محمد خالد وسیم ایڈووکیٹ

ایک بار پھر

سوئیڈن میںپھر ایک سر پھرے اور آزادی اظہار کے نام نہاد علمبردار نے دنیا کی مقدس ترین کتاب قرآن مجید کو نذرِ آتش کر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ دنیا کے چھپن سے زائد مسلمان ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان قرآن مجید سے دلی و جذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ مگر ہر چند ماہ کے بعد نام نہاد مہذب دنیا کے کسی نہ کسی ترقی یافتہ ملک میں قرآن یا صاحب قرآن کے بارے میں کوئی دلخراش واقعہ رونما ہوجا تا ہے جس سے مسلمان تڑپ کر رہ جاتے ہیں۔ دلسوز نعروں میں احتجاج ہوتا ہے اور پھر معاملہ دب جاتا ہے یا دبا دیا جاتا ہے ۔ سویڈن ہو یا ناروے ، ہالینڈ ہو یا امریکہ، فرانس ہو یا کوئی اور ملک ہر جگہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جاتا ہے مغربی دنیا کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب دنیا کیمونزم اور کیپٹلزم میں تقسیم تھی اور کولڈ وار کا دبائو بہت زیادہ تھا اس وقت اس قسم کے واقعات کبھی رو نما نہیں ہوئے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد مجاہدین کے ہاتھوں روس کی شکست اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یورپ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید اور آخری نبی محترم ﷺ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے !کیا مغرب مسلمانوں کو سوویت یونین توڑنے اور کمیونزم کو پھیلنے سے روکنے کی سزا دینا چاہتا ہے یا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ سوویت یونین کے پھیلائو اور کیمونزم کے خاتمے میں مسلم دنیا کا امریکہ اور یورپ کے ساتھ کھڑے ہو کر کردار ادا کرنا تاریخ کا حصہ ہے۔ مغرب کی تعلیم یافتہ اقوام کسی طرح بھی اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتیں ۔
اسلامی دنیا کے ممالک کو قدرت نے ہر قسم کی دولت سے نوازا ہے مگر بین الاقوامی طور پر اپنے مذہب کی حفاظت اور نبی کریم ﷺ کی تکریم کیلئے یہ ممالک اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے علاقائی مفاد کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے اور سفارت کاری کی موشگافیوں کو بروئےکار لاتے ہوئے اقتصادی مفادات کی نگرانی اور ان کے تخفظ کا فن انہیں بہت آتا ہے مگر جب مذہبی شعائر اور شخصیات کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے تومعاملہ صرف بیان باز ی یاکانفرنس منعقد کرنے تک محدود رہتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کو بیک زبان ہو کر دنیا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ قرآن اور صاحب قرآن اسلامی دنیا کی ریڈ لائن ہے۔
دنیا کے خود ساختہ، ترقی یافتہ ممالک کے نا م نہاد آزادی اظہار کے علمبردار یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جب بھی کسی ذہنی مرض کے شکار شخص کو اپنی آزادی کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو مذہب اسلام یا نبی کریم ﷺ کا انتخاب کیوں کرتا ہے؟ کسی اور مذہب اور کتاب کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاتا۔ !حالانکہ نبی کریمﷺ نے اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کا پیغام دیا۔ رواداری ، محبت اور باہمی احترام کا درس دیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دنیا بھر کے انسانوں کو تا قیامت یکجہتی ، باہمی احترا م اور انسانیت کا درس دیا مگر اس کے باوجود اسلام سے بغض رکھا جا تا ہے۔
عمران خان نے اپنی وزارت ِعظمیٰ کے دور میں اسلاموفوبیا پر اقوام عالم کی توجہ دلائی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اس مسئلے کو اٹھایا مگر اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ اس سلسلے میں انہوںنے ایک اتھارٹی کے قیام کا اعلان بھی کیامگر اس پر عمل نہ ہو سکا ۔اسلامی ممالک کی تمام جامعات میں اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ جات قائم ہیں ہماری حکومتوں کو چاہئے کہ ان شعبہ جات کو متحرک کر کے اسلام، قرآن اور نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے تقدس ،احترام کے بارے میں ریسرچ کا انعقاد کرائے ۔ ان تحریروں کو امریکہ یورپ اور دیگر ممالک میں پھیلا یا جائے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اور اساتذہ ا س کام کیلئے کمر بستہ ہو جائیں تو ہم دنیا کو اسلام، قرآن اور نبی کریم ﷺ کی شان عظمت کے حوالے سے باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے ہمیں نئے ادارے اور اتھارٹیز قائم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ تعلیمی نظام سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ یا اپنے نصاب میں غیر مسلموں کو قرآن اور نبی کریم ﷺ کی عظمت و تکریم کے بارے مواد شامل کریں تو یہ ایک عظیم کار نامہ ہو گا اور غیر مسلم اسلام سے بہتر طریقے سے روشناس ہو سکیں گے۔ عالم اسلام کو متحد ہو کر اس سلسلے میں مضبوط اور مربوط پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں