Professor Abdullah Bhatti

کوچہ مرشد

میں حسب معمول آنے والے لوگوں سے مل رہا تھا اتوار کی چھٹی کے بعد ہمیشہ کی طرح معمول سے زیادہ رش تھا بہت سارے خواتین و حضرات میرے اطراف کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے زیادہ رش کی وجہ سے تیزی سے مل رہا تھا تاکہ رش کم ہو سکے میرے سامنے بیٹھا شخص شاید ڈپریشن کا مریض تھا میرے سامنے بیٹھتے ہی بولا سر آج آپ نے میری ساری بات تفصیل سے سننی ہے اُس کی آواز سے کربلا کا درد چھلک رہا تھا حد سے زیادہ حساسیت اور منفی سوچوں نے اُسے غم کا چلتا پھرتا اشتہار بنا دیا تھا اُس کی چند باتوں کے بعد ہی میں بھانپ گیا تھا کہ ڈپریشن اور ذہنی مسئلہ ہے حقیقت میں جس دکھ درد اور تکلیف کا وہ اظہار کر رہا تھا حقیقت وہ نہیں تھی اب میں سننے کی ڈرل کر رہا تھا اُس کی تسلی کے لیے اُس کی ساری بات سننی تھی لہٰذا میں نے اطراف پر نظر ڈالی وہ بول رہا تھا میں آنے والے لوگوں کو دیکھ رہا تھا اِن آنے والوں میںچند فٹ پر ایک ادھیڑ عمر کی دیہاتی عورت سر سے پائوں تک چادر میں لپٹی ادب و احترام کا مجسمہ بنی کھڑی نظر آئی اُس کے کھڑے ہونے کے انداز اور جسم کے انگ انگ سے عقیدت و احترام پھوٹ رہی تھی اُس کے کھڑے ہونے کا انداز بتا رہا تھا کہ جیسے وہ کسی عبادت خانے میںیا کسی بہت بڑی روحانی درگاہ مزار یا پھر کسی برگزیدہ بزرگ کے سامنے ادب و احترام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہی ہے وہ نظریں جھکائے کندھے جھکائے اِس طرح کھڑی تھی کہ کہیں اُس کے کھڑے ہونے کے کسی انداز یا پہلو سے گستاخی نہ ہو جائے کیونکہ میں خود بھی شہنشاہ کوہسار ؒ کے دربار میں عقیدت کا پتلا بن کر حاضر ہو تا اور پسند کر تا ہوں میں تو گناہ گار سیاہ کار ہوں جو لوگ اولیاء اللہ کی خدمت میں عقیدت و احترام سے پیش ہو تے ہیں مجھے بہت پسند ہیں اُس عورت کے کھڑے ہونے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ بزرگوں کے سامنے حاضری اور ادب سے خوب واقف ہے یا نسل در نسل ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو بزرگوں درویشوں کا احترام کر تا ہے اُس کے لباس وضع قطع اور اندا ز سے اُس کے دیہاتی پس منظر کا پتہ چل رہا تھا ایسے عقیدت مند بہت کم ہوتے ہیں جو کوچہ درویش پر جا کر ہی ادب کے روپ میں ڈھل جائیں ورنہ لوگ ادھر اُدھر ٹولیوں میں گپیں ہانکتے نظر آتے ہیں اپنی باری پر چند منٹ کے لیے ادب و احترام کا اظہار پھر دنیا داری میںڈھل جاتے ہیں جبکہ حقیقی طالب یا مرید تو وہ ہوتا ہے جو تصور مرشد سے ہی رقت ادب میں ڈھل جائے یا کوچہ مرشد کی طرف جاتے ہوئے جسم کے انگ انگ سے ادب کے چشمے پھوٹ رہے ہوں رگوں میں خون کی جگہ احترام کا نشیلا سیال مادہ گردش کر رہا ہوں باطن میں تصور مرشد سے ہی قوس و قزح کے رنگ بکھر بکھر جائیں کوچہ تصوف وادی میں فقر میں پہلا قدم ادب ہے با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب جس نے جتنا زیادہ ادب کیا اُس نے اتنا ہی زیادہ فیض پایا آج مجھ گناہ گار کے پاس بھی ادب کی دیوی تشریف لائی تھی اب میں سامنے بیٹھے شخص کی باتوں کے خاتمے کا شدت سے انتظار کر رہا تھا کہ کب یہ اپنی ساری بھڑاس نکال کر پرسکون ہو اور میں اِس مہذب عورت کو پاس بلائوں اُس کی با برکت صحبت سے لطف اٹھائوں آخر کار طویل گفتگو کے بعد جب میرے سامنے شخص نے سکون کا سانس لیا تو میں نے اُس کو حسب معمول حوصلہ دیا کہ بہت جلدی آپ کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے اور اب وہ وقت آگیا ہے جب آپ اپنی مرضی کی شاندار زندگی گزاریں گے ایسے لوگ ایسی ہی باتیں سننا چاہتے ہیں میں نے جب حوصلہ دیا تو وہ ریلیکس ہو کر کر سی سے اُٹھ گیا لہذا میں نے فوری طور پر اُس ادب کی دیوی کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا وہ پاس آئی تو میں احتراماً کھڑا ہو کر اُسے کہا آپ یہاں تشریف رکھیں میرے شفیق رویے سے وہ بہت خوش ہو ئی اپنا سر احتراماً میرے سامنے جھکایا اور ادب سے لبریز شیریں لہجے میں بولی سرکار مجھے پیار دیں تو میں نے اُس کے سرپر ہاتھ پھیرا اور بولا پتہ نہیں آپ مُجھ سے چھوٹی ہیں یا بڑی میں آپ کو بہن کہوں یا بیٹی تو وہ چلا اٹھی سرکار میں آپ کی بیٹی ہوں آپ ادب کی جگہ ہیں آپ ہمارے باپ ہیں اُس کے لہجے اور ایک ایک لفظ سے عقیدت و احترام چھلک رہا تھا وہ کرسی پر بیٹھی تو اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر بولی سرکار مجھے دم کر دیں ایسے عقیدت سے بھرے لوگوں کو عادت ہو تی ہے جب بھی کسی بزرگ کی بارگاہ میں حاضر ہوں دم ضرور کرانا ہے جب اُس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا تو میں معمول کے مطابق بولا بیٹا دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھو تو وہ بولی سرکار میرا ایک بازو نہیں ہے بچپن میں حادثے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کاٹ دیا تھا اُس کی بات سن کر مجھے جھٹکا سا لگا کہ بیچاری کا ایک بازو نہیں ہے میں محبت بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا د م کروانے کے بعد میں نے پوچھا جی بیٹی اور کوئی کام کو ئی مسئلہ تو وہ بولی نہیں جناب مجھے اللہ نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے اللہ کا دیا سب کچھ ہے بس جسم میں دردیں تھیں تو جس لیے دم کیا تو میں بولا بیٹی آپ کو میرے بار ے میں کس نے بتایا تو بولی سرکار میرے مرشد سند ھ میں ہیں جن کا اب وصال ہو گیا ہے اب اُ ن کے بیٹے ہیں وہاں میں مسلسل جاتی رہی ہوں آخری بار گئی تو مرشد سرکار کے بیٹے نے کہا اب تمہاری عمر زیادہ ہو گئی ہے اب تم ہر ماہ نہ آیا کرو بلکہ سالانہ عرس مبارک پر حاضری لگا جایا کرو تو میں بولی سرکار مجھے تو ہر ماہ دم کروانے کی عادت ہے تو اُنہوں نے مجھے آپ کا نام پتہ دیا انہوں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں وہ آپ کو بہت پسند کرتے ہیں لہذا مرشد خانے کے حکم پر میں آپ کو سلام کرنے آئی ہوں وہ میرے پاس آنے کا پس منظر بتا رہی تھی اُس کانام رشیدہ تھا یہ میری رشیدہ باجی سے پہلی ملاقات تھی مطمئن پر سکون اللہ کی ہر بات پر راضی تشکر میں ڈھلی دیوی جوہر بات پر راضی تھی وہ معذور تھی لیکن خدا پر شاکر کہ اللہ نے مُجھ پر اپنے کرموں کی بارش کر رکھی ہے ورنہ میرے پاس آنے والے زیادہ تر ملاقاتی چیخ و پکار اعتراض شکوے کرتے نظر آتے ہیں رشیدہ باجی کا پرسکون اور راضی باللہ ہو نا مجھے بہت متاثر کر گیا مجھے وہ اپنی بیٹی بہن کی طرح لگی اب وہ ہفتے دس دن بعد آتی چند منٹ گزار کر دم کروا کر چلی جاتی مجھے اِس کے تشکر میں نیک لوگوں والی روشنی نظر آتی ایک دن آئی تو بولی سرکارآپ کیا چیز شوق سے کھاتے ہیں تو میں بولا باجی آپ چھوڑیں آپ کیوں تکلیف کریں گی تو بولی مجھے بہت خوشی ہو گی کیونکہ میں نے بچپن سے سنا ہے کہ کسی کے پاس خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے میں ہر بار خالی ہاتھ آجاتی ہوں تو اُس کے اصرار کر نے پر میں بولا میں گوشت پسند نہیں کرتا کوئی سبزی بنا لائیں یہ میں نے اِس لیے کہا کہ اُس کا گوشت خریدنے میں زیادہ خرچہ نہ ہو لہذا وہ اگلی بار بھنڈی اور پیاز دیسی گھی میںپراٹھوں کے ساتھ بنا لائی میں نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا تو اپنی بہشتی ماں یاد آگئی بلکل ویسا مزا میں نے شکریہ ادا کیا اور بتایا میری ماں بھی ایسا بناتی تھی تو بہت خوش ہوئی رمضان آیا تو بہت پریشان ہو گئی سرکار میں آپ سے دم کیسے کرواں گی تو میں بولا بیٹی میں آپ کے گھر آکر سبزی دال چاول کے ساتھ افطاری کروں گا تو بہت خوش ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں