Afzaal Rehan

اس طوفان سے سرخرو کون ہوگا؟

ن لیگ کے قائد میاں نوازشریف کی صلاحیتوں کا لوہا کوئی مانے نہ مانے یہ درویش ضرور مانتا ہے۔ اس وقت ہماری قومی سیاست میں جو ارتعاش آیا ہوا ہے، اس کی ڈوریاں انہی معصوم شریف ہاتھوں میں ہیں جسے ان کے مخالفین اکثر و بیشتر لندن پلان کا نام دیتے ہوئے جلتے کڑھتے رہتے ہیں۔
عام عوام تو رہے ایک طرف ہمارے بہت سے اجل صحافیوں اور بلند بانگ دانشوروں کو سمجھ نہیں آرہی کہ آگے کیا ہونے جارہا ہے؟ بہت سے اس الجھن کا شکار ہیں کہ سپریم کورٹ جیسے آئین کے کسٹوڈین ادارے سے متھا لگانا بڑا خطرناک فیصلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ اس کے چھوٹے بھائی شہباز کو گھر بھیج دیا جائے گابلکہ ن لیگ اور اس کی حکومت کا بیڑا بھی غرق ہوجائے گا۔ طاقتوروں کا تو کوئی اعتبار نہیں ہوتا ان کی دوستی اچھی نہ دشمنی، نہ جانے کب وہ آنکھیں دکھا دیں۔ ان کے بہکاوے میں آکر پہلے ن لیگ مقبولیت کے ہمالہ سے پاتال کی تاریکی میں گری پڑی ہے اور پھر نوازشریف کی تو کبھی کسی آرمی چیف سے بن آئی ہی نہیں جنہیں یہ خود لگواتا ہے وہی اسے براستہ جیل خانہ جات ، دیش نکالے تک پہنچا کر آتے ہیں۔ دوسری طرف پی پی جیسے اتحادیوں کا بھی کوئی اعتبار نہیں ان کے مفادات جونہی بدلیں گے، آنکھیں بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
اس سے بڑھ کر جناح ثالث اپنی مقبولیت کے کےٹو پر چڑھا کھڑا ہے۔ جب بھی الیکشن ہونگے وہ ان سب کو پچھاڑ یا دبوچ کررکھ دے گا۔ کتنی دیر بھاگو گے ؟الیکشن تو بالآخر کروانے ہی پڑیں گے۔ اب تو سپریم کورٹ کی ننگی تلوار بھی تمہارے سروں پر لہرا رہی ہے جسے آپ درویش صاحب اناڑی گردانتے رہتے ہیں وہ اس عوامی دباؤ کے ساتھ ساتھ عالمی دباؤ بھی بڑھاتا چلا جارہا ہے۔ اس کے کارندے طاقتوروں سے معاملات سیدھے کرنے کے لیے بھاگ پھر رہے ہیں۔ کسی بھی وقت کوئی ایسی خبر آسکتی ہے جو کھیل کا پانسا پلٹ کر رکھ دے گی کیونکہ طالبان خان نے انہیں ناکوں چنے چبوا کر رکھ دیے ہیں ان کے خلاف پہلے لوگ ڈرائنگ روموں میں بھی منہ کھولتے ہوئے ڈرتے تھے۔ آج گلی گلی محلے محلے بچوں تک کی زبانوں پر ساری داستانیں ہیں بلکہ لندن اور واشنگٹن تک ان کے متعلق کھلے نعرے لگ رہے ہیں اور پھر خود اندر سے بھی بڑا دباؤ ہے۔ لہٰذا کب تک سامنا کریں گےوغیرہ وغیرہ
اس تمام تر پراپیگنڈہ کے علی الرغم درویش معاملات کو دوسری طرف جاتے دیکھ رہا ہے۔ مانا کہ اس وقت سوسائٹی کی طرح ہمارے ادارے بھی منقسم ہیں حتیٰ کہ ہماری سپریم جوڈیشری آج جیسے حالات سے گزررہی ہے پھچلی پون صدی کی تاریخ میں شاید ایسی ننگی اور پریشان حال کبھی نہیں ہوئی۔ بظاہر وہ پوری طاقت سے آئین کی ماں یعنی پارلیمنٹ کے بالمقابل کھڑی ہے لیکن اندر سے کھوکھلی ہے۔ ن لیگیوں یا ان کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی یا اس کے سپریم جج کی نفی کرتے ہوئے یہ پراپیگنڈہ کریں کہ اگر نوے دن میں انتخابات کروانا ایک آئینی تقاضا ہے جسے تم خود پامال کرچکے ہو تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروانا بھی ویسا ہی آئینی تقاضا ہے جس پر اکتوبر میں لازماً عمل ہوگا اور یہ کہ اسمبلیاں ناجائز طور پر کیوں توڑی تھیں؟ استعفےٰ کیوں دیے تھے؟؟
اس وقت اتحادیوں کی خوش نصیبی ہے کہ طاقتور نیوٹرل بنے کھڑے ہیں، ورنہ وہ ہمیشہ عظمیٰ بیگم کے مظالم میں پشت پناہ کا رول ادا کرتے چلے آرہے ہیں بلکہ کڑوا سچ یہ رہا ہے کہ عظمی ہمیشہ وقار کے ساتھ ہی بھاگتی رہی ہے عوامی قیادت کی بربادی ہمیشہ اسی باہمی ملی بھگت کے کارن رہی ہے۔ پھول پھینکنے جیسا دھول دھپہ ہمیشہ غیر آئینی اور ٹانگیں توڑنا سپر آئینی قرار پاتا رہا ہے۔ امتحان کی اس گھڑی میں مضبوط اعصاب کے ساتھ آپ لوگ سپریم جوڈیشل کونسل کو بہر صورت متحرک کروائیں۔ اتنی بڑی آئین شکنی اور پارٹی بازی خود اس مقام پر ہورہی ہے جو اپنے تئیں منصفی و چوکیداری کا دعویدار رہا ہے۔ وکلاء برادری کو بھی اس حوالے سے متحرک کیجئے۔ پارلیمنٹ کی ساورنٹی و بالادستی منوانے کا اس سے نادر موقع ہاتھ نہین آئے گا۔ بظاہر جو نقصان ہوتا ہے کرواتے چلے جائیں لیکن اپنے مؤقف پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے رہیں۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا جیسے کہ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023ء صدارتی استردادکے بعد باضابطہ و حتمی طور پر منظو رکرتے ہوئے بالفعل لاگو کرواکر دم لے اور تمام جمہوریت نواز سیاستدان یہ عہد کرلیں کہ اگلی پارلیمنٹ جیسے تیسے اختلافات کے باوجود غیر منتخب اشخاص یا محکموں کو پارلیمنٹ کی عظمت کے تابع کرنے کے لیے ٹھوس آئینی ترامیم کرے گی تاکہ اس نوع کی آمرانہ سوچ آئندہ سر اُٹھانہ سکے۔
اسی تمام تر جدوجہد کا کریڈٹ تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے لیڈر نوازشریف کو جاتا ہے جس نے طاقتور تقرری پر پامردی کے ساتھ سٹینڈ لیا ورنہ ان کی پارٹی کے بہت سے لیڈران بشمول چھوٹے بھائی باجوہ ڈکٹرائن کا شکار ہوئے پڑے تھے۔ رہ گئی جناح ثالث کی کے ٹو پر چڑھی مقبولیت تو اسے نیچے گرتے زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہاں مقبولیت کے بڑے بڑے دعویدار آئے ہیں جو کہتے تھے کہ اگر ہمارے ساتھ کچھ ہوا تو پنجاب کے دریا سرخ ہوجائیں گے مگر جب آھنی ہاتھ پڑا تو کوئی چڑیا بھی نہیں پھڑکی۔ دو تہائی اکثریت والے کو براستہ جیل دیس نکالا دے دیا گیا۔ یہ تو جینوئن پاپولیٹریٹی کی بات تھی یہاں تو اس وقت سب کچھ جعلی و دو نمبری ہے ایک اناڑی کے پاس محض مانگے تانگے کی بھیڑ ہے جسے غائب ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ جناح ثالث کی نااہلی یا جیل یاترا کیوں ممکن نہیں ہے یہاں ابھی سب کچھ ہونا ہے اور احمد میاں نے محض فاختائیں اُڑانی ہیں۔
احباب کا سوال ہے کہ اگلا سیٹ اپ کیا بنتا دیکھتے ہو؟ جواب ہے کہ اس کا فیصلہ حسبِ روایت پنجاب سے ہی ہونا ہے۔ جو لوگ اس نوع کے بعید از قیاس تجزیے کرتے ہیں کہ طاقتور اگلا کھلاڑی سندھ سے اُتاریں گے شاید اسی چکمے پر وہ بھی نانا جی کی دکان کا حلوہ یا چورن بیچنے میں شتابی دکھاتا رہتا ہے۔ جب وہ پنجاب سے فارغ ہے تو گیم بھی اس کی نہیں بن سکتی۔ درویش کا گمان ہے کہ اگلی حکومت بھی اتحادی ہی ہوگی جس کی قیادت بڑے میاں صاحب خود کرسکتے ہیں لیکن اس سے پہلے ترازو کے پلڑے برابر کروانا ضروری ہیں۔ اتحادی بالخصوص ن لیگی یہ سمجھ لیں کہ ان کا اصل حریف کوئی کھلاڑی یا اناڑی نہیں اس ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت ہے۔ جب ملک ڈوب رہا ہوگا تو آپ لوگ کیسے تیر سکیں گے؟؟ بہرحال آپ سب لوگ نوازشریف کا شکریہ ادا کرو جس نے تمام سیاسی وعدالتی بحرانوں اور طوفانوں سے آپ لوگوں کو کس خوبصورتی سے نکالا ہے۔ آج اگر ایم بی ایس اپنا طیارہ لندن بھیجنے کے لیے تیار ہے یا شاہی پروٹوکول میں دعوت بھیج رہا ہے تو یہ اسی بدلے ہوئے موسم کی غمازی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں