Areeba Gul

گنتی کے چند روز ہی تو ہیں

قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ ربّ العزت نے روزوں کی فرضیت کے حکم کے بعد کتنے بہترین انداز میں تسلی دی کہ ’’ گنتی کے چند روز ہی تو ہیں‘‘ لیکن برق رفتاری سے گزرتے یہ شب و روز ہمیں اللہ ربّ العالمین کے فرمان ’’ ایام معدودات‘‘ کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ یہ گنتی کے چند دن بجلی کی سی تیزی سے گزرتے جارہے ہیں ۔ ان ایام سے وہی انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس کے لمحہ لمحہ کی قدر کرے اور انھیں غنیمت جان کر اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرے ۔ یہ وقت نیکیاں سمیٹنے اور اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنے کا ہے ۔ اگر کسی مال میں سیل لگی ہو وہاں نہایت ہی کم داموں میں اعلی معیار کی چیزیں مل رہی ہو تو کیا اس مال میں رش نہیں ہوگا ؟؟ بے شک ہوگا لوگوں کا ہجوم اس قدر ہوگا کہ ان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اس فانی دنیا کی وقتی چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے جب انسان اتنی تگ ودود کرسکتا ہے تو کیا باقی رہنے والی نعمتوں، فضیلتوں، اور ربّ العالمین کو راضی کرنے کے لیے محنت اور کوشش نہیں کرسکتا ؟؟ بالکل کرسکتا ہے ، اور اسے کرنا ہی چاہیے کیونکہ اسی میں اس کی دنیا و آخرت کی بھلائی مضمر ہے ۔ اللہ ربّ العالمین کا فرمان ہے ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ‘‘سو چئے کتنی عظیم عبادت ہے روزہ جس کی جزا ربّ العالمین نے خود اپنے ذمہ لی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘‘ رمضان المبارک صبر کا مہینہ ہے ، اللہ ربّ العالمین رمضان المبارک کے ذریعے بندہ میں تقوی پیدا کرتا ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے شب و روز میں رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے ۔ اور اسی مہینہ میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مہینہ کو پاتے تو اس میں خوب عبادات کرتے ، صدقہ و نوافل ادا کرتے، لوگوں کے ساتھ اور بھی زیادہ احسان کا معاملہ فرماتے ، اور جب اس ماہ کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو مزید عبادت کے لیے کمر کس لیتے خود بھی جاگتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی اس کی تاکید کرتے۔ ہمارے ہاں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ پہلے پہل تو رمضان المبارک کا خوب اہتمام کیا جاتا ہے روزے،نوافل،صدقات، تراویح نہایت انہماک سے ادا کی جاتی ہے ۔ لیکن جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں جوش و خروش میں کمی آجاتی ہے ۔ ایسا رویہ نہایت ہی غلط ہے بلکہ شروع سے آخر تک وہی جذبہ جوش و خروش ہونا چاہئے اور اس میں وقت گزرنے کے ساتھ مزید اضافہ ہونا چاہئے ۔ اور پھر رمضان المبارک کی یہ سعادتیں ہمیں ایسے وقت میں نصیب ہوئی ہیں جہاں ہر وقت خوف و ہراس کا ماحول ہے، یوں تو زندگی کا ویسے بھی کوئی بھروسہ نہیں لیکن اب ایسے لگتا ہے جیسے موت ہر وقت ساتھ ہے کب کس کی سانسیں دبوچ لے بتا نہیں سکتے۔ ہر کوئی مہنگائی ، بے روزگاری ، ژالہ باری ، طوفانی بارشوں ، زلزلہ کی آفت سے پریشان ہے ۔ مصیبتوں کا ہر ایک کو سامنا ہے ،پھر ایسے میں تو اور ضروری ہوجاتا ہے کہ انسان اپنے خالق کائنات سے جڑے، اس کے سامنے اپنی عاجزی اپنی بے بسی کا اظہار کرے ، خوب توبہ و استغفار کرے۔ خالق کو بتائے کہ وہ اپنے گناہوں پر کس قدر شرمندہ ہے ۔ اس سے بخشش طلب کرے ،اسے راضی کرنے کی کوشش کرے۔ اب تو انسان کے پاس مصروفیت کا کوئی جواز بھی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فانی دنیا کی مصروفیتوں میں گم انسان کوفراغت بخش دی ہے اسی لیے اب تو اللہ ربّ العالمین سے اپنا تعلق مضبوط بنانے کا ایک اچھا موقع ہے ۔
لہٰذا ان چند دنوں کی قدر کرلیں اور انھیں منصوبہ بندی کے ساتھ گزاریں یہ بڑے قیمتی دن ہیں جو دوبارہ نہیں مل سکتے، کوئی نہیں جانتا کہ آنے والے سال میں وہ ماہ صیام کو پاسکے گا یا نہیں۔ کیونکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کی سعادتیں پانے سے پہلے ہی اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے ۔ انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ اس ماہ مبارک سے محروم رہ جائیں گے ۔ خود کو خوش نصیب سمجھئے کہ اللہ رب العالمین نے آپ کو ان قیمتی گھڑیوں سے نوازا ہے اس پر اس رب العالمین کا شکر ادا کریں اور اپنے اس وقت کو زیادہ سے زیادہ عبادت میں گذاریں ۔ اہم کاموں کی لسٹ بنا لیں جو ابھی ضروری ہے بس انہی کاموں کو انجام دیں ایسے کام جو رمضان کے بعد بھی ہوسکتے ہیں انہیں بعد کے لیے رکھ دیں۔ غیر ضروری اور طویل گفتگو سے اجتناب کریں۔ چھوٹی سی چھوٹی نیکی کو بھی معمولی نہ سمجھیں نیکی کا جو موقع ملے اسے ادا کریں۔افطاری کے لیے نئی نئی ڈش بنانے میں اپنا وقت صرف نہ کرے کم وقت میں بننے والے کھانوں پر اکتفا کریں۔ کام کاج کے دوران اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔ سوشل میڈیا سے اپنے آپ کو دور رکھیں کیونکہ یہ وہ چور ہے جو آپ کے وقت کو چوری کرلے گا۔ نماز میں خشوع و خضوع پیدا کریں، قرآن کریم کی تلاوت اس پر غور وفکر کریں۔ اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت، لہو لعب ، لڑائی جھگڑے سے پاک رکھیں، اور اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔ روزہ کی حالت میں دن کے وقت بہت زیادہ نہ سوئیں اس سے بھی آپ دن کا زیادہ حصہ نیند میں گنوا دیں گے اور عبادت کے لیے وقت نہیں ملے گا۔ پس جب کبھی سستی غالب آئے قرآن کریم کی اس آیت کو دہرالیں ’’ایام معدودات‘‘ گنتی کے چند روز ہی تو ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں