muhammad mansoor khan

پاک چین افغان دوستی

شد ید اقتصادی بحران اور دہشت گردی ایسے مسائل ہیں جن سے اس وقت پاکستان نبرد آزما ہے ۔ یہ دونوں مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر قابو پانے کی سعی میں مصروف ہو جائے ۔ان مسائل کے حل کیلئے برادر ملک چین کا تعاون پاکستان کیلئے بہت مفید ثابت ہوسکتاہے ۔دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ہمیں افغانستان کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کو اس وقت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے ان کی وجوہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خطے میں ایسے عناصر موجود ہیں جو طاقت کے توازن کو بگاڑنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کوتیار ہیں ۔ ایسے میں چین اور افغانستان کے ساتھ روابط کو فروغ دینا اور مختلف معاملات میں تعاون بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے مابین ہونے والے مذاکرات سے بہتر نتائج بر آمد ہونے کی توقع رکھنی چاہیے ۔ اسی طرح پاک فوج کے سربراہ سے چینی اور افغان وزرائے خارجہ کی جو ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کے نتیجے میںسیکورٹی کے سلسلے میں تعاون مزید بڑھنے کی امید رکھنی چاہیے جس سے ایک طرف دہشت گردی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور دوسری جانب ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا جو شر پسند عناصر کو خطے میں طاقت کاتوازن بگاڑنےسےباز رکھے گا ۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ چین اور پاکستان کی دوستی سدا بہار اور چٹان کی طرح مضبوط ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر پاکستان اور چین کو ابھرتے ہو ئے علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوںسے نمٹنے کیلئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس دوستی کی پائیداری کا ثبوت یہ ہے کہ یہ دوستی حکومتی سطح پر ہی نہیں عوامی سطح پر بھی ہے ۔ حکومتیں اور حکومتی پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن عوامی سطح پر رشتے مضبوط اور گہرے رہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوستی مزید مستحکم ہو رہی ہے ۔ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ،چین کے تعاون سے آگے بڑھنے والاسی پیک کا منصوبہ پاکستان کیلئے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ نومبر 2022میں وزیر اعظم محمد شہاز شریف کے دورہ بیجنگ کے دوران دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کویاد کرتے ہوئے گہری علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاگیا۔ چین نےپاکستان کی خودمختاری ،آزادی اور علاقائی سا لمیت کے ساتھ ساتھ اسکے اتحاد ،استحکام اور اقتصادی خوشحالی کیلئے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ۔ پاکستان نے ون چائنہ پالیسی کے ساتھ ساتھ تبت ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین سمیت قومی مفاد کے تمام بنیادی مسائل پر چین کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ۔ فریقین نے 2023ء میں سی پیک کی ایک دہائی کی تکمیل کا خیر مقدم کرتے ہوئے سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹوکی ایک روشن مثال کے طور پر سراہا جس نے پاکستان میں سماجی و اقتصادی ترقی ، روزگار کے مواقع اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کو تیز کیا ہے ۔دونوں فریقوں نے سی پیک فریم ورک کے تحت ایم ایل ون منصوبے کی کلیدی اہمیت کا اعادہ کیا اور اسکے جلد ازجلد نفاذ کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے تعاون کے اہم شعبوں بشمول زراعت ،سائنس و ٹیکنالوجی ،آئی ٹی اور قابل تجدید توانائی کے ساتھ ساتھ کراچی سرکلر ریلوے کو فعال طور پر آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ملکوں نے گوادر میں فر ینڈ شپ ہسپتال اور نیو گوادر انٹر نیشنل ایئرپورٹ سمیت متعدد منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جبکہ گوادر کو اعلیٰ معیار کی بند رگاہ اور علاقائی تجارت اور رابطوں کا مرکز بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ چین دوستی کو 72سال ہوچکے ،چین نے کشمیر سمیت ہر معاملہ پر پاکستان کی حمایت کی ہے ۔ پاکستان بلاک پالیٹکس کے خلاف اور ون چائنہ پالیسی کی حمایت کرتا ہے ، پر امن افغانستان کے بارے میں دونوں ممالک کا یکساں موقف ہے ۔ چین نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہم نے کثیر فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدے کیلئے پارٹنرشپ آئندہ بھی جاری رہے گی۔ خطے کی ترقی کیلئے افغانستان میں امن واستحکام ضروری ہے ، ہم پر امن مستحکم ، خوشحال اور متحدافغانستان کیلئے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ ملکر کام کرتے رہیں گے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دس سال مکمل ہوگئے ہیں جس سے سماجی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں ، راہداری منصوبہ دنیا بھر کی سرمایہ کاری کو یکساں معاشی مواقع فراہم کرتا ہے ۔
موجودہ حکومت نے پاک چین تجارتی راہداری کو ازسرنو شروع کر دیا ہے ، کا شغر تا گوادر دنیا کی جدید اور بہترین ریلوے لائن کا معاہدہ بھی کر لیا ہے ۔ چین کی قیادت افغانستان میں بھی قیام امن کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ چین کا ڈرامائی عروج ، چین روس شراکت داری ، مغربی یورپ اور چین کے درمیان تجارتی سردجنگ کا آغاز بھارت کا ممکنہ اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرنا ، وسطی ایشیا اور مڈل ایسٹ میں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی و سیاسی رسائی جیسے معاملات اور پیش رفت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جو پاکستان نے چاہا چین نے وہی کچھ کیا ۔ کشمیر کے معاملے میں چین نےامریکہ ، اسرائیل برطانیہ ، بھارت، اور روس کے موقف کی ہمیشہ مخالفت کی اور عالمی طاقتوں اور اداروں کی یک طرفہ مرضی کو رد کیا ۔ اس حقیقت سے انکارناممکن ہے کہ چین نے پاکستان کے دفاع اور سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے میں دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا ۔پاکستان اور چین نے بین الاقوامی برادری کی طرف سے افغانستان کو مسلسل امداد اور مدد فراہم کرنے کی ضرورت پرزوردیا ۔ جس میں افغانستان کے بیرون ملک موجود مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا بھی شامل ہے جب کہ افغان عوام کیلئے انسانی اور معاشی امداد جاری رکھنے اور افغانستان میں سی پیک کی تو سیع سمیت افغانستان میں ترقیاتی تعاون کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ۔
اب قومی مفاد کا تقاضاہے کہ حکومت اور اپوزیشن کھلے دل سے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور عام انتخابات کے شیڈول علاوہ ایک متفقہ میثاق جمہوریت بھی مرتب کریں تاکہ چین سمیت ہمارے دوست ممالک معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کے خدشات کے بغیر ہمارے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر تعاون جاری رکھ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں