ارشد اسدی الحسینی

ہفتہ کاعظیم ترین عبادی سیاسی اجتماع ۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
👈 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللہِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۞ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللہِ وَاذْكُرُوا اللہَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۞ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِندَ اللہِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللّٰهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ ۞
👈 اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن والی نمازکے لئے پکارا جائے (اس کی اذان دی جائے) تو اللہ کے ذکر (نمازِ جمعہ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اورخرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو • پھر جب نماز تمام ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل (روزی) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ • اور (کئی لوگوں کی حالت یہ ہے کہ) جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ (ص) کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں آپ (ص) کہہ دیجئے! کہ جو کچھ (اجر و ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشہ اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

🔴 تفسیر 🔴
👈 گزشتہ آیات میں توحید ، نبّوت ، معاد اور دُنیا پرست یہودیوں کی مذّمت کے بارے میں مختصر مباحث آ ئے تھے ، زیر بحث آیات ایک اہم ترین اسلامی فریضہ کے بارے میں ہیں جو ایمان کی بنیادوں کی تقویت کے لیے حَد سے زیادہ تاثیر رکھتا ہے اور ایک لحاظ سے سورة کا ہدف اصلی یہی ہے ، یعنی نماز جمعہ ۔ اور یہ آیات اس کے احکام کو بیان کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہُوئے فرماتا ہے : ” اے ایمان لانے والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان کہی جائے تو ذکرِ خدا (خطبہ و نماز) کی طرف جلدی سے آ ؤ اور خرید و فروخت چھوڑ دو ،یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو”۔(یا اَیُّہَا الَّذینَ اٰمَنُواِذا نُودِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْالٰی ذِکْرِ اللہِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ذالِکُمْ خَیْر لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُونَ )
“نُودی”،”نِدا”کے مادہ سے پکارنے کے معنی میں ہے ۔اور یہاں اس سے مراد اذان ہے ، کیونکہ اسلام میں نماز کے لیے اذان کے علاوہ اور کوئی ندا نہیں ہے جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیت ۵۸ میں آ یا ہے : “وَ اِذا نادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوھا ھزُوًا وَ لَعِبًا ذالِکَ بِانَّہُمْ قَوْم لا یَعْقِلُونَ”۔جب تم لوگوں کو نماز کے لیے پکارتے ہو (اور اذان کہتے ہو) تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اسے کھیل تماشا سمجھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک بے عقل قوم ہیں ۔ اِس طرح سے جس وقت نماز جمعہ کی اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو لوگوں کا فرض ہے کہ وہ کارو بار کو چھوڑ کر نماز کی طرف دوڑ کر آئیں کہ جو اہم ترین ذکرِ خدا ہے ۔
ذالِکُمْ خَیْر لَکُمْ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس موقع پر کاروبار کو چھوڑ کر نماز جمعہ کو قائم کرنا مسلمانوں کے لیے بہت ہی نفع کی بات ہے ، بشرطیکہ وہ اس بارے میں ٹھیک طور پر غور و فکر کریں ، ورنہ خدا تو سب سے بے نیاز اور سب پر مہر بان ہے ۔
یہ جملہ نمازِ جمعہ کے فلسفہ اور فوائد کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے۔ اِس کے بارے میں ہم انشاء اللہ نکات کی بحث میں گفتگو کریں گے ۔ البتہ خرید و فروش کو ترک کرنا ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو ہر مزاحم کام کو شامل ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ جمعہ کے دن کو جمعہ کا نام کیوں دیا گیا ہے ؟ تو اس کی وجہ اس دن لوگوں کا نماز جمعہ کے لیے جمع اور اکٹھا ہونا ہے ، اِس مسئلہ کی ایک مختصر سی تاریخ ہے جو نکات کی بحث میں آ ئے گی ۔ قابل توجّہ بات یہ ہے کہ بعض اِسلامی روایات میں روزانہ کی نماز کے بارے میں یہ آیا ہے :”اذا اقیمت الصلٰوة فلا تأ توھا وانتم تسعون وأتوھاو انتم تمشون وعلیکم السکینة”
جب نماز (یومیہ) کھڑی ہو جائے تو نماز میں شرکت کے لیے دوڑو نہیں اور آرام کے ساتھ قدم اٹھاؤ.۱؎
لیکن نمازِ جمعہ کے بارے میں اوپر والی آیت یہ کہتی ہے :فاسعوا (دوڑ کر آؤ) یہ نماز جمعہ کی حد سے زیادہ اہمیت کی دلیل ہے ۔ ذکر اللہ سے مراد پہلے تو نماز ہی ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ نمازِ جمعہ کے خطبات بھی کہ جن میں خدا ہی کا ذکر ہوتا ہے حقیقت میں نماز جمعہ کا ایک حصّہ ہیں ، اِس بناء پر ان خطبوں میں شرکت کے لیے بھی دوڑ کر آنا چاہیے ۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : “جب نماز ختم ہو جائے تو پھر تم آزاد ہو ،زمین میں چلو پھرو اور خدا کا فضل تلاش کرو اور خدا کو بہت بہت یاد کرو تاکہ تم نجات پاؤ”۔ (فَاِذا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوا فِی الْارْضِ وَ ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہِ وَ اذْکُرُوا اللہَ کَثیرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون)
اگرچہ “ابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہِ ” (اللہ کا فضل طلب کرو)کا جُملہ یا قرآن مجید میں اس سے مشابہ تعبیریں غالباً روزی طلب کرنے اور کسب و تجارت کے معنی میں آ ئی ہیں ، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس جُملہ کا مفہوم وسیع ہے اور کسب و کار اس کے مصادیق میں سے ایک ہے ،اِسی لیے بعض نے عیادت ِ مریض ،زیارت ِ مومن ، یا تحصیل ِ علم و دانش کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے ، اگرچہ یہ ان میں بھی منحصر نہیں ہے ۔
یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ “زمین میں پھیل جانے” اور “روزی طلب کرنے کا امر”امرِ وجُوبی نہیں ہے ،بلکہ اصطلاح کے مطابق یہ”امر بعد از حظر”و نہی ہے اور جواز کی دلیل ہے ، لیکن بعض نے اس تعبیر سے یہ مطلب لیا ہے کہ نمازِ جُمعہ کے بعد روزی کی تحصیل و طلب ایک مطلوبیّت اور برکت رکھتی ہے۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر(ص) نمازِ جمعہ کے بعد بازار میں تشریف لے جاتے تھے ۔
“وَ اذْکُرُوا اللہَ کَثیرا” کا جُملہ ان تمام نعمتوں کے لیے جو خُدا نے انسان کو دی ہیں ، خدا کو یاد کرنے کی طرف اِشارہ ہے اور بعض نے یہاں “ذکر” کو “فکر “کے معنی سے تعبیر کیا ہے ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ تفکر ساعة خیرمن عبادة سنة ایک ساعت غور و فکر کرنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے.۲؎
اور بعض نے اس کو بازاروں میں مُعاملات کے وقت ، خدا کی طرف توجّہ اور اصُولِ حق و عدالت سے انحراف نہ کرنے سے بھی تعبیر کیا ہے ۔ لیکن واضح ہے کہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جوان تمام مطالب کو اپنے دامن میں سموئے ہُوئے ہے۔ یہ بھی مسلم ہے کہ “ذکر” کی روح فکر ہے اور وہ ذکر جو فکر کے بغیر ہو لقلقۂ زبانی سے زیادہ نہیں اور جو بات فلاح و نجات کا سبب ہے وہ وہی ذکر ہے جو تمام حالات میں غور و فکر کے ساتھ ہو ۔ اصولی طور پر بار بار “ذکر” کرنے سے خُدا کی یاد انسان کی جان کی گہرائیوں میں راسخ ہو جاتی ہے ،اور غفلت اور بے خبری کی جڑیں جل جاتی ہیں جو ہر قسم کے گناہ کا اصلی عامل ہوتی ہیں۔ پس یوں انسان فلاح و نجات کے راستے پر چلنے لگتا ہے اور لعلکم تفلحون کی حقیقت حاصل ہو جاتی ہے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں ان لوگوں کو جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کو نماز جمعہ کے وقت چھوڑ دیا اور آنے والے قافلہ سے مال خرید نے کے لیے بازار کے طرف بھاگ کھڑے ہُوئے تھے ،شدّت کے ساتھ ملامت کرتے ہُوئے کہتا ہے : “جب وہ کوئی تجارت یا کھیل تماشہ کی بات دیکھتے ہیں تو پراگندہ ہو جاتے ہیں اور آپ کو (نمازِ جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے دوران) کھڑا ہوا چھوڑ کر چل دیتے ہیں” ۔(وَاِذا رَأَوْا تِجارَةً اوْ لَہْواً انْفَضُّواِلَیْہا وَ تَرَکُوکَ قائِمًا)
“لیکن ان سے کہہ دیجیے کہ جو کچھ خُدا کے پاس ہے وہ لہو و لعب اور تجارت سے بہتر ہے اور خدا بہترین روزی دینے والا ہے ” ۔(قُلْ ما عِنْدَ اللہِ خَیْر مِنَ اللَّہْوِ وَ مِنَ التِّجارَةِ وَ اللہُ خَیْرُ الرَّازِقینَ )
نماز جمعہ میں حاضر ہونے اور پیغمبر (ص) کے مواعظ و نصائح سُننے سے جو خدائی اجرو ثواب اور برکتیں اور معنوی و روحانی تربیّت تمہیں حاصل ہوتی ہے ۔ان سب برکات کا کسی دوسری چیز کے ساتھ مقابلہ نہیں ہو سکتا ۔اگر تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ تمہاری روزی منقطع ہو جائے گی تو تم غلطی پر ہو۔ خدا بہترین روزی دینے والا ہے ۔
لہو کی تعبیر ،طبل اور ان تمام دُوسرے آلاتِ لہو کی طرف اشارہ ہے جو وہ لوگ مدینہ میں کسی نئے قافلہ کے وارد ہونے کے وقت بجایا کرتے تھے ۔یہ ایک طرح سے ان کے آ نے کی خبر اور اعلان بھی ہوتا تھا اور مال و متاع کو بیچنے کے لیے تشہیر بھی ،جیسا کہ وہ منڈیاں اور بازار ، جو مغربی طرز کے ہیں ، ان میں بھی اس کے نمونے دکھائی دیتے ہیں ۔
“انفضوا”کی تعبیر ،پراگندہ ہونے ، نمازِ جُمعہ سے منصرف ہونے اور قافلہ کا رُخ کرنے کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ جس وقت “وحیہ” کا قافلہ مدینہ میں وارد ہوا (اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا) تو اس نے طبل اور دوسرے آلاتِ لہو کے ساتھ لوگوں کو بازار کی طرف بُلایا۔ مدینہ کے لوگ ،یہاں تک کہ وہ مسلمان بھی جو مسجد میں پیغمبر (ص) کا خُطبہ جمعہ سُن رہے تھے ، اس کی طرف بھاگ کھڑے ہُوئے اور مسجد میں صرف تیرہ مرد اور ایک روایت کے مطابق اس سے بھی کم افراد باقی رہ گئے۔
“الیھا ” کی ضمیر تجارت کی طرف لوٹتی ہے ، یعنی وہ مال تجارت کی طرف دوڑ گئے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لہو و لعب ان کا اصلی ہدف نہیں تھا بلکہ وہ تو قافلہ کے وارد ہونے کے اعلان کی ایک تمہید تھی ، یا مال تجارت کے پروپیگنڈہ میں روز پیدا کر نے کے لیے تھا ۔
حوالہ جات:
۱؎روح المعانی جلد ۲۸ص۹۰۔
۲؎مجمع البیان جلد ۱۰ص۲۸۹۔
۳؎مجمع البیان جلد ۱۰ص۲۸۶۔
۴؎مجمع البیان جلد ۱۰ ص۲۸۶۔
📚( تفسیر نمونہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں