Ata ul Haq Qasmi

مسلم لیگ (ن) کے گونگے پہلوان

ان دنوں ملک میں سیاسی دنگل زوروں پر ہے، دونوں جماعتوں اور ان کے ہم نوا اپنے ڈھول تاشوں کے ساتھ میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ اس دنگل میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور اب الیکشن کمیشن بھی آمنے سامنے ہیں۔ بنیادی طورپر یہ دنگل پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے درمیا ن تھا۔ مگر مقابلہ اتنا سنگین نوعیت کا تھا کہ اداروں کو بھی اس میں شرکت کرنا پڑ گئی۔ پی ڈی ایم میں تیرہ چودہ جماعتیں شامل ہیں مگر دنگل بنیادی طور پر تخت لاہور کی حکمرانی کے حوالے سے ہے، چنانچہ اس لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کو زیادہ متحرک ہونا چاہئے تھا کہ برس ہا برس سے تخت لاہور پر وہی متمکن چلے آ رہے تھے۔دوسری جماعتیں بھی جیت کی صورت میں محروم نہیں رہیں گی، مگر صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی بہت مقبول جماعت بن چکی ہے، عوام الناس کے علاوہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور معقول نظر آنے والے ہمارے دوست بھی آنکھیں بند کرکے اس کا دم بھرتے نظر آتے ہیں، انہیں عمران خان کی قلابازیاں نظر نہیں آتیں اور نہ ہی کے پی کے میں آٹھ سالہ اور پنجاب میں چار سالہ ان کی حکومت کی صفر کارکردگی اور ملکی معیشت کو تباہ اور پاکستان کو اس کے دوست ممالک سے محروم کرنے کی پالیسیاں نظر آتی ہیں، نہ ان کا دھیان پچاس لاکھ مکان اور ایک کروڑ نوکریوں کے جھانسے کی طرف جاتا ہے، سو ہمیں ماننا پڑے گا کہ عمران خان کی شخصیت میں ایسی کوئی کشش ضرور موجود ہے جو بینائوں کو بھی نابینا بنائے ہوئے ہے۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے، پی ڈی ایم کی یہ واحد جماعت ہے جس کے مخلص کارکنوں کو اس کی چھوٹی بڑی قیادت توجہ کے قابل نہیں سمجھتی۔ ان کی جماعت اقتدار میں ہے، مگر انہیں اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کیلئے بھی در بدر ہونا پڑتا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی دوسری جماعتیں اپنے ووٹروں کو ہر جگہ دلاسا دیتیں اور انہیں کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور حکومت میں اپنوں کو نظر انداز اور غیروں کو مسلسل نوازا گیا۔ صحافیوں میں سے بھی زیادہ تر وہی لوگ ان دنوں اس کے قریب ہیں جو پہلے بھی ان کے خلاف زہر افشانی کرتے تھے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ تاہم آج بھی اس جماعت کیلئے اپنے دل میں سافٹ کارنر رکھنے والوں کو اپنے لیڈر میاں نواز شریف کا انتظار ہے، وہ اگر الیکشن سے پہلے پاکستان واپس آسکے تو ان کے چاہنے والے سارے گلے شکوے بھول جائیں گے اور اگر کسی بھی وجہ سے وہ نہ آسکے تو بھی ووٹ بہرحال انہی کا ہوگا۔
یہ تو صورتحال کا ایک پہلو ہے مگر جو دوسرا پہلو بیان کرنے جا رہا ہوں اس سے اتفاق کرنے والے بہت کم ہوں گے اور وہ یہ کہ اس وقت بجا طور پر ہر طرف پی ٹی آئی کے ڈنکے بج رہے ہیں اور یہی سمجھا جا رہا ہے کہ یہ جماعت تین چوتھائی اکثریت حاصل کر لے گی۔ اگر عمران خان کو بالفرضِ محال گرفتار بھی کرلیا گیا تو بھی ان کی جیت نہ صرف یقینی نظر آتی ہے بلکہ ممکن ہے اس سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہی ہو۔ تاہم جو بات میں کہنے جا رہا ہوں وہ یہ ہےکہ موجودہ صورتحال الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔ یہ نہیں ہوگا کہ پی ٹی آئی کا صفایا ہو جائے گا اس کی اکثریت قائم رہنے کا امکان موجود ہے، مگر مسلم لیگ (ن) بلکہ نواز شریف کیلئےاپنے دلوں میں محبت رکھنے والے یہ ’’گونگے پہلوان‘‘ اکھاڑے میں اترتے ہی کسی اور رنگ روپ میں نظر آئیں گے۔ پی ٹی آئی کے ورکر بہت ’’ووکل‘‘ ہیں وہ وہاں بھی بولنے لگتے ہیں جہاں شرم و حیا کا تقاضا خاموش رہنا ہوتا ہے، مگر مسلم لیگی زیادہ وقت خاموش رہتے ہیں، البتہ اب کچھ عرصے سے ان کے منہ میں زبان آگئی ہے اور وہ کہیں کہیں ترکی بہ ترکی جواب دینے لگے ہیں، البتہ انہیں اگر فارم میں دیکھنا ہو تو پولنگ والے دن دیکھیں، یہ ’’گونگے پہلوان‘‘ خاموشی سے آتے ہیں اور خاموشی سے اپنی جماعت کو ووٹ ڈال کر چلے جاتے ہیں البتہ میرا مشاہدہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں کے مقابلے میں ڈھیلے ڈھالے ہوتے ہیں، پی ٹی آئی کے ووٹروں کو صبح صبح لائن میں کھڑا کردیا جاتا ہےا ور مسلم لیگیوںکو اس وقت ایکٹو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے، گزشتہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا ایک ورکر میرے دوستوں کو جانے بغیر کہ یہ کون ہیں، ووٹر لسٹیں ارسال کرتا رہا،صرف یہی نہیں بلکہ عید پر عید مبارک کے میسج بھی اس کی طرف سے آتے رہے، جبکہ دوسری طرف سے یہی سمجھا جاتا رہا کہ یہ تو اپنے ہیں، انہوں نے کہاں جانا ہے، بہر حال میں جو کہنے جا رہا تھا وہ یہ تھا کہ جب بھی انتخابات ہوئے موجودہ صورتحال میں آپ کوتبدیلی ضرور نظر آئے گی اور پی ٹی آئی میںدراڑ نظر آئے گی تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی خامیوں اور اپنی ’’لاپروائیوں‘‘ پر نظر ثانی کرے، امید تو کم ہے مگر مایوسی بھی تو گنا ہ ہے نا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں