عزیز خان

پاکستان کا مُقدمہ

عمرانی سیاست اور ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی بیحرمتی اور بطورِ خاص ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کی پامالی

دی گریٹر پاکستان موؤمنٹ کے پلیٹ فارم سے “پاکستان کا مُقدمہ” کے نام سے ایک کثیرالجہتی عوامی آگاہی پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے۔ جس میں نہ صرف ملک و قوم کو درپیش ہمہ گیر مسائل، ان مسائل کے پسِ پردہ عوامل، ان مسائل کی وجہ سے معاشرے پر پڑنے والے ظاہری و پوشیدہ اثرات، ان مسائل کو دور رس بنیادوں پر حل کرنے اور تمام متعلقہ معاملات کا مکمل احاطہ کیا جائے گا بلکہ پاکستان کے قیام کے بنیادی مقاصد، بطور قوم اور مملکت قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد سے رُوگردانی، سیاسی عدم استحکام، بار بار کی فوجی حُکومتوں، خراب طرزِ حُکمرانی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، سابقہ سوویت افغان جنگ، افغانستان میں خانہ جنگی، طالبان کے عروج و زوال، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، پاکستان میں نہ ختم ہونیوالی دہشتگردی کی لہر، کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بدامنی اور شورشیں، حُصول اقتدار کے لئے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش، معاشی عدم استحکام، سماجی شکست و ریخت وغیرہ وغیرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی۔ اس کے علاوہ دی گریٹر پاکستان کا نظریہ، اس کے بُنیادی خدوخال، مُستحکم پاکستان کا خواب اور پاکستان کے علاقائی و عالمی کردار کے ازسرِنو تعین نیز پاکستان کوعظیم ترین مملکت بنانے اور پاکستانی معاشرے کو ملتِ واحدہ کی طرز پر تشکیل کے امکانات اور ان مقاصد کے حصول کے لئے قلیل مدتی و طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ان کثیر الجہتی مقاصد کے حصول کی راہ میں درپیش مشکلات، ان مشکلات سے نبرد آزما ہونے اور اس طرح کے تمام متعلقہ عوامل کا مختلف زاویوں سے بہت گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور ہمہ گیر بُنیادوں پر تسلیم شُدہ اور مُتفقہ قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے گا۔

اس مُقدمے کا آغاز ہم “عمرانی سیاست اور ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی بیحرمتی اور بطورِ خاص ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کی پامالی” کے عنوان سے کررہے ہیں۔

آج بطور فرزندِ پاکستان میں پاکستان کا مُقدمہ اپنی قوم، پاکستان کی تمام قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں، تنظیموں، گروہوں اور اکائیوں، عدلیہ، افواج پاکستان، ریاستی اداروں، سماجی و فلاحی اداروں اور تنظیموں، میڈیا، دینی اور کاروباری طبقات الغرض پاکستان کے ہر دینی، سیاسی، سماجی اور فلاحی رہنُما اور کارکن، ہر جج، مُنصف اور وکیل، ہر فوج افسر اور جوان، ہر سرکاری افسر اور عامل، ہر عالمِ دین، پیش امام، مؤذن اور طالب، ہر استاد اور طالب علم، ہر جاگیردار، زمیندار اور کسان، ہر سرمایہ دار، تاجر اور مزدور، ہر دانا، عاقل اور ذی ہوش پاکستانی مرد، عورت اور بچے کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، اور چند ایک سوالات، معروضات اور نُقاظ پیش کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہم سب من حیث القوم انفرادی اور اجتماعی لحاظ سے ان تمام سوالات، معروضات اور نُقاظ پر انتہائی خلوصِ اور کُشادہ دلی کے ساتھ دل کی اتھاہ گہرائی سے وسیع تر تناظر میں غور کریں گے اور ہر طرح کے ذاتی، لسانی، علاقائی، فرقہ ورانہ اور مذہبی اختلاف، نفرت، بُغض اور تعصب سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اپنے مُلک مملکتِ خُدادادِ پاکستان اور اپنی قوم کے عظیم تر مفاد میں حق پر مبنی فیصلہ کریں گے۔

یہ سوالات، معروضات اور نُقاظ درجِ ذیل ہیں:
کیا وجہ ہے کہ عمران خان کی خاطر ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے؟ کیوں ایک شخص کی جھوٹی انا، ضد، ہٹ دھرمی اور ہوس اقتدار کی خاطر ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی حُرمت کو پامال کیا جارہا ہے؟ کیوں اس کی خاطر ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کو ملیامیٹ کیا جارہا ہے؟

کیا عمران خان ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان، ریاستی اداروں اور بطورِ خاص ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار سے زیادہ اہم ہے؟ کیا وہ قانون سے ماوراء ہے جس کو چھوا جاسکتا ہے، گرفتار کیا جاسکتا ہے اور نہ اس سے کسی قسم کی بازپرس کی جاسکتی ہے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ تمام ریاستی اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے بشمول افواجِ پاکستان، عدلیہ اور تمام سرکردہ سیاسی جماعتیں خود کو عمران خان کے سامنے بے بس اور مجبور و لاچار محسوس کررہی ہیں؟

کیا وجہ ہے کہ کوئی بھی اس کو لگام ڈالنے سے کترارہا ہے؟ کیوں اس کو اتنی کُھلی چھوٹ دی گئی ہے؟ کیوں اس کی زبان بندی نہیں کی جارہی ہے؟ کیوں اس کے گُناہوں اور قومی جرائم سے چشم پوشی کی جارہی ہے؟ کیوں اس کو عدالت کے کٹہرے میں نہیں لایا جارہا؟ کیوں اس کو عبرت کا نشان نہیں بنایا جارہا ہے؟ کیوں اس کی پُشت پناہی کی جارہی ہے؟ کیوں اس کی خاطر عدالتیں، افواج پاکستان اور تمام ریاستی ادارے خود کو رُسواء کررہی ہیں؟

کیا وجہ ہے کہ کبھی فوج کے کُچھ جرنیل اس کی درپردہ معاونت کرتے ہیں، کبھی عدلیہ کے کُچھ جج اس کی سہولت کاری میں تمام حدوں کو پار کرجاتے ہیں، کبھی میڈیا کے کُچھ عناصر اس کو دورِ حاضر کے مسیحا کے روپ میں پیش کرتے ہیں اور کبھی کُچھ جاگیردار اور سرمایہ دار اس کی پُشت پناہی کرتے ہیں؟

کیوں اس کو مصنوعی طور پر زندہ رکھا جارہا ہے؟ کیوں اس کو ناجائز طریقے سے ایک دیوقامت فرینکن سٹائن کی شکل میں ڈھالا جارہا ہے؟ کیوں اس فرینکن سٹائن کی خاطر ریاست کی سلامتی و بقاء، قوم کی عزت و آبرو، ریاستی اداروں، قانون، انتظامی و اقتصادی ڈھانچوں، سماجی دھارے اور ہمارے اجتماعی دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کو داؤ پر لگادیا گیا ہے؟

کیا اس کے حمایتی اور اس کی درپردہ حمایت کرنیوالے عناصر نہیں جانتے کہ وہ لیڈر نہیں بلکہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا ڈیماگوگ ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ شخص معاشرے میں نفرت اور عدم برداشت کے بیج بورہا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ معاشرے میں افراتفری اور انتشار کو پروان چڑھارہا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اس نے سیاست کو زہر آلود کردیا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ ریاست کے وجود کیلئے خطرہ بن چکا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہی وہ شخص ہے جو کبھی سول نافرمانی کی باتیں کرتا تھا اور اب انتہائی دیدہ دلیری، بے شرمی اور ڈھٹائی سے مُلک میں خانہ جنگی کی باتیں کررہا ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ کُھلے عام مُلک کے نادہندہ ہونے کی باتیں کرریا ہے؟ کیا وہ بغیر کسی لیت و لعل کے پاکستان کے حصے بُخرے ہونے کی باتیں نہیں کرتا؟ کیا وہ پاکستان کی ایٹمی طاقت کے خاتمے کی باتیں نہیں کرتا؟ کیا وہ ریاست اور ریاستی اداروں بطورِ خاص افواج پاکستان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت نہیں اُبھار رہا ہے؟ کیا وہ مُلک میں ریاست کے خلاف بغاوت کا ماحول نہیں بنا رہا ہے؟ کیا وہ ہماری عظیم دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کو پامال نہیں کررہا ہے؟

کیا اس مُلک و قوم میں کوئی بھی اس کو روکنے والا نہیں ہے؟ وہ جب چاہے اسمبلیوں سے استعفے دے دیتا ہے، جب چاہے اسمبلیاں توڑ دیتا ہے، جب چاہے انتہائی حقارت سے آئین پاکستان کو اپنے پاؤن تلے روندتا ہے ، جب چاہے قانون کی دھجیاں اُڑاتا ہے، جب چاہے ریاست کی حُرمت کو پامال کرتا ہے، جب چاہے افواج پاکستان کو بے توقیر کرتا ہے، جب چاہے عدلیہ پر لعن طعن کرتا ہے، جب چاہے مُخالفین کو گالیاں دتیا ہے اور اس کے حمایتی اس کی ہر بات پر سر جھومتے ہیں۔

کیا اس کے حمایتی اور اس کی درپردہ حمایت کرنیوالے عناصر نہیں جانتے کہ اس کی گمراہ کُن اندھی عقیدت میں وہ قوم اور ریاست کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کررہے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ اس کی حمایت میں وہ ریاست کے ساتھ اپنا عہد توڑرہے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ ان کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہونی چاہئے نہ کہ ایک ایسے انسان کے ساتھ جو اپنی جھوٹی انا، ضد، ہٹ دھرمی اور ہوس اقتدار کی خاطر ریاست کی تباہی و بربادی سے بھی دریغ نہیں کرے گا؟

کیا اس کے حمایتی اور اس کی درپردہ حمایت کرنیوالے عناصر نہیں جانتے کہ وہ قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا قوم کبھی ان لوگوں کو معاف کرے گی؟ کیا قوم نہیں جانتی کہ اس کی گمراہ کُن اندھی عقیدت میں کبھی فوج اپنی حُدود و قیود کو پامال کرتی ہے اور کبھی عدلیہ اس کی درپردہ سہولت کاری میں ہر قانونی اور اخلاقی حد پارکرجاتی ہے؟ کیا قوم نہیں جانتی کہ اس کو کس طرح اقتدار دلوایا گیا تھا؟ کیا قوم نہیں دیکھ رہی کہ اس کو انتہا درجے کا غیر معمولی عدالتی ریلیف دیا جارہا ہے؟ کیا قوم ان معاملات کو نہیں سمجھتی کہ کس طرح ہماری عدالتیں اس کو کیفرکردارتک پہنچانے کی بجائے اس کو تحفظ دے رہی ہیں اور کس طرح آئین اور قانون سے ماروا فیصلے دے رہی ہیں؟

بطور فرزندِ پاکستان میں سب کو پیغام دینا چاہوں گا کہ یہ سب کُچھ اب مزید نہیں چلے گا، ہم ایک فرد کی خاطر ریاست، قوم، عدلیہ، افواجِ پاکستان، ریاستی اداروں اور بطورِ خاص ہماری دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار کو پامال ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ آخر قوم کب تک اپنی آنکھوں کے سامنے ملت کا شیرازہ بکھرتے ہوئے دیکھے گی؟ قوم اندھی نہیں ہے بلکہ ہر بات کا مشاہدہ کررہی ہے۔ گوکہ قوم اس وقت منتشر ہے اور سیاسی معاملات سے مُجرمانہ حد تک غفلت کا ارتکاب برت رہی ہے لیکن جس دن قوم بیدار ہوئی اور قوم کا جذبہ ایمانی جاگ اُٹھا اس دن قوم ایک بھرپور قوت کے ساتھ سامنے آئے گی، اور ان تمام عناصر کا بھوپور محاسبہ کریگی جو اس عفریت کو مُلک و قوم پر مُسلط کرنے میں ملؤث ہیں۔

ہم دی گریٹر پاکستان موؤمنٹ کے پلیٹ فارم سے اپنے نصب العین عظیم تر پاکستان کا قیام، اعلیٰ تر قومیت کی تشکیل اور برتر از اعلیٰ قانون کا نفاذ کے مُطابق قومی بیداری اور عظیم تر قیادت کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔ ہم قوم سے عہد کرتے ہیں کہ ہم قوم کو بے یارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔ ہم پاکستان کا مقدمہ ہر سطح پر لڑینگے۔ پاکستان کا مُقدمہ ہم عالمی سطح پر بھی لڑیں گے اور مقامی سطح پر بھی۔ یہ پاکستان کے ایوانوں میں بھی لڑا جائے گا اور عوامی فورمز پر بھی۔
یہ پاکستان کی عدالتوں میں بھی لڑا جائے گا اور عوامی جرگوں و پنچایتوں میں بھی۔ یہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی لڑا جائے گا اور کاروباری اداروں میں بھی۔ یہ مین اسٹریم میڈیا پر بھی لڑا جائے گا اور سوشل میڈیا پر بھی۔ یہ پاکستان کے شہروں میں بھی لڑا جائے گا اور گاؤں دیہاتوں میں بھی۔ یہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں بھی لڑا جائے گا اور ریگستانی علاقوں میں بھی۔

خیر اندیش،

اپنا تبصرہ بھیجیں