عرفان اطہر قاضی

نظام دین کی بیٹھک

نظام دین کی بیٹھک میں ہرکوئی یہ سوال پوچھتا ہے کہ 9 مئی کے سیا ہ دن جو لوگ، دفاعی تنصیبات، عمارتوں پر حملہ آور ہوئے اور آگ لگائی، پہلے پولیس پھر فوج نے ان سیاہ کاروں کو روکا کیوں نہیں؟ سیاہ کاروں کے سہولت کاروں کی اب بھی یہی رائے ہے کہ یہ سب کچھ عمران خان اور تحریک انصاف کو شکنجے میں لانے اور پابندی لگانےکیلئے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ رائے عامہ کا رُخ زبردستی موڑنے کی کوشش میں تسلسل کے ساتھ ایسی من گھڑت اور بے سروپا ویڈیوز توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہیں کہ جن میںقومی سلامتی کے اداروں کو ظالم اور ملزم پارٹی کو مظلوم بنا کر پیش کیاجا رہا ہے۔ جذبات کی بجائے ذرا غوروفکر اور تحقیق سے ان ویڈیوز کا جائزہ لیں تو اکثریتی ویڈیوز کا تعلق پاکستان سے بالکل نہیں ہے۔ زیادہ تر ویڈیوز پرانی ہیںاور ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر، افغانستان یا ایسے ممالک سے ہے جہاں قابض افواج یا مقامی پولیس اہلکار تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح 9مئی کے واقعات میں گرفتارخواتین کے بارے میں ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ خدانخواستہ ان سے جیل میں کسی قسم کا ظلم و زیادتی کی جارہی ہے۔ فیس بک، ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نامعلوم خواتین کے جسموں پر تشدد کے نشانات والی گمنام تصاویر شیئر کرکے عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی گرفتار خواتین کی تعداد ایک درجن سے زائد نہیں جبکہ پولیس کو 500سو سے زائد خواتین انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مطلوب ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے ان خواتین کی گرفتاریوںکےبارےمیںانتہائی محتاط ہیںا گر چہ ان کےپاس 9مئی کی سیاہ کاریوں میں ملوث افراد کے بارے میں آڈیوز ویڈیوز اور تصاویر کی شکل میں ٹھوس اور واضح ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے ٹائیگرز کو ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر مائل کیا۔ افسوس صد افسوس کہ ریاست سے براہ راست ٹکرانے والے یہ عناصر گرفتار بھی ہوئے انہیں نظام دین کی بیٹھک میں انصاف کیلئے پیش بھی کیا گیا لیکن انہیں دھڑا دھڑ ضمانتوں پر ضمانتیں دے کر رہائی کے پروانے تھما کر انصاف کے ساتھ پورا انصاف کیا۔ اول الذکر سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ جب نظام دین کی بیٹھک ایک مخصوص جرائم پیشہ گروہ کے جرائم کی پردہ پوشی کرے گی جب پولیس کی وردیاں سر عام اتاری جائیں گی اور سر پھاڑے جائیں گے، زمان پارک کے اندر سے پٹرول بم پھینکنے والوں کو حفاظتی ضمانت میں لے لیا جائے گا اور سارے جرائم کے مرکزی کردار کو ریمانڈ کے دوران اپنی تحویل میں لے کر ریسٹ ہاؤس میں مہمان خاص بنایاجائے گا تو پھر پولیس ان بلوائیوں کو ہنگامہ آرائی سے کیوں روکے گی؟ نظام دین کی بیٹھک میں آج کل انوکھے فیصلے کئے جارہے ہیں، ہنگامہ آرائی میں ملوث ملزم کی گرفتاری پر پولیس افسر کو کھڑے پاؤں معطل کر دیا جاتا ہے جبکہ سابق وزراءکو گرفتار نہ کرنے پر خیبرپختونخوا کے ایک ایس ایچ او کو گرفتار کرلیا جاتا ہے تو ایسے حالات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے آگے بڑھ کر بلوائیوں کو کیسے روکیں گے؟ جہاں تک قومی سلامتی کے اداروں کے ڈسپلن کا تعلق ہے تو ان کے فیصلے اعلیٰ کمان کے تابع ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاک فوج کبھی اپنے عوام کے خلاف کھڑی نہیں ہوئی اور نہ ہی عوام پرگولی چلائی۔ یہ پاک فوج اور عوام کے درمیان محبت، احترام کا وہ مضبوط رشتہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ 9مئی کی سازش کب اور کہاں ،کس نے تیارکی حقائق جلد سامنے آئیں گے۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر نظام دین کی بیٹھک بروقت اور درست فیصلے کرتی اور اتحادی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں ایک مخصوص مقام پر احتجاجی دھرنے کی اجازت کے باوجود آگ اور خون کی ہولی کھیلنے والوں کو سزائیں سنائی جاتیں تو شاید ہمیں 9مئی کا سیاہ دن نہ دیکھناپڑتا۔ طرفہ تماشہ دیکھئے کہ لاہور سے پشاور اور کوئٹہ تک سیاہ کار اپنا نام نہاد انقلاب برپا کرتے رہے۔ انصافیوں کا سربراہ جس ماتحت عدالت کے اندر گرفتار ہوا اسی عدالت نے گرفتاری کو قانونی قرار دیا لیکن ماتحت عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے کالعدم قرار دے دیاگیا۔ انصاف ایک عدالت سے دوسری عدالت میں رُلتا رہا، ایک ہی دن میں اگلے پچھلے تمام مقدمات میں ملزم کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ ملزم صاحب ماتحت عدالت کے اندر بیٹھے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز میں آرمی چیف کو کھلے عام دھمکیاں دیتے رہے۔ نظام دین کی بیٹھک پھر بھی خاموش رہی۔ جواب ایک ہی ہے کہ جب نظام دین کی بیٹھک بروقت انصاف نہیں کرےگی تو پھر فوجی عدالتیں ہی لگانا پڑیں گی۔ رونا کس بات کا؟ پروجیکٹ عمران کی ناکامی میں جہاں خود عمران خان ذمے دار ہیں وہاں ان کے سہولت کار بھی انہیں ڈبونے میں مدد گارثابت ہوئے۔ کاش! عدل و انصاف سے کام لیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ بچپن کا غیر معمولی لاڈ پیار جوانی اور بڑھاپے کا عذاب بن جاتا ہے۔ سبق آموز کہانی کا خلاصہ یہی ہے کہ آئندہ ایسا کوئی بھی پروجیکٹ لانچ کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر ہزار بار غور کرلیجئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں