ارشد اسدی الحسینی

شب قدر کون سی رات ہے ؟

( چند نکات)
اس بارے میں کہ “لیلة القدر”ماہِ رمضان میں ہوتی ہے ، کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن کی تمام کی تمام آیات اسی معنی کا اقتضا کرتی ہیں، ایک طرف تو وہ کہتی ہیں کہ قرآن ماہِ رمضان میں نازل ہوا ہے (بقرہ ۔ ۱۸۵) اور دوسری طرف یہ کہتی ہیں کہ شب قدر میں نازل ہوا ہے (آیات زیر ِبحث)۔
لیکن اس بارے میں کہ ماہِ رمضان کی راتوں میں سے کون سی رات ہے ، بہت اختلاف ہے، اور اس سلسلہ میں بہت سی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ منجملہ : پہلی رات ، سترھویں رات ، اُنیسویں رات، اکیسویں رات ، تیئسویں رات ، ستائیسویں رات اور انتیسویں رات ۔
لیکن روایات میں مشہور و معروف یہ ہے کہ ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے اکیسویں یا تئیسویں رات ہے۔ اسی لیے ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہِ مبارک کی آخری دس راتوں میں تمام راتوں کا احیاء فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔
ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے آیا ہے کہ شب قدر اکیسویں یا تئیسویں رات ہے ، یہاں تک کہ جب راوی نے اصرار کیا کہ ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات ہے اور یہ کہا کہ اگر میں ان دونوں راتوں میں عیادت نہ کر سکوں تو پھر کون سی رات کا انتخاب کروں ۔
تو بھی امامؑ نے تعیین نہ فرمائی اور مزید کہا
“ما اليسر ليلتين فيما تطلب “۔
“اس چیز کے لیے جسے تُو چاہتا ہے دو راتیں کس قدر آسان ہیں “؟ .۱؎
لیکن متعدد روایات میں جو اہلِ بیت کے طریقہ سے پہنچی ہیں، زیادہ تر تیئسویں رات پر تکیہ ہوا ہے، جب کہ اہلِ سنّت کی زیادہ تر روایات ستائیسویں رات کے گرد گردش کرتی ہیں۔ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے فرمایا :
“التقدير فی ليلة القدر تسعة عشر، والابرام فی ليلة احدى وعشرين، والامضاء فی ليلة ثلاث وعشرين “۔
“تقدیر مقدرات تو انیسویں کی شب کو ہوتی ہے ، اور ان کا حکم اکیسویں رات کو، اور ان کی تصدیق اور منظوری تیئسویں رات کو”.۲؎
اور اس طرح سے روایات کے درمیان جمع ہو جاتی ہے ۔ لیکن بہر حال ، اس وجہ کی بناء پر جس کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا ، شب قدر کو ابہام کے ایک ہالے نے گھیر رکھا ہے۔
حوالہ جات:
۱؎ “نور الثقلین”جلد ۵ ص ۶۲۵ حدیث ۵۸۔
۲؎ “نور الثقلین”جلد ۵ ص ۶۲۶ حدیث ۶۲۔

اپنا تبصرہ بھیجیں