Akmal Soomro

پاکستان کی پوسٹ کالونیل ریاستی شناخت

قومی جمہوری ریاستوں کے تصورات نے نوآبادیاتی عہد سے جنم لیا اور متعدد قومی ریاستیں نوآبادیاتی نظام کے نتیجے میں قائم ہوئیں۔ یورپی ممالک نے نوآبادیاتی عہد میں اپنے اسٹرٹیجک مقاصد کے تحت سرحدوں کی لکیریں کھینچی جس میں نسلی، ثقافتی، لسانی و مذہبی تقسیم کو اہمیت دی گئی۔ نتیجتاً، متعدد پوسٹ کالونیل ریاستوں کو ایسی سرحدین وراثت میں ملی جو پہلے سے موجود ثقافتی یا نسلی حدود سے مطابقت نہیں رکھتی ۔

ڈی کالونائزیشن کےعمل میں، پوسٹ کالونیل ریاستوں نے قومی شناخت بنانے کی کوشش کی جو موجودہ نسلی، لسانی و ثقافتی تقسیم سے جدا ہو، چنانچہ ایک مشترکہ زبان، تاریخ و ثقافت کو تشکیل دینے کی منصوبہ بندی ہوئی جس کا مقصد قومی ریاست کے اندر مختلف گروہوں کو متحد کرنا تھا، تاہم اس عمل میں کلی کامیابی نہیں ہوئی۔

پوسٹ کالونیل ریاستوں کو مختلف نسلی یا ثقافتی گروہوں کے درمیان جاری تنازعات و تناؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ تنازعات قومی سے زیادہ مقامی ، علاقائی بنیادوں پر ہیں۔

برطانیہ نے نوآبادیاتی وراثت میں کمزور اداروں، ناقص انفراسٹرکچر، کمزور اداروں اور معاشی پسماندگی کے ساتھ چھوڑا، پاکستان کو پوسٹ کالونیل ریاستی شناخت میں انھی مسائل کا سامنا ہے، سندھ، پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب لسانی وثقافتی شناخت کی جدوجہد میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور تنازعات کی جڑوں کو نوآبادیاتی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان میں پارلیمانی طرز حکومت، عدلیہ، فوج، پولیس، ریونیو، تعلیم وغیرہ تمام شعبہ جات میں بہ طور پوسٹ کالونیل ریاست چیلنجز درپیش ہیں، ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ناگزیر ہے کہ ریاست کو کالونیل جڑوں سے آزاد کیا جائے۔ اکمل سومرو لاہور

اپنا تبصرہ بھیجیں