نعیم مسعود

سیاسی گناہ پیچھا کرتے ہیں!

ورغلانا ، بہکانا اور الزام لگانا جب کسی سیاست کے جسم و جان بن جائیں تو پھر ایسی سیاست کو باہر سے دشمنوں کی ضرورت نہیں رہتی، ایسا ’’بیانیہ‘‘ ہی کافی ہوتا ہے!
بات کوئے یار، تجارت اور جاگیرداری سے ڈیپوٹیشن پر آئے سیاستدان دانوں کی نہیں کیونکہ ان کا بیانیہ مستعار لیا ہوتا ہے یا اندھی تقلید تاہم جینوئن سیاست دان غصے، لالچ اور انتقام پر کنٹرول رکھتا ہے۔ جب نظریہ یا دین سیاست کی آبیاری کر رہے ہوں تو چنگیزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا فقط خدمت بچتی ہے۔ جو باتیں تو بغاوت کی کریں مگر سانس بھی اجازت سے لیں ان کی سیاست کو خدمت یا عبادت کہنا نامناسب ، ان کی بات وہی ہے ڈیپوٹیشن پر آئے اسائنمنٹ ورکر۔ ذرا خود ہی سوچئے ریاست اور حقوقِ انسانی کبھی چھٹی پر جاتے ہیں؟ جب یہ نہیں جاتے تو سروسز دینے والے کیسے چھٹی پر جاسکتے ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں خواتین کا مصیبتیں سہنا اچھا نہیں لگتا مگر جب وہ سیاسی عہدےسے لطف اندوز ہوتی ہیں انہیں پھر سیاسی نشیب میں آدھی گواہی کیوں یاد آتی ہے؟ کیا آدھی قومی و صوبائی اسمبلی نشست اور آدھی وزارت پر اکتفا ہوتاہے؟ باوجود اس کےڈاکٹر یاسمین راشد ہوںیا ڈاکٹر شیریں مزاری ، ان کو سیاسی تکلیف دینے کی سب پارٹیوں کی’’غلطی اور جرم‘‘ کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے لیکن نصرت بھٹو کا سر پھٹنے اور بےنظیر بھٹو پر لاٹھی چارج کی بارش بھی کسی کو یاد ہے یا مطالعہ پاکستان صرف 2010 سے 2023 تک ہی رہ گیا ہے؟
سانحہ 9 مئی کو سانحہ نہ بھی تصور کریں، یہ صداقت عامہ ہے اگر عمران خان پس دیوار زنداں چلے جاتے ،منظر پر زیادہ نمودار ہوتے اور ان کے فواد بھی فولاد ہوتے۔ اگر شیریں مزاری پر سیاسی صعوبتوں کی یلغار مان بھی لیں لیکن اس کی صاحبزادی نے جو’’این آر او پریس کانفرنس‘‘سے دو روز پہلے کہہ دیا تھا کہ عمران خان کو اپنا اور اپنی بیوی کے سوا کسی کا خیال نہیں، تو اس بات کو آسانی سے پیوندِ خاک کرنا یا ہضم کرنا آسان کام نہیں! بہرحال سیاسی گناہ پیچھا کرتے ہیں!
صدقے جائیں سابق گورنر لطیف کھوسہ کے کل ہمارے سنگ ایک شو میں فرما رہے تھے سانحہ 9 مئی کا ایک پس منظر ہے اس پر کمیشن بننا چاہئے! حقیقت میں وہ وکالت فرما رہے تھے کہ سب قصور پی ڈی ایم ہی کا اور حملہ آور معصوم ہیں۔ ان کے طرزِ تکلم میں ہزار وکیلانہ اسٹائل سہی مگر مطلب ان کا پی ڈی ایم کے خلاف فیصلہ دینا ہی تھا۔ میں ان سے گزارش کرتا ہوں وہ پاس کریں یا برداشت کریں، انہیں اگر پی ڈی ایم حکومت میں حصہ نہیں ملا تو اس میں ان کے بھی سیاسی گناہ پیچھا کر رہے ہیں کہ وہ اچھے گورنر پنجاب ثابت نہیں ہوئے تھے لیکن پیپلزپارٹی چھوڑنے کے واضع اعلان میں ہو سکتا ہے انہیں بابر اعوان کی طرح کوئی میٹھا پھل مل جائے! رہی بات کمیشن بنانے کی تو وہ جو آڈیو لیکس کا کمیشن، اس پر کیوں اعتراض ہے؟ گر وہ غیر آئینی ہے تو اس کی قیادت بھی سپریم کورٹ ہی کے پاس ہے۔ لطیف کھوسہ کی مان بھی لی جائے تو آڈیو لیکس کا کیا عدالتی اور عادلانہ پس منظر نہیں؟ یا پھر مان لیں کہ 2010 سے مسلسل صرف ایک شخص کی بدولت سارے قانون داخل دفتر ہیں اور صرف نیوٹن کا تیسرا قانون چل رہا ہے۔
فقیر یہ مانتا ہی نہیں کہتا بھی کہ پی ڈی ایم حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا لیکن اس اقتصادی حشر نشر کے بھی عمران خان کلیدی ہیرو ہیں، پی ڈی ایم سائیڈ ہیرو اور عادل ذی وقار ولن۔ معیشت کا قتل صرف پی ڈی ایم کے ہاتھ پر تلاش کرنے والے چونکہ سیاسی جنت میں رہتے ہیں لہٰذا وہ فرشتہ خان کے دستِ مبارک پر اسے تلاش کرنا عارفانہ جرم سمجھتے ہیں۔ بہت پہلے عرض کی تھی سیاسی فیصلوں کو اپنے گھر میں رکھیں فوجی عدالتوں تک نہ پہنچائیں بھلے ہی یہ آئینی ہے۔ لیکن جنہوں لوگوں کی بہنوں کو چاند رات جیل پہنچایا ہو، احسن اقبال کے کیس سے راقم سو فیصد آشنا تھا، اگر احسن اقبال جیسے سے کوئی عمران خان کا دی بیسٹ فرینڈ بھی آشنا ہوتا تو وہ اسے ظلم سمجھتا، احسن اقبال کا قصور صرف یہ ہے کہ اسے اس سیاسی و ذاتی دشمن اور حاسد بھی کرپٹ نہیں سمجھتے۔ کیا شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم اور جہازوں کا مالک ہوتے ہوئے بھی کسی سے مرسڈیز کا تقاضا کرتا رہا؟ زرداری صاحب، نواز شریف، خورشید شاہ اور مریم نواز کی بات تو فی الحال چھوڑ ہی دیتے ہیں۔خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق برسوں پابند سلاسل رہے اور سو فی صد ناجائز رہے۔ کس نے رکھا؟ انہوں نے پارٹی چھوڑی؟ دراصل وہ گنہگار نہیں تھے جب جیل میں ان کا سیاسی ضمیر جاگتا وہ اور وفادار ہوتے لیکن فواد اور چوہان کے ضمیروں نے جاگنا تھا تو یہی مبارک کام ہونا تھا جو ہوا…کہ سیاسی گناہ پیچھا کرتے ہیں!
اجی اس پر حلف دینے کیلئے تیار ہیں کہ عمران خان لیڈر ہے اور مقبولیت بھی کمال ہے، محب وطن بھی ہے مگر اپنی نرگسیت کے حصار کے سبب خود کو اوور اسٹیمیٹ اور مقتدر کو اَنڈر اسٹیمیٹ کرنے غلطی ضرور کی ہے۔ ہاں وہ معاملے کو سیاست دان سیاسی چارہ جوئی ہی میں کیسے رکھتے جب سابق وزیراعظم انسانی حقوق کی محبت میں دیارِ غیر میں بسنے والوں کو کہتے رہے واپس جاکر ان کی جیلوں سے اے سی چھین لوں گا، ویسے خان نے اے سی دئیے کس کس کو تھے؟ کیا وہ سب سیاسی ملزم نہ تھے؟ گویا سیاسی گناہ اب پیچھا کیسے چھوڑیں؟ خان کو صف اول کا سیاست دان سمجھنا مصدقہ ہے لیکن خان کو فرشتہ سمجھنے کی غلطی سیاسی گناہ تھا، اور ہے۔ القادر سے پوچھ لیجئے!
سیاست دان جی! جاگتے رہیے عدالتوں پر نہ رہئے وہ سول ہوں یا فوجی ورنہ گناہ وہاں بھی سب جماعتوں کا پیچھا کرتے رہیں گے، شاہ محمود قریشی یا کسی لطیف کھوسہ و اعتزازاحسن یا علی ظفر و علی زیدی و عمران اسماعیل پر بھی نہ رہئے۔ اسد عمر، پرویز خٹک، محسن لغاری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، پرویز رشید ، مرتضیٰ جاوید عباسی ، آفتاب شیرپاؤ، غفور حیدری، اختر مینگل وغیرہ اور ایم کیو ایم اور اے این پی کی دانشمند قیادت کو اکٹھے بٹھائیں بلاوجہ پانی میں مدھانی نہ چلائیں، کوئی میثاقِ جمہوریت کشید کریں کہ قوم سرخرو ہو، ورنہ سیاسی گناہ پیچھا کرتے رہیں گے!

اپنا تبصرہ بھیجیں