Shamas ur Reman sawati

صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان

مزوروں کے لیے اس سال یوم مئی بھی ماضی سے مختلف نہیں ہے، لیکن زیادہ تلخ ضرور ہے۔ کیونکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ سپرسانک رفتار سے ہوا ہے۔ آٹے کے ٹرکوں کے گرد غریب مزدوروں کے لاشے، 75سال سے مسلط جاگیر داری،سرمایہ داری نظام کی بے حسی اور سفاکی علی الاعلان کہہ رہی ہے کہ مزدور،کسان، غریب عوام کی حیثیت ہماری جاگیر وں اور کارخانوں کی پیداوار کے لیے ایندھن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ کہاں کے انسان اور کہاں کے انسانی حقوق……پارلیمنٹ، عدالتیں اور افسرشاہی ہماری ہے۔ غریب مزدور کسان کا مقدر صرف خواری ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کی تعداد ساڑھے سات کروڑ ہے۔ اِن میں پونے چھ کروڑ دیہاڑی دار مزدور(Informal Sector) آج بھی لیبر قوانین اور سوشل سیکورٹی سے محروم ہیں۔ باقی فارمل سیکٹر میں دکھاوے کے لیے کچھ قوانین موجود ضرور ہیں لیکن یہاں بھی فائق حق، مالکان اور انتظامیہ کا ہے۔ اِن اداروں کے اہل کار بھی مالکان اور انتظامیہ کے ظلم کا ہتھیار ہیں۔ جبکہ انفارمل سیکٹر یعنی دہاڑی دار مزدور کے لیے نہ ہی لیبر قوانین اور نہ سوشل سیکورٹی…… اگر یہ نظام انہیں انسان سمجھتا، ملک کی پارلیمان،عدلیہ اور افسر شاہی کے نزدیک اِن کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ ہوتی تو کوئی تحریک استحقاق،کوئی تحریک التواء کوئی سوموٹو ایکشن کوئی افسر شاہی کی پھرتیاں اِن کے لیے بھی نظر آتیں۔ہرآنے والے دن غیر قانونی ٹھیکیداری نظام جسے ”بے گار کیمپ“ ہی کہاجاسکتاہے مضبوط اور روز افزوں ہے۔ 8گھنٹے ڈیوٹی کا تصور صرف سرکاری اداروں کی حد تک محدود ہو کررہ گیا ہے۔ باقی 12,12گھنٹے ڈیوٹی، کم از کم اجرت 25ہزار قانون اور اعلان کی حد سے کبھی آگے نہ جاسکی۔ کہیں بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا یہ الگ بات ہے کہ اس میں ایک خاندان کا گزر بسر ممکن ہی نہیں۔ اور اس پر بھی تمام ٹیکس غریبوں،مزدوروں،کسانوں، ہاریوں پر اور مراعات اور ریلیکسیشنز امیروں کے لیے۔ اس لیے کہ یہاں حقوق تو صرف حکمرانوں، افسر شاہی، جاگیرداروں کے لیے ہیں۔ کروڑوں انسانوں کو اگر کیڑے مکوڑوں سے زیادہ حیثیت حاصل ہوتی تو 11کروڑ لوگ دووقت کے کھانے کو نہ ترس رہے ہوتے۔اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم اور ڈیڑھ کروڑ پرائمری سے آگے تعلیم ترک کرنے پر مجبور نہ ہوتے۔ علاج تو غریب عوام کے لیے عیاشی ٹھہرا اس کا حق تو صرف اشرافیہ کاہے۔
لکھنے کی حد تک ملک کا آئین انسانوں کے بنیادی حقوق کا محافظ ہے۔عزت نفس، روزگار،تعلیم،علاج سب کا حق ہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس آئین کی یہ دفعات معطل ہیں اگر معطل نہ ہوتیں تو کبھی اِن کا ذکر تو ہوتا۔ آئین اسلامی نظام حکومت کا راستہ متعین کرتا ہے۔ اسلامی نظام میں تو وقت کے حکمران او رعام مزدور کی تنخواہ برابر ہوتی ہے۔ اسلامی نظام میں مالک اور مزدور کو بھائی قراردیاگیا ہے او رمالک کو پابند کیاگیاہے کہ وہ جو خود کھائے وہی اپنے ماتحتوں کو کھلائے جو خود پہنے وہی اپنے ماتحتوں کو پہنائے اور اپنے ماتحتوں کو اپنے منافع میں شریک کرے۔ اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے،، ہمارے ملک میں جو چند لاکھ پنشرز ہیں ان میں زیادہ کی پنشن 8ہزار روپے ہے۔ اور وہ بھی کیسے ملتی ہے، بنکوں میں ذلت و خواری، ہر چھ ماہ بعد بائیو میٹرک کی شرط۔ اسی طرح ساڑھے سات کروڑ مزدوروں میں سے چند لاکھ کو(فارمل سیکٹر) کے مزدوروں سوشل سیکورٹی، E.O.B.Iیعنی بڑھاپا الاؤنس اور ورکرز ویلفیئر فنڈ سے۔ڈیتھ گرانٹ،جہیز گرانٹ اور تعلیمی وظائف کی سہولت حاصل ہے۔لیکن یہ محض نمائشی ہے اِن اداروں کے کھربوں روپے کے فنڈ زجو کہ مالکان اور مزدوروں کے چندوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی افسر شاہی اور اہلکاروں کی کرپشن کی نظر ہوجاتے ہیں۔ اِن میں سے بھی اِن چند لاکھ لوگوں کو حاصل سہولت چھین لی جاتی ہے۔ کوئی قانون کوئی احتساب اِن ظالموں او رڈاکوؤں کو روک نہیں سکتا……کیوں؟جوبھی بولتا ہے او رجانتا ہے اس کا منہ بند کردیاجاتاہے۔
اب تو ایک ہی راستہ ہے کہ مزدور اس نظام کو بدلنے کے لیے اپنے جمہوری حق کے لیے شعور و ادراک پیدا کریں اور اسے اپنے حق میں استعمال کریں، شاید کوئی یوم مئی ایسا بھی آئے جب مزدور بھوکے نہ ہو،اُن کے بچے تعلیم،علاج اور چھت سے محروم نہ ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں