عرفان صدیقی

پراجیکٹ عمران خان اور یوم سیاہ کا یوم حساب کب؟

لوگ سوچتے ہیں کہ 9مئی کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذرگیا لیکن ’یوم ِسیاہ‘ کے افق سے ’’یومِ حساب‘‘ کیوں طلوع نہیں ہورہا ؟ غم گسارانِ 9 مئی بھی ہولے ہولے ہُنرِ دشنام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ جھوٹ کی دکانوں کے پھاٹک آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگے ہیں۔ ’’پریس کانفرنسیں‘‘ تھم سی گئی ہیں اور نئے سیاسی حجروں کی چہل پہل میں کمی آرہی ہے۔ پُرسکوں سطحِ آب سے فریب کھا کر لنگر اٹھانے اور بادبان کھولنے کی تیاریاں کرنے والوں کو اندازہ نہیں کہ سمندر کس نوع کا ’’ تہیّہِ طوفان‘‘ کئے ہوئے ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کا اعلامیہ محض ایک جھلک تھی۔ بڑی پریس کانفرنس کی نوک پلک سنواری جارہی ہے جو اب زیادہ دور کی بات نہیں۔

9 مئی کے ارتعاشِ مابعد کے باوجود، قومی تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ ہم فنی طورپر دیوالیہ ہوئے یا نہیں لیکن عملاً صورتِ حال کچھ ایسی ہی ہے۔اقتصادی امور کا گہرا، وسیع اور طویل تجربہ رکھنے والے سینیٹر اسحاق ڈار پہ کتنے ہی تازیانے برسالئے جائیں، اُن کے اخلاصِ نیت اور اَن تھک محنت ہی کے باعث اب تک، کسی نہ کسی طور، بات بنی ہوئی ہے، لیکن ہمارا ناتواں بحری جہاز تیزی سے ’’برموداتکون‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ قوم اس سازش کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو بھی اچھی طرح جان چکی ہے۔ آسان فہمی کے لئے اس سازش کو ’’پراجیکٹ عمران خان‘‘ کانام دیا جاتا ہے۔ جنرل پاشا، جنرل ظہیرالاسلام، جنرل رضوان اختر، جنرل فیض حمید، جنرل عاصم سلیم باجوہ اور جنرل آصف غفور فوج کی عزت اور وقار کو ’پراجیکٹ عمران خان‘ کی بھٹّی میں جھونکتے قدم قدم آگے بڑھتے رہے۔ جنرل کیانی ہم آہنگ نہ تھے تو بھی منصوبہ سازوں کو نکیل نہ ڈالی البتہ 2013؁ کے انتخابات میں نقب نہ لگانے دی۔ راحیل شریف کی ساری ترجیحات اور مفادات صرف مدّتِ ملازت میں توسیع سے جڑے تھے۔ وہ اسی ہدف کے لئے پراجیکٹ کی سرپرستی کرتے رہے۔ خلاف توقع جنرل قمر جاوید باجوہ تن من دھن سے اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر بن گئے اور نہایت تیزی کے ساتھ اسے آگے بڑھایا۔ میری جنرل باجوہ سے اچھی جان پہچان تھی اور میں نے اُن کی تقرری میں مقدور بھر کردار بھی ادا کیا تھا۔ مجھے ہرگز توقع نہ تھی کہ جمہوریت اور آئین سے گہری وابستگی کا دعوی کرنے والے باجوہ صاحب بھاری اکثریت کے حامل ایک منتخب وزیراعظم کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے۔ نوازشریف کو بھی کسی طرح جنرل باجوہ سے اس ’’حُسن سلوک‘‘ کی توقع نہ تھی۔ آج بھی بات چلتی ہے تو انہیں سب سے زیادہ رنج، جنرل باجوہ کے طرز عمل ہی کا ہوتا ہے۔

پاکستان کے لئے نہایت بھیانک نتائج لانے والے ’پراجیکٹ عمران خان‘ کے منصوبہ سازوں نے کسی موڑ پر نہ سوچا کہ ہم کتنا بڑا جوا کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ نوازشریف تمام تر سازشوں، جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے باوجود کس استقامت کے ساتھ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال رہا ہے۔ معیشت کی شرح نمو چھ فی صد سے اوپر جارہی ہے۔ افراط زر کی مجموعی شرح چار فی صد اور کھانے پینے کی اشیاء کی افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح صرف دو فی صد ہے۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیاء میں پہلے اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر آگئی ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق پاکستان 2030؁ میں دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شمار ہونے جارہا ہے۔ پاکستانی روپیہ، ڈالر کے مقابلے میں مضبوط قدموں پر کھڑا ہے۔ سی پیک کی شکل میں باون ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری بھی آرہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ میں ڈوبے پاکستان میں روشنیاں واپس آگئی ہیں اور نیشنل گرڈ میں تقریباً بارہ ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگیا ہے۔ انہیں بالکل علم نہ ہوسکا کہ ایک مرحلے پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر چوبیس ارب ڈالر سے آگے نکل گئے تھے، اُنہیں اندھے عشق میں یہ بھی دکھائی نہ دیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔ وہ اس بڑی خبر سے بھی بے بہرہ رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئی۔ایم۔ایف پروگرام کامیابی کے ساتھ پایۂِ تکمیل کو پہنچا اور نوازشریف نے کہا __ ’’بائی بائی ’آئی۔ایم۔ایف‘، آئیندہ ہمیں آپ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘ انہیں بین الاقوامی معیار کی موٹرویز، شاہراہیں، روزگار کے مواقع، توانا خارجہ پالیسی، پُرامید تاجر، حوصلہ مند صنعتکار، مطمئن کاشتکار، کچھ دکھائی نہ دیا۔ انہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نوازشریف کی کامیاب کوششیں بھی نظر نہ آئیں۔ نیلم پری، کے عشق میں ہلکان ٹولے نے نوازشریف کی مُشکیں کسیں، جھوٹے مقدمات بنائے، ججوں کے لبادے میں چھپے سہولت کاروں کے ذریعے ہانکا لگایا، نوازشریف کو گھر بھیجا، 2018؁ میں تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی دھاندلی کی اور چار سال تک گز گز بھر لمبے نوکیلے کانٹوں والی فصل کو اپنے مقدس ادارے کا لہو پلاتے رہے۔ معاشی برمودا تکون تک آپہنچنے والا پاکستان، سنہری گوٹے کناری والی سیاہ ریشمی عبائوں میں لپٹے اُن منصفانِ کرام کو بھی کیسے بھول سکتا ہے جنہوں نے اپنے حلف سے روگردانی کی، اپنا ضابطۂِ اخلاق پامال کیا اور بغض وعناد میں لتھڑے ایسے متعّفن نوشتے رقم کئے جن سے آج بھی گھِن آرہی ہے۔ ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ، گلزار احمد، اعجاز افضل، اعجازالاحسن اور عظمت سعید شیخ نے پراجیکٹ عمران خان میں جو کردار ادا کیا، اُسے کیسے بھلایا جاسکے گا؟ مانا کہ وردی پوش اور عبا پوش، سابق ہوکر بھی حاضروموجود ہی رہتے ہیں اور کوئی قانون انہیں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا لیکن کیا وہ سب سے بڑے قادروعادل کی گرفت سے بھی بچ جائیں گے؟

اگر آج کا پاکستان اُسی ’آئی ۔ایم۔ایف‘ کی دہلیز پر ماتھا ٹیکے منتیں کررہا ہے جسے نوازشریف نے بائی بائی کہہ دیا تھا، اگر 2017؁ میں دنیا کی چونتیسویں معیشت 2022 میں، سو فی صد نیچے گر کرسینتالیسویں نمبر پر آگئی ، اگر نوازشریف دور میںچار فی صد سے اوپر نہ جانے والی مہنگائی پینتیس فی صد پر آگئی ہے اور اگر آج پاکستان گہری دلدلی پاتال سے نکلنے کے جتن کررہا ہے تو لامحالہ نگاہیں پراجیکٹ عمران خان کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کی طرف اٹھ ہی جاتی ہیں۔ 9 مئی کا یوم سیاہ بھی جرنیلوں اور ججوں کی اسی سیاہ کاری کا ثمر ہے۔
٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں