ارشد اسدی الحسینی

سورج کی”دورانی”اورجریانی حرکت۔(چنداہم نکات)

سورۂ یٰسٓ ۔ 37،40
وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ ۞ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ۞ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ ۞ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ۞
▫️ترجمہ ▫️
اور ان کیلئے ایک نشانی رات بھی ہے جس سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو ایک دم وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ ۔ اور (ایک نشانی) سورج ہے جو اپنے مقررہ ٹھکانے (مدار) کی طرف چل رہا ہے (گردش کر رہا ہے) یہ اندازہ اس (خدا) کا مقرر کیا ہوا ہے جو غالب ہے (اور) بڑا علم والا۔ ۔ اور (ایک نشانی) چاند بھی ہے جس کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ (آخر میں) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔ ۔ نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات کیلئے ممکن ہے کہ وہ دن پر سبقت لے جائے اور سب (اپنے) ایک ایک فلک (دائرہ) میں تیر رہے ہیں۔

🔅تفسیر آیات 🔅
عربی زبان میں “دوران” دائرہ کی صورت میں حرکت کو کہتے ہیں جبکہ “جریان” طولی حرکت کی طرف اشارہ ہے ۔ قابل ِتوجہ بات یہ ہے کہ زیرِ بحث آیات میں قرآن سورج کے لیے جریانی حرکت کا بھی قائل ہے اور دورانی حرکت کا بھی ۔ ایک جگہ کہتا ہے: “والشمس تجری ….” اور دوسری جگہ سورج کے فلک میں تیرنے (دائرے کی صورت میں حرکت ) کی بات کرتا ہے: “كل فی فلك يسبحون”۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں ، ہیّت بطلیموس کا مفروضہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ محافلِ علمی میں تسلیم شدہ تھا۔ اس مفروضے کے مطابق اجرام فلکی کی اپنی کوئی حرکت نہیں بلکہ وہ افلاک کے اندر میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں جبکہ افلاک پیاز کے چھلکوں کے مانند ایک دوسرے کے اوپر تَہ بہ تَہ بلوریں اجسام کی صورت میں ہیں اور اجرامِ فلکی کی حرکت ان کے افلاک کی حرکت کے تابع ہے ، اس بنا پر اُس زمانے میں نہ سورج کا تَیرنا کوئی مفہوم رکھتا تھا اور نہ ہی اس کی طولی و جریانی حرکت۔ لیکن حالیہ صدیوں کے انکشافات نے بطلیموس کے مفروضے کو ختم کر دیا اور اجرام آسمانی کے بلوریاں افلاک سے آزاد قرار دے دیا۔ اس کے بعد اس نظریے نے قوت پکڑی کہ سورج نظامِ شمسی کے مرکز میں ثابت اور غیر متحرک ہے اور سارا نظامِ شمسی پروانہ دار اس کے گرد گھومتا ہے۔
اس مقام پر پہنچ کر بھی زیرِ بحث آیات کی تعبیروں کا مفہوم واضح نہیں تھا کیونکہ یہ تو سورج کی طرف طولی اور جریانی حرکت کی نسبت د ے رہی تھیں ۔ یہاں تک کہ سائنس نے اپنی پیش رفت مزید جاری رکھی اور آخر کار سورج کی چند ایک حرکات ثابت ہو گئیں:
(۱) اس کی خود اپنے گرد وضعی حرکت۔
(۲) نظامِ شمسی کے ساتھ آسمان کے ایک مشخص نقطے کی طرف اس کی طولی حرکت۔
(۳) اس کی دورانی حرکت اس کہکشاں کے مجموعے کے ساتھ کہ جس کا یہ سورج حصّہ ہے۔ اس طرح سے قرآن کا ایک اور علمی معجزہ ثبوت کو پہنچ گیا۔
اس مسئلے کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم اس بحث کا ایک حصہ یہاں پیش کرتے ہیں کہ جو ایک دائرة المعارف میں سورج کی حرکت کے بارے میں بیان ہوا ہے: سورج “ظاہری” حرکات (یومیہ حرکت اور سالانہ حرکت) اور “واقعی”حرکات کا حامل ہے۔ سورج کرۂ آسمانی کی یومیہ اور ظاہری حرکت میں شریک ہے ۔ ہمارے آدھے کرہ میں مشرق سے طلوع کرتا ہے ، جنوب کی طرف نصف النہار کے مقام سے گزرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے۔ نصف النہار سے اس کا عبور حقیقی ظہر کو مشخص کرتا ہے۔سورج کی ایک سالانہ “ظاہری” حرکت زمین کے گرد بھی ہے کہ جو اس کو ہر “روز” مغرب سے مشرق کی طرف تقریباً ایک درجہ لے جاتی ہے۔ اس حرکت میں سورج سال میں ایک مرتبہ بُرجوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ اس حرکت کا مدار “دائرة البروج” میں واقع ہے ۔ یہ حرکت علم نجوم کی تاریخ میں بہت زیادہ و اہمیت رکھتی ہے “اعتدالین” و “انقلاب” اور “میل کلی” اسی کے ساتھ مربوط ہے اور شمسی سال اسی سے وجود پاتا ہے۔ ان ظاہری حرکات کے علاوہ کہکشاں کی حرکت دورانی سورج کو قریباً گیارہ لاکھ تیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ فضا میں گردش دیتی ہے لیکن کہکشاں کے اندر بھی سورج ثابت و ساکن نہیں ہے بلکہ قریباً بہتر ہزار چار سو کلو میٹر کی رفتار سے صورت فلکی (جاثی على ركبتيه) . ۱؎ کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اور یہ جو ہم فضا میں سورج کی اسی تیز حرکت سے بے خبر ہیں ، تو یہ اجرامِ فلکی کے دَوری ہونے کی وجہ سے ہے ، کہ جو اس خاص حرکت وضعی کی تشخیص کا ماخذ بھی ہے۔ سورج کی حرکت وضعی اس کے استواء میں تقریباً پچیس دن میں ہوتی ہے . ۲؎،۳؎

حوالہ جات:
۱؎ “جاثی على ركبیّه” ستاروں کا ایک مجموعہ ہے کہ جو ایک فلکی صورت تشکیل دیتا ہے، یہ اس شخص سے مشابہ ہے کہ جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو اور کھڑا ہونے کے لیے تیار ہو اور یہ تعبیر اس معنی سے لی گئی ہے۔
۲؎ یعنی سورج ہمارے پچیس شب و روز میں ایک مرتبہ اپنے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ امر ماہرین نے سورج کے سطحی ٹکڑوں کے مطالعے سے اخذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ یہ ٹکڑے ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں اور پچیس دنوں کے بعد پھر مکمل طور پہ اپنی جگہ پر واپس آ جاتے ہیں ۔
۳؎ وائرۃ المعارف “دهخدا” ماوہ خورشید ، جلد ۲۲ ۔
:::::::::::::::::::::::::
التماس دعا

اپنا تبصرہ بھیجیں