نعیم مسعود

ٹیکس و فیکٹس کی راہ میں رکاوٹ لوگ !

آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر بھیگے لفظ تھے، اقتدار کی راہداریوں، بیوروکریسی کی بالکونیوں کی نفسیات جاننے، استحقاق رکھنے کے باوجود اُس کی ان کہی اور بےبسی سے جو نتیجہ نکل رہا تھا وہ صرف یہ کہ اِن نام نہاد سول سرونٹس، ریشمی لفاظی سے امور چلانے والے سیاستدانوں اور قول و فعل کے تضاد والی اجلی قباؤں کے سامنے عوام کوئی معنی نہیں رکھتے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، جتنا بڑا گریڈ یا مال و زر اتنی ہی وسیع ہوس اور تنگ و تاریک دل، ذہن محض سیاست نبھانے کیلئے! ان کے سامنے متوسط طبقہ بےبسی کی تصویر جبکہ غریب ان کے نزدیک انسان ہی کہاں ہے کہ انسانی حقوق مانگے؟ نم آنکھوں والا کہنے لگا پنجاب کا ایک سرخیل کہ نام محمد سے شروع اور علی پر ختم ، اس سے درخواست کی میں ٹیکس جمع کرانا چاہتا ہوں لیکن ایکسائز انسپکٹر ٹیکس لینا ہی نہیں چاہتی، اذیت دے کر بس مزا لینا چاہتی ہے، صاحب کہتے ہیں اسے بدل دیا، انکوائری لگا دی مگر سب جھوٹ، تاہم صاحب سے ایک درجہ جونیر سائل کیلئے سعید ثابت ہوا اور مبارک بھی، سچ بھی بولا کہ کم فہم آفیسر ٹیکس لینا ہی نہیں چاہتے، لوگ تو جمع کرانا چاہتے ہیں۔ ہر مرحلے پر پھر ایسے افسر رکاوٹ ہیں ( چونکہ عورت تھی چنانچہ سائل نے بھرم رکھا مگر بالائی سول سرونٹ نے نہیں رکھا)۔ کچھ صاحب اختیار کی وضع داری ظالموں کا بھی بھرم رکھتی ہے، اور کچھ “اختیاری” وطن عزیز میں اپنے فرض منصبی کیلئے بھی سوتیلے ہوتے ہیں۔ قصہ مختصر وہ آفیسر جنہیں اپنے ٹرانسفر کاخوف ہوتا ہے نہ انکوائری کا، نہ اپنے باس کا بھرم، اور نہ عدالت اور قومی خزانہ کا ان کے جلوہ کی دراصل ڈی جی یا سیکرٹری تک پہنچ ہوتی ہے! خیر، جلوؤں سے خیرہ آنکھیں شہری کے وقار اور منصب کے افتخار کو کیا جانیں؟
ان حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ ٹیکنیکل محکموں کے نان ٹیکنیکل (بیوروکریٹ) ڈی جی کو عام سپاہی سے انسپکٹر تک، عام آفیسر سے ڈائریکٹر تک تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں جب تک اسے قانون یا اصول کا فہم اس کے قریب پھٹکنے لگتا ہے تب تک اسے کسی اور محکمہ کے “محاذ” پر نئے “تجربات” سے کھیلنے کیلئے بھیج دیا جاتا ہے! کوئی چیف سیکرٹری، کوئی آئی جی پولیس یا کوئی عدالت یہ بتا سکتی ہے کہ ایسے قحط الرجال اور محکموں کے خستہ حال میں گلشن کا کاروبار کیسے چلے؟ وہ جو عرض کیا نا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس! کسی پروفیسر، کسی دانشور، کسی وضع دار عام شہری کا جائز کام نہیں ہوگا ، اور انہی بت پرستوں اور آتش پرستوں کا جو ٹھڈا مار کر دروازہ کھولے، بھرا بٹوہ رکھے، کالے کوٹ والا ہو یا ایک اکھڑ پَتر کار اس کا شاید ناجائز بھی جائز ہو !

راقم اس بات پر یقین رکھتا ہے اگر قوم اور اکابرین نے “بیورو اشرافیہ” سمیت ہیومن رائٹس، ارتقائی ضروریات اور گلوبل ویلج کے باسی ہونے کو بالائے طاق رکھا تو ہم دائروں ہی کے سفر میں رہیں گے، تھانوں میں دیکھیں اور موٹر ویز پولیس پرکھیں پولیس افسر کا زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایکوسسٹم کے اثرات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جب تک ہسپتال، یونیورسٹی اور منسٹری کا سربراہ پروفیشنل نہیں ہوگا بناؤ نیچے تک سرایت نہیں کرے گا، کوڑھ کی کاشت اور تساہل کے بیج ہی ہوں گے.

کئی ماہ بعد کسی معاشرتی بگاڑ کے گراس روٹ کو سپردِ قلم کرنا کتھارسس ہی سمجھ لیجئے، ورنہ سیاسی پہلوؤں ہی میں دامن الجھا رہتا ہے۔ خیال تھا پوسٹ کورونا میں کمیونٹی میڈیسن، پبلک ہیلتھ پر فوکس کریں گے، بلینڈڈ ایجوکیشن فروغ پائے گی، مرکزی اور صوبائی ٹیکس کلچر بہتر ہوگا، لینڈ مافیا اور جاگیردار سے ٹیکس نکالا جائیگا نہ کہ صرف پہلے ٹیکس پئیرز ہی کو نچوڑا جائے گا۔ افسوس ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ پالیسی ساز اور بیوروکریسی وطن دوست نہیں خود غرض ہیں، متذکرہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، انکم ٹیکس اور پولیس یا بیوروکریسی سی لیڈر شپ ہوگی تو مثبت نتائیج خواب ہی یو سکتے ہیں۔ بناؤ کی سرچ اور ریسرچ کے بجائے پلیجرزم اور اقربا پروری میں غرق ذہن کون بدلے؟ یہ سبھی چیف سیکرٹری، کمشنرز اور ڈی جی قوم پر بوجھ ہیں ضلعی سربراہان کے بعد صوبائی سربراہان کی صورت میں سیکرٹری کافی ہیں اور یہ براہ راست وزیر اعلیٰ سے روابط میں ہوں وزیرِ اعلیٰ کا ایک واجبی سا اسٹاف ہو، پرنسپل سیکرٹری کی بھی ضرورت نہیں، بیسیوں سیکرٹری پانی میں مدھانی ڈالے رکھنے کے سوا کچھ نہیں کرتے سو وزیر محکمانہ سربراہی کی ذمہ داری خود لیں، بلاجواز ایک دوسرے کے کندھے کا استعمال کیوں؟

“پڑھے لکھے” افسران صرف ریاست سے مخلص ہوں یہ کم نظر آتا ہے۔ لگتا ہے افسران کے پروفیشنلزم اور نئی تقرریوں پر خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس پر آتش یاد آ جاتے ہیں: بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا /جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا! کچھ عرصہ قبل اسی حکومت میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ممبر پلاننگ کمیشن لگتے دیکھا جو اس سے قبل جب ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر تھا تو اس پر بدعنوانی کی سنگین انکوائریاں تھیں حتی کہ اس کا کیس نیب کو بھیجنے کی سفارشات تھیں۔ احسن اقبال جیسے دانشور وزیر دامن میں جگہ دینے پر کیسے مجبور ہوئے؟ ابنِ انشاء کہا تھا: “جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں ۔۔ وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں ۔۔ ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے ۔۔ سب مایا ہے”

المیہ یہ کہ پاکستان کے قیام کے چند ہی سال سے سرخ فیتے نے یہ معاشرتی رویے کو ایسی تراش خراش دے دی کہ ججز، جرنیل اور بیوروکریسی تو ہمیشہ دودھ کے دھلے ہیں، ا صرف سیاستدان برا ہے۔ حقیقتا جمہوریت کے خلاف یہ ایک ازل سے پروپیگنڈہ ہے حالانکہ ملکوں کا قیام اور اٹھان سیاسی قیادت ہی ہر منحصر ہوتا ہے ان کا نعم البدل نہیں۔ سول سرونٹ کی اصطلاح یا فلسفہ آج تک خود سول سرونٹ نہیں سمجھا، سمجھتے ہیں وہ عوام کیلئے نہیں تاہم عوام ان کیلئے ہیں۔ اس رویے سے اضطراب اور تشدد کو کئی گنا بڑھوتری ملی۔ جب تک افسرانہ ظلمت میں حقیقی اصلاحات کا اجالا نہیں ہوتا تب تک ممکن ہی نہیں محکمے بہتر ہوں، ٹیکس کلچر فروغ پائے یا قانون کا بول بالا ہو، متعدد افسران ہی قانون پر عمل اور ادائیگی ٹیکس کی راہ کی دیوار ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں