نسخہ کیمیا

اب کے گھمسان کا رن پڑا ہم اور ہماری بیگم صاحبہ میں ٹھن گئی! ہم کہ جو ہمیشہ سے بیگم صاحبہ پہ دھونس جمائے بیٹھے تھے کہ کون ہے جو ہمارا معترف نہیں یا ہماری علمی ادبی خدمات کی کسے خںر نہیں؟ بعض اوقات تو بیگم صاحبہ بھی اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہ رہتیں کہ یہ درست ہے بڑے لوگ آپکی صلاحیتوں کا دم بھرتے ہیں کئی لوگ آپ سے رہنمائی لینے آتے ہیں اپنی نثری شعری تخلیقات کی اصلاح کے لئے زانوائے تلمذ تہہ کرتے ہیں
بیگم صاحبہ بخوبی جانتی ہیں کہ اندرون بیرون ممالک سے مسودے آتے ہیں کتب آتی ہیں کہ جن پر تبصروں کی فرمائش
یا اصلاح کی گذارشات کی گئی ہوتی ہیں بیگم صاحبہ ہماری سنجیدہ طبیعت کو بھی جانتی ہیں انہیں خبر ہے کہ ہم بہر صورت اپنا وقار سلامت رکھے ہوئے ہیں لیکن اپنے تئیں تمام تر فنون و علوم میں مہارت تامہ رکھنے کے باوجود بیگم صاحبہ کے سامنے اس بات پر ہمیں ہتھیار ڈالنا ہی پڑ گئے کہ ہم شیر کے منہ میں ہاتھ تو ڈال سکتے ہیں لیکن عید الا ضحی پر کسی قصاب کو بروقت لانے کا وعدہ وفا نہیں کرسکتے
قارئین کرام!اب اس تمہید کی وضاحت یہ کہ عید سے کئی روز قبل ہی بیگم صاحبہ سے اس بات نے طوالت پکڑی کہ بیگم صاحبہ بڑے تیقن سے کہتی رہیں کہ ہم عید کے روز کسی قصاب کو بروقت نہیں لا سکتے
اور ہمیں زعم تھا کہ ہم جسے کہہ دیں گے وہ سرنگوں ہوجائے گا خیر غرور کا سر بھی نیچا ہوتا ہے ہم ایک قصاب صاحب سے ملے اور بڑے ناز سے کہا کہ حضرت عید کے پہلے روز پہلے ہمارا بکرا ذبح ہوگا بعد ازاں آپ کہیں بھی جاکراپنی مرضی کر سکتے ہیں
جواب میں قصاب بھائی نے جو جاہ و جلال دکھایا جس رعب سے بات کہ ہم ایسے حواس باختہ ہوئے کہ ہم اوپر سے نیچے آگئے ہم بھول گئے کہ ہم کوئی علمی محاسن رکھتے ہیں ہم نے قصاب کا پلڑا بھاری دیکھا تو فوری انکساری میں آگئے عرض کیا کہ دیکھو بھائی آپ سے شناسائی کا عرصہ دراز ہے بارہا آپکو راہ چلتے سلام کئے بغیر آگے نہیں بڑھے ہم آپکے بچوں کی تعلیمی رہنمائی بھی کر چکے ہیں قصاب بھی فرمانے لگے سب ٹھیک ہے لیکن عید کے روز ہم سے کوئی عہد مت لیجئیو کہ ہم آپکی اتنی تو قدر کرتے ہیں کہ آپ سے کسی مبالغے سے کام نہیں لیں گے وگرنہ بیسیوں کو ہم انکے دئیے وقت کا وعدہ کر چکے ہیں ہم نے کہا کہ دیکھو صاحب ایک بھائی دوسرے بھائی کے کام آتا ہے آپ ہمارا یہ کام کر دیجئے گا تو ہمارا وقار سلامت رہے گا۔ فرمانے لگے آپکے وقار کے لئے ہم اپنی آن بان بھول جائیں؟ عرض کیا ہرگز نہیں ہم تو آپکو خوش آمدید کہیں گے سر آنکھوں پر بٹھائیں گے کہنے لگے او صاحب ہمیں کہیں مت بٹھائیو ہمارے پاس بیٹھنے کا وقت ہی کہاں ہوگا ہم تو چشم زدن میں کئی گھروں میں پھر جائیں گے میں نے سر آنکھوں پر بٹھانے کی وضاحت کی تو قصاب کی آنکھوں میں خون اترتے دیکھا اورکوئی لمحہ ضائع کئے بغیر ہم نے کہا دیکھئے رانا صاحب ہمارا کہنے کا مطلب یہ تھا رہنے دیجئے اپنے مطلب کو ہماری بات کاٹتے قصاب صاحب نے کہا اور کچھ نرم پڑ گئے کہ ہم نے سن رکھا تھا کہ قصاب حضرات کو رانا صاحب کہنے سے انکی طبعیت کی کیفیت خوشگوار لمحوں میں ڈھلتی ہے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہم نے کہا دیکھئے حضرت اس سے پہلے کہ ہمارا جملہ مکمل ہوتاقصاب صاحب پھر جلال میں آگئے کہنے لگے ہم حضرت کیسے ہوئے ہم سے گنہگار بندے کو حضرت کہہ دیا آپ کہاں کے دانشور ہیں؟ بات تو اس نے ٹھیک کہی تھی کہ ہم کہاں کے دانشور ہیں بس ’اندھوں میں کانا راجا‘ والی بات ہے ہمیں ندامت تو ہوئی اس سے پہلے کہ ندامت ہم پر غالب آتی
اور ہم چپ سادھ لیتے لہذا ایک پلٹا مارا اور کہا رانا صاحب آپ جانتے ہیں ہم مغل سردار ہیں اور ہماری ایک مُغلیہ ساکھ ہے ہم ہر کسی کو اتنے مان سے نہیں کہتے قصاب صاحب نے فرمایا رہنے دیجئے جناب ہم جانتے ہیں آپکے باپ داد ’مستری‘ تھے قصاب کی اس چوٹ پر ہم نے کہا اچھا یہ تو بتائیے انجنئیر کی اردو کیا ہے؟ ہمارا یہ پوچھنا تھا کہ قصاب بھائی پھر طیش میں آگئے اور کہنے لگے آپ ہمیں جاہل سمجھتے ہیں ہم آپکی بات نہیں مان رہے تو آپ اب چھوٹے ہتھیاروں پر اُتر آئے ہیں؟ میں نے کہا نہیں نہیں حضور انجنئیر کی اردو ‘مستری’ ہے عربی میں مہندس کہتے ہیں اس لئے ہم نے پوچھا قصاب صاحب کہنے لگے پہلے حضرت اب حضور۔جاؤ بھائی جاؤ کچھ خیال کرو ہمارا وقت ضائع کرو نہ ہمیں گنہگار کئے جاؤ ہم اپنا سا منہ لے کر واپس گھر لوٹے تو بیگم صاحبہ نے چھوٹتے ہی کہا میں نہ کہتی تھی کہ آپ نے صرف ہم پر ہی دھاک بٹھا رکھی ہے یا کچھ آپ جیسے بے وقوف لو گ آپکے پاس آجاتے ہیں واہ واہ کرنے اور صرف واہ واہ پر آپ پھولے نہیں سماتے آپکے پاؤں زمیں پر نہیں پڑتے وگرنہ آپ کی حقیقت کو میں جانتی ہوں ہم نے دھیرے سے کہا جی بیگمات تو سب جانتی ہیں بیگم صاحبہ کی آنکھوں میں انگارے تھے اس لیے ہم نے کھسک لینے میں عافیت جانی بیگم صاحبہ نے اسی قصاب کی بیگم کو بُلا بھیجا کہ انکی صاحبزادی ہماری بیگم صاحبہ سے پڑھنے آتی رہی وہ محترمہ آئیں تو بیگم صاحبہ نے اسکے آنے پر اسکا پُر تپاک استبقال کیا اُسکی وہ آؤ بھگت کی کہ ہمیں اس خاتون پر رشک آنے لگا لیکن ہماری بیگم صاحبہ نے اس خاتون سے نہ جانے کیا کہا کہ عید کے روز وہی قصاب صاحب جن سے ہمارا طویل مکالمہ ہوا تھا سب سے پہلے ہمارے ہاں تشریف لئے ہماری بیگم کی فاتحانہ آنکھیں ہماری پلکیں شرم سے جکھائے جارہی تھیں اُس روز مجھے خواتین کے مقام و مرتبہ اور انکی حاکمیت کا اندازہ ہوا کہ ایک قصاب جسے کوئی زِچ نہیں کر سکتا اپنی بیگم کے حکم کے سامنے کیسے مجبور ہوگیا اور
یوں ہمارے ہاتھ ایک نسخہ کیمیا بھی گیا کہ قصاب صاحبان کو کیسے دام میں لایا جا سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں