محمد خالد وسیم ایڈووکیٹ

آئین و قانون کی پاسداری

حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ جبکہ دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ ہے مگر پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں کے کارکنوں کو دھرنےکیلئے اسلام آباد بلکہ ریڈ زون جیسے حساس علاقے میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ قانون کی دھجیاں اڑانے کی مثال وہ بھی حکومتی پارٹیوں کے اراکین کی جانب سے باعث ندامت ہے۔ حکومت اگر اپنے فرض کے برعکس اپنے ورکرز سے قانون کی پابندی کروانے میں ناکام رہتی ہےتو وہ پھر حکومت کیسی؟۔
اسی شہر اسلام آباد میں چند دن قبل عمران خان کی آمد کے موقع پر دفعہ 144کے نفاذ کا بہانہ بنا کر سرینگر ہائی وے اور دیگرسڑکوں پر تحریک انصاف کے ارکان کی قانون نافذ کرنے والے حکومتی اداروں نے دھنائی کی الامان الحفیظ۔ سیاسی ورکرز سے حکومت کی یہ دو عملی چہ معنی دارد۔
ملک میں موجود سیاسی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کے غصے کا اظہار ملک میں چند دن قبل لگنے والی آگ سے عیاں ہو ا۔ عمران خان کی گرفتاری کو بہانہ بنا کر شر پسند عناصر نے جس طرح آگ بھڑکائی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک دشمن عناصر ایسے موقع کی تاک میں تھے ۔ قومی یادگاروںپر کوئی محب وطن حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر شروع ہوا تھا ۔مگرمذاکرات تعطل کا شکار ہو کر ختم ہو گئے اور فریقین کے درمیان تنائو مزید بڑھ گیا۔ بد قسمتی سےجمہوریت کا بنیادی اصول ـــ ــــیعنی ـبات چیت پس پشت ڈال دیا گیا ۔ اس کی جگہ تصادم اور لڑائی نے لے لی ۔ سیاسی جماعتوں کے اراکین غنڈہ گردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے رواداری کا مظاہرہ نہ ہونے سے تشدد کا عنصر نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ کہاں جا کر ختم ہو گا۔ اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔
اسلام آباد دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ارباب اختیار کی خصوصی توجہ کا مرکزہے۔ لہٰذا یہاں وقوع پذیر ہونے والا کوئی واقعہ نہ میڈیا کی آنکھ سے اوجھل ہوتا ہے نہ حکمرانوں کے دل و دماغ سے دور ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ فوری طور پر سب کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ جیسےسپریم کورٹ کے سامنے حکومتی جماعتوں کا دھرنا ہر ایک کی توجہ حاصل کرگیا۔ بہتر ہوتا کہ سیاسی سرگرمیوں کیلئے پارلیمنٹ کو فورم بنایا جاتا اور لوگوں کو عدلیہ کے خلاف سڑکوں پر لانے سے گریز کیا جاتا مگر حکومتی سیاسی پنڈتوں نے عدلیہ کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لاکر دانشمندی کا ثبوت نہیں دیا۔ اس سے لا قانونیت میں اضافہ ہو گا اور سیاسی عدم برداشت پیدا ہو گی۔
حکومت نے تحریک انصاف کی صف اول کی ساری قیادت کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جس کے بعد سینکڑوں ورکرز کو بھی حراست میں لے لیا گیا جس کی وجہ سے سیاسی پارہ ہائی ہو گیا ہے اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے سوشل میڈیا کے مختلف ٹولز استعمال کرتے ہوئے ’’بمباری ‘‘جاری ہے اور نت نئے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ان حالات میں ملک میں کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آ رہی جو دونوں پارٹیوں کو ایک میزپر بٹھا سکے ۔ ان تمام حالات کے تناظر میں ایک بات ہے کہ اگر ملک میں آئین کو مقدم بناتے ہوئے صدق دل سے اس پر عمل کیا جائے اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان میں جاری سیاسی و اقتصادی غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ ممکن ہے۔ لہٰذا حکومت کا یہ اولین فریضہ ہے کہ وہ آئین پر عمل کرے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائے یہی ترقی یافتہ قوموں کا شعار ہے اور یہی موجودہ صورت حال سے باعزت نکلنے کا واحد راستہ ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں