Afzaal Rehan

تشدد کو جواز بخشے والے پارسا ؟

آج اس مملکت بدنصیب کے حالات کس قدر دگرگوں ہیں غریب عوام غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن دوسری طرف امرا کی ایلیٹ کلاس ہے جنہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے وہی لچھن ہیں جیسے کوئی ایشو ہی نہیں ہے انہی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کچھ افراد ہیں جو پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ بے اصولی و کمینگی کی تمام حدود کو انصاف کے نام پر پار کر رہے ہیں۔ تیسری طرف ہمارے پیارے راج دلارے جناح ثالث صاحب ہیں جو ہوس اقتدار کے جنون میں اس ملک کیلئے خوفناک سونامی بنے کھڑے ہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں کہ یہ ملک ان شعبدہ بازیوں کا متحمل ہے یا نہیں بس مجھے کرسی اقتدار تک پہنچنا ہے چاہے لاشوں کو مسلتے ہوئے ان کے اوپر سےجانا پڑے چاہے ہچکولے کھاتی معیشت مزید برباد ہو جائے ’’اوبھائی ملک کی قیمت پر اقتدار کا سودا نہ کرو‘‘ شعور کی یہ آواز کیا دو مرتبہ پہلے سنی گئی ہے جو اب سنی جائے گی؟
9مئی کو اس ملک میں جو کچھ ہوا ہے 47اور 71کے بعد اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے 77ء میں PNAکی اور پھر 83ء میں MRDکی اگرچہ بھرپور ایجی ٹیشن ہوئی تھی مگر یوں چن چن کر فوجی املاک، کینٹ ایریاز اور بالخصوص کور کمانڈر ہائوس یا فوجی یادگاروں پر اس نوعیت کے حملے روا نہیں رکھے گئے تھے۔ اندھوں کو بھی نظر آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ پری پلانڈ تھا آج الیکٹرانکس ترقی اور سوشل میڈیا کے پھیلائو میں ایسی کوئی چیز کیسے چھپ سکتی تھی یہ لوگ ثبوتوں کی بات کرتے ہیں کیمروں کی آنکھوں نے کس قدر چہروں کو بطور ثبوت آگ لگاتے اور تباہی ڈھالتے محفوظ کرلیا تھا یہاں تک کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے بلوائیوں کو یہ کہہ رہی تھیں کہ پہلے اکٹھے ہو لو پھر کور کمانڈر ہائوس کی طرف چلو تو وڈیو میں صاف دیکھا اور سنا جا سکتا ہے اسی طرح دیگر پی ٹی آئی وزرا کو ہدایات دیتے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے آج اگر یہ لوگ اس نوع کی الزام تراشی کر رہے ہیں کہ یہ ہمارے ورکرز نہیں تھے ایجنسیوں کے لوگ تھے تو انہیں شرم آنی چاہئے اگر حملہ آور ایجنسیوں کے لوگ تھے اور وہی پکڑے گئے ہیں تو پھر پی ٹی آئی چیئرمین کو تکلیف کاہے کی ہو رہی ہے ؟وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے آٹھ ہزار ورکرز پکڑے گئے ہیں جبکہ وڈیوز میں یہ سب بلوائی بلوے کرتے دیکھے جاسکتے ہیں۔
جناح ثالث کی گرفتاری کے فوری بعد جس طرح یہ لوگ نکلے ہیں اور جس شتابی سے انہوں نے کینٹ ایریاز کا رخ کیا ہے تمام تر پلاننگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا لیڈر نہ صرف اپنی پارٹی قیادت کو ہدایات دے کر گیا تھا بلکہ کارکنان کیلئے یہ پیغام چھوڑا تھا کہ آج اگر میری گرفتاری ہو گئی تو تم سب لوگ جہاد کیلئے نکل کھڑے ہونا اس نے احتجاج نہیں جہاد بولا تھا آرمی چیف حافظ عاصم منیر نے کور کمانڈر لاہور کو ہٹا کر کورٹ مارشل کا فیصلہ قطعی درست اور بروقت کیا ہے وہ شخص تو اتنا غیر ذمہ دار عقل و شعور سے عاری اس عہدے کے قابل ہی نہیں تھا اتنی اہم ذمہ داری پر فائز شخص کو کیا اتنا ادراک ہی نہ تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے اگر آرمی اور رینجر زکے ٹرک جانفشانی سے نکال کر سڑکوں پر لائے جاتے تو کسی کی مجال نہ ہوتی اس طرف آگے بڑھنے کی اور یہ عوام کا کوئی بڑا کرائوڈ ہرگز نہ تھا چھوٹی چھوٹی ٹولیاں تھیں جنہیں اکٹھے ہونے سے قبل ہی دبوچا جا سکتا تھا اور پھر اس شخص کو شرم نہیں آ رہی تھی کہ نظروں کے سامنے حساس مقامات جل رہے تھے اور نیرو بانسری بجا رہا تھا ۔
آئین و جمہوریت پر ایمان رکھنے والے ایک سویلین کا نظریہ ہر گز یہ نہیں ہو سکتا کہ عام سویلینز کا کورٹ مارشل ہو یا ان کے خلاف کارروائی آرمی ایکٹ کے تحت سنی جائے لیکن دوسری طرف یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پرتشدد حملے سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ کینٹ ایریاز میں فوجی پراپرٹیز پر کئے گئے ہیں اگر سخت ایکشن نہیں لیا جائے گا تو یہ مجرمانہ ذہنیت اور دہشت گردی کی اسی طرح حوصلہ افزائی گردانی جائے گی بدقسمتی سے جس کا بدترین مظاہرہ ہماری جوڈیشری میں کیا جا رہا ہے ۔
کیا دنیا میں کبھی ایسے ہوا ہے کہ ایک شخص ساٹھ ارب روپے کرپشن کے الزام میں عدالتی ریمانڈپر ہو اپنے لوگوں کو مسلسل دہشت گردی پر اکساتا چلا آ رہا ہو سپریم جوڈیشری کا چیف جج عاشق معشوق کی طرح اس کی بلائیں لے رہا ہو اس نے جو جرائم کئے ہیں یا جو ابھی کرنے ہیں یا جن کا اندیشہ ہے یا جن میں اس نے ضمانت طلب ہی نہیں کی سب کچھ کی نہ صرف ضمانت منظور کروانے کا اہتمام کروائے بلکہ اس کی بلائیں لیتے ہوئے کہہ رہا ہو کہ ’’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی ‘‘ بہارو پھول برسائو میرا محبوب آیا ہے آپ میرے مہمان بن کر تین بیڈ کے ریسٹ ہائوس میں رہئے وہاں اپنی فیملی اور دس افراد کو بلا کر ان سے گپ شپ کیجئے اور آرام سے سو جائیے اور اب جو توجیہات کی جا رہی ہیں یہ حجت گناہ اور بدتر از گناہ کے مترادف ہیں
یہ سب کو معلوم ہے انصاف اندھا ہوتا ہے اب پاکستانیوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ ننگا بھی ہوتا ہے اس میں جگ ہنسائی کی بھی کوئی شرم نہیں ہوتی درویش کو تو پہلے سے اصلیت کا علم تھا لیکن جن لوگوں کو کسی نوع کا شبہ تھا اتنی بڑی جسارت اور ڈھٹائی دکھانے والوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ملزموں پر نوازشات کی ایسی بہار شاید قانون کی تاریخ میں آج تک نہ دیکھی گئی ہو گی۔
اس پر حضرت مولانا کا غم وغصہ قابل فہم ہونا چاہئے یہ کہ بھائی اگر سیاست کا اس قدر شوق ہے تو اتاریے سرکاری لبادے آئیے عوام میں اپنی محبوب پارٹی اور اس کے چیئرمین کی سنگت میں پرانے زخم بھی اگر ہرے ہو گئے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ اس عمارت سے پانچواں جوڈیشل مارشل لاء لگا ہے تو اس کا اہتمام اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے خود کیا ہے ہمارے لوگ نہ جانے کیوں محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں آج جب عوامی طاقت کا ڈنڈا آیا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ صرف آئین نہیں حالات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے اگر امن نہ ہو تو پھر قانون پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا یہی بات تو روز اول سے آئین کا خالق عوامی امنگوں کا ترجمان ادارہ کہتا چلا آ رہا ہے کہ آئین کی محض ایک شق کو نہیں تمام شقوں کو ملاحظہ کرتے ہوئے پورے نیشنل سینئریو یا منظر نامے کے حقائق کی مطابقت میں تلخیوں کو بھی سمجھنا پڑتا ہے شفافیت کے تقاضے بھی پورے کرنے پڑتے ہیں قومی سلامتی و یکجہتی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں شکر ہے اگر آج آپ کو ادراک ہو گیا ہے کہ فوجی اثاثوں اور انسٹالیشنز کو بے دردی سے جلایا جا رہا ہے ۔
کور کمانڈر کانفرنس اور نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بروقت جو فیصلے کئے گئے ہیں وہ اس دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا بدیہی تقاضا ہیں خود وکلا اور قانون دانوں کے اندر سے بھی اس نوع کی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ بلوائیوں پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلنے چاہئیں سابق کھلاڑی کے افواہ ساز سیل سے پیہم گھٹیا نوعیت کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں یہ کہ خود آرمی میں آرمی چیف کی شدید مخالفت ہو رہی ہے اس لئے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہو رہا اب کے نہ صرف اجلاس ہوا ہے بلکہ اس میں تمام ذمہ داران نے شرکت کرتے ہوئے صائب فیصلے کئے ہیں منافرت و محاذ آرائی کی بجائے مکالمے اور جمہوری اقدار کی راہ دکھائی گئی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذاتی اور سیاسی فائدے کیلئے جلائو گھیرائو اور املاک کے نقصان کو برداشت نہیں کیا جائے گا تشدد کے خلاف زیرو ٹائرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی ۔
بتایا جا رہا ہے کہ جس قدر املاک کو ا ٓگ لگائی گئی ہے اور 108گاڑیاں جلائی گئی ہیں اس نقصان کا تخمینہ 6ارب روپے بنتا ہے اصولاً فیصلہ کیا جانا چاہئے کہ دہشت گردوں کو محض سزائیں ہی نہیں ملنی چاہیں اس قومی نقصان کی وصولی کا اہتمام بھی ہونا چاہئے کہا جاتا ہے کہ اس شرپسند پریشر گروپ کے پاس بڑے فنڈز اور اثاثہ جات ہیں نقصان کی تلافی ان کی ضبطی سے ہونی چاہئے پھر بھی کسر رہ جائے تو بنی گالہ کی نیلامی سے پوری کی جائے کیونکہ رہائش کیلئے خلیفہ کے پاس زمان پارک بھی بہت جگہ ہے اگر اس نوع کے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تو پارلیمینٹ کی تقاریر ہوں یا دھرنے کی شعلہ بیانیاں کور کمانڈرز کانفرنس کی وارننگ یا تنبیہات ہوں یا نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے مذمتی فیصلےسب گیدڑ بھبھکیاں قرار پائیں گے اور بہارو پھول برسائو والوں کی بے انصافیاں جاری رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں