Nasir Bashir

نئی مکالماتی محفلیں

بعض ادبی اصطلاحات بہت مشکل ہوتی ہیں لیکن جب ان کا مفہوم ہماری سمجھ میں آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہ تو پہلے سے ہمارے دل و دماغ میں کہیں موجود تھا۔کیتھارسس کی اصطلاح بھی اپنے اندر ایک ایسی ہی حیرت رکھتی ہے۔اسے اردو میں انخلائے جذبات کہتے ہیں۔ہر آدمی کائنات، خدا اور انسان کے بارے میں بہت کچھ سوچتا ہے لیکن بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جذبات کا اظہار کسی نہ کسی شکل میں کر پاتے ہیں۔احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا:
میں کھل کے رو نہ سکا جب تو یہ غزل کہ دی
بچھڑ کے تو نے مگر مجھ سے کیا کیا ہو گا۔
فنون لطیفہ کی ساری شکلیں دراصل انخلائے جذبات کے اظہار ہی کی شکلیں ہیں۔کچھ لوگ رنگوں سے کھیلتے ہیں اور کچھ خاک سے۔کچھ لفظوں سے کھیلتے ہیں اور کچھ سروں سے۔لیکن سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح دلی جذبات کا اظہار کیا جائے۔کسی زمانے میں ریل گاڑیوں،دفتروں اور کارخانوں کے باتھ رومز کی دیواروں پر عجیب و غریب فقرے لکھے ہوا کرتے تھے جنھیں پڑھ کر ہونٹوں پر تبسم کی ایک بے ساختہ لہر دوڑ جاتی تھی اور یہ خیل بھی دل میں پیدا ہوتا تھا کہ ہمارے ہاں کیسے کیسے تخلیقی ذہن موجود ہیں جنھیں اظہار کرنا تو آتا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ نیک اور نازک کام کس جگہ کرنا چاہیے۔دنیا بھر میں چائے خانے اور کافی ہاوسز ان لوگوں کے لیے بنائے جاتے ہیں جو جذبات کا فن کارانہ اظہار نہیں کر سکتے لیکن کرنا ضرور چاہتے ہیں۔ہمارے ہاں لاہور کے پاک ٹی ہاوس کے مقبول ہو جانے کے بعد کچھ چھوٹے شہروں میں ادیبوں، شاعروں، دانش وروں اور صحافیوں کے لیے چائے خانے بنا دیے ہیں جہاں چائے کی پیالیوں میں طوفان اٹھائے جاتے ہیں۔اب جذبات کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا بھی بہترین جگہ ہے۔ہر آدمی جو کچھ سوچتا ہے فیس بک، میسنجر،وٹس ایپ ، ٹویٹر اور یوٹیوب پر کہ ڈالتا ہے۔اس کی سوچ غلط ہوتی ہے یا درست؟ عام لوگ اس کے موافق یا مخالف تاثرات دے کر بتا دیتے ہیں۔اظہار کے نئے ذرائع میسر آ جانے کے بعد باتھ رومز کے در و دیوار پر “تخلیقی” اظہاریے لکھنے والے اب معدوم ہو گئے ہیں۔
چند برس پہلے تک ہمارے ادیب اور شاعر گھروں کے ڈرائنگ رومز میں سجائی جانے والی ادبی محفلوں میں شرکت کرتے، دنیا جہان کی باتیں کرتے،تحسین اور تنقیص ہوتی،بزرگوں کی تعظیم ہوتی اور نئے لوگوں کی تربیت ہوتی۔سید فخرالدین بلے جی اور آر تھری میں واقع اپنے سرکاری مکان کے ڈرائنگ روم میں ادبی تنظیم “قافلہ” کا پڑاوء ڈالا کرتے تھے۔ان کے ہمسائے میں رہنے والے نصرت علی “تخلیقی فورم” کی دھونی رماتے۔سائرہ ہاشمی کے گھر “بزم ہم نفساں” سجتی۔ڈاکٹروزیر آغا لاہور آتے تو سرور روڈ پر واقع اپنی کوٹھی میں اپنے ہم خیال ادیبوں کو چائے پر بلاتے اور مکالمہ کرتے۔انھی کی دیکھا دیکھی کچھ اور ادیبوں شاعروں نے بھی یہ سلسلہ شروع کیا لیکن وہ تسلسل برقرار نہ رکھ سکے اس لیے ان کی محفلیں حافظوں میں نہیں رہیں۔
ادبی مکالموں کی یہ محفلیں ان دنوں بھی ہو رہی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ میزبان اور مہمان بدل گئے ہیں۔پہلے والے لوگ رخصت ہوئے۔نئے لوگ آگئے اور نئے رنگ میں مکالمہ کرنے لگے۔اب چونکہ ادیبوں شاعروں کی جیبیں بھر گئی ہیں اس لیے مکالمے کی یہ محفلیں اب جم خانے،نیرنگ گیلری،آواری،فلیٹیز،پی۔سی، آفیسرز کلب اورڈیفنس کلب میں ہونے لگی ہیں۔پاک ٹی ہاوس اور الحمرا ادبی بیٹھک آج بھی موجود ہیں لیکن ادھر کا رخ اب کم لوگ کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں کالم نگار مظہر برلاس لاہور آئے تو “پلاک” کی ڈی۔جی ڈاکٹرصغرا صدف نے اپنے دفتر میں ان سے مکالمے کی ایک محفل رکھ لی جس میں مجیب الرحمن شامی،شعیب بن عزیز، منصور آفاق،نیلم احمد بشیر،فرحت زاہد،رخشندہ نوید، عمران شوکت،بابر بخاری اور کچھ دیگر احباب موجود تھے۔مظہر برلاس کو میں ان کے زمانہء طالب علمی سے جانتا ہوں۔وہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے اور تب بھی اسی طرح نکتہ تراش اور زندہ دل ہوا کرتے تھے۔اب اسلام کے ایوان ہائے اقتدار کے آس پاس رہتے ہیں اور نئی نئی خبریں نکال کر لاتے ہیں۔ان کے ہر کالم میں کوئی نہ کوئی تازہ خبر ضرور ہوتی ہے۔صغرا صدف نے ان کے سامنے بھنڈی رکھی تو کہنے لگے:جن دنوں آصف علی زرداری نے امریکا میں تھے۔ سندھ کےایک صاحب کی زرداری صاحب سے کہیں ملاقات ہوگئی جو وہاں مقامی ریڈیو سے وابستہ تھا۔اس نے ریڈیو کے لیے زرداری صاحب کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔۔جب اسی انٹرویو میں اس شخص کو پتا چلا کہ زرداری صاحب بھنڈی بہت شوق سے کھاتے ہیں تو اس نے بھنڈی پکائی اور ان کو پیش کر دی۔وہ کئی دن تک یہ بھنڈی نوازی کرتا رہا۔کچھ عرصے کے بعد زرداری صاحب ملک کے صدر بن گئے تو انھوں نے اس بھنڈی نواز کو ریڈیو پاکستان کا ڈی۔جی لگا دیا۔”
ہمارے روشن خیال ادیب فرخ سہیل گوئندی بھی اپنے مقام کار پر اس طرح کی مکالماتی محفلیں سجاتے رہتے ہیں۔چند روز پہلے میں ان کی دعوت پر ان کے دفتر پہنچا تو وہاں خالدشریف، رضی حیدر،امجدطفیل،آمنہ مفتی،طاہرانوارپاشا،مظہرمجوکا پہلے سے موجود تھے۔گوئندی صاحب نے مزے مزے کے قصے سنائے۔کچھ ہم سے سنے۔لذت کام و دہن کا سامان مسلسل فراہم کیا جا رہا تھا۔شاعرہ فرحت زاہد نے جی۔او۔آر میں واقع سول آفیسرز کلب میں نیویارک سے آئے ہوئےاردو اور پنجابی کے منفرد شاعر اعجازحسین بھٹی کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا۔یہاں موجود ادیبوں نے بھی خوب گپ شپ کی۔یہ محفلیں دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ مکالمہ آج بھی جاری ہے۔بس مقام اور کردار تبدیل ہوئے ہیں۔حفیظ ہوشیارپوری نے کہا تھا:
دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گ

اپنا تبصرہ بھیجیں