائوں نہیں پڑتا ، عوام جانتی ہے کہ جب میاں نواز شریف کو 374دن قید کیا گیا تو بھی انھوں نے صرف یہ کہا تھا میرا صبر ہے بس، جب میاں شہباز شریف کو 207 دن، مریم نوازکو 157 دن، حمزہ شہباز کو 627 دن،احد چیمہ کو 1148 دن، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو 462 دن، حنیف عباسی کو352 دن، حافظ نعمان کو305 دن،کامران مائیکل کو 270 دن، شاہد خاقان عباسی کو 222 دن،راجہ قمر اسلام کو 248 دن، رانا ثنا اللہ کو 174 دن، مفتاح اسماعیل کو 140 دن، احسن اقبال کو 66 دن،جاوید لطیف کو 56 دن، کیپٹن صفدر کو 53 دن اور عرفان صدیقی کو 6 دن کیلئے قید کیا گیا تو مجال ہے انکی ہمت کبھی ٹوٹی ہو،کوئی ایک بھی رویا ہو، ان پر بھی تو دبائو آیا تھا لیکن ایک بندہ بھی مسلم لیگ ن چھوڑنے پر راضی نہ ہوا اور نہ ہی کسی نے وعدہ معاف بننے کی پیشکش قبول کی، آج تک کسی ایک شخص نے بھی بیان نہیں دیا کہ میاں نواز شریف یا میاں شہباز شریف کرپٹ ہیں، جبکہ یہ فرقہ تو کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا لیکر بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا جو کبھی یکجان نہیں ہو پایا،9مئی کوحملہ کرنیوالا انصافی فرقہ خود کی پیدا کردہ آزمائش سے گزرا تو اس میں توڑ پھوڑ شروع ہوگئی، مانگے تانگے کے متعدد ساتھی پتلی گلی سے نکل گئے اور بچے کھچے فرار ہونیکی تیاری میں ہیں،اس فرقے کی واپسی کا سفر شروع ہونےکے باوجود اسکادروغ گو سربراہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، منع کئے جانے کے باوجود اس نے اپنے پیر پر کلہاڑی ماری،خوشامدیوں نے اسے یہ تصویر دکھائی کہ وہ اسلامی بلاک کا بلا شرکت غیرے واحد عظیم لیڈر ہے، اگر مشکل وقت آیا تو مسلم دنیا سے اسکے حق میں آوازیں بلند ہوں گی اور وہ اسے بچانے کیلئے کردار ادا کریں گے،حقیقت تو یہ ہے کہ سعودی عرب، ایران، ترکی اور چین سمیت ایک بھی ایشیائی ملک نے انصافی فرقے کی حکومت ختم ہونے پر چوں بھی نہیں کیا، اس فرقے کیلئے نوجوان حلقوں اور طبقہ اشرافیہ میں پائے جانیوالا نرم گوشہ 9مئی کے بعد ختم ہوچکا ہے، اگر کسی کو غلط فہمی ہے تو آزما لے،ویسے بھی سچے پاکستانی ڈیڑھ سال سے اس تحریک انصاف کو ڈھونڈ رہے ہیں جو عجیب و غریب ٹرینڈ چلاتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں