محمد ارشد جیلانی

امدادباہمی: معاشی انقلاب کی تحریک

آج دنیا کی تمام بڑی شخصیتیں اور اہل دانش اس بات پر متفق ہیں کہ امداد باہمی ایک ایسی تحریک ہے جو ہر ملک کی دیہی اور شہری آبادی کے لیے خوشحال زندگی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یوں تو دنیا میں کئی اقسام کے ادارے فلاح و بہبود کے کاموں میں ہمہ وقت مصروف ہیں، کسی کا دائرہ کار ملکی ہے تو کسی کا بین الاقوامی ، اس لحاظ سے ان اداروں کے قیام کی افادیت مسلمہ ہے۔ دنیا میں انسان تنہا کوئی رفاہِ عامہ کا کام موثر طریقے سے سرانجام نہیں دے سکتا، اسے ہر حالت میں دوسروں کا تعاون درکار ہوتاہے ۔ چاہے یہ ملکی سطح کا ہو یا بین الاقوامی، ویسے بھی انسان کو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ بغیر رنگ و نسل دینا چاہیے ۔ حالات و واقعات کے مشاہدات سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا بھر میں ایک قوم دوسری قوم اور ایک ملک دوسرے ملک سے کسی نہ کسی صورت میں امداد اور تعاون کی اپیلیں کرتے رہتے ہیں۔انٹرنیشنل کوآپریٹو الائنس (ICA)نے سالانہ کوآپریٹو ڈے 2023ء کے بارے اپنے پیغام میں کہا کہ 1923ء میں کوآپریٹو تحریک کے وجود میں آنے کے بعد دنیا بھر کے کوآپریٹران سوسال سے یہ دن مناتے آ رہے ہیں۔ اس سال یہ دن کوآپریٹو کا 29 واںعالمی دن ہو گا ۔ جب سے اقوام متحدہ نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ کوآپریٹو کی تحریک کا یہ 101واں سالانہ دن ہو گا۔ انٹر نیشنل کوآپریٹو الائنس (ICA) ’’کوآپریٹو فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ‘‘Cooperatives for sustainable developmentکے تھیم کے تحت لوگوں کو مدعو کرتا ہے کہ آئیں اور دنیا کو دکھائیں کہ کوآپریٹو اقتدار اور اصولوں پر وضع کردہ کوآپریٹو کا نظام کس طرح پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل میں اس کے DNAکے طور پر کام کرتا ہے،نیزیہ سالانہ دن عالمی معیشت میں کوآپریٹو کی اہم شراکت اور ایک انتہائی پائیدار مستقبل کی تعمیر میں ان کے کردار کو اُجاگر کرتا ہے۔ اعتماد کی بحالی اور امید کی کرن کو اُجاگر کرنے کیلئے ہمیں تعاون اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ تقریباََ دو صدیوں سے کوآپریٹرز اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔’’ ICAدنیا بھر کے کوآپریٹرز کو اس بات کو پھیلانے کیلئے مدعو کرتا ہے کہ ہمارا انسان پسند کاروباری ماڈل کس طرح اپنی مدد آپ ، خود ذمہ داری ، جمہوریت ، مساوات، غیر جانبداری، یکجہتی، ایمانداری، کھلے پن، سماجی ذمہ داری اور دوسروں کی دیکھ بھال کی اخلاقی اقدار سے متاثر ہو کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں کام کرتے ہوئے معیشت کے بہت سے مختلف شعبوں میں کوآپریٹرزنے خود کو اوسط سے زیادہ بحرانوں کی صورت میں اپنے آپ کو زیادہ لچکدار ثابت کیا ہے۔ کوآپریٹوز کے ادارے اقتصادی شراکت کو فروغ دیتے ہیں، ماحولیاتی انحطاط اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لڑتے ہیں، اچھی ملازمتیں پیدا کرتے ہیں، غذائی تحفظ میں حصہ ڈالتے ہیں، مالیاتی سرمائے کو مقامی کمیونٹیز تک محدود رکھتے ہیں، اخلاقی اقدار کی زنجیریں بناتے ہیں اور لوگوں کے معاشی حالات اور سلامتی کو بہتر بنا کر مثبت کردار ادا کر کے اس میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ کوآپریٹو واحد انٹر پرائزماڈل ہے جس میں عالمی سطح پر متفقہ اصول ہیں جو مشترکہ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر قائم ہیں۔عالمی سطح پر یہ دن منانا اس لیے بھی شروع کیا گیاکہ کسی انسان کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے بین الاقوامی تحریک سے وابستہ اقوام اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پختہ یقین اورکامل اعتماد سے اپنے امداد باہمی اداروں کو محنت ، دیانت اور لگن سے زیادہ سے زیادہ موثر اور فعال بنائیں تحریک امداد باہمی کے فلسفےکا سرچشمہ ایک دوسرے کی مدد کرنا اور کاروبار چلانے پر عمل کرنا ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سچائی دیانتداری اور بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر خلوصِ دل سے تحریک امداد باہمی کو پاکستان میں زیادہ فعال اور موثر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔امدادباہمی کی تحریک ملک میں معاشی انقلاب برپا کر سکتی ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے لائق اور جو ان سائنسدان جو جذبہ ،جوش اور بلند ارادوں کے مالک ہوتے ہیں وہ ہر مسئلہ کا ممکن حل تلاش کر لیں گے اور پاکستان کو حقیقتاََ ایک فلاحی مملکت بنا دیں گے جہاں پر لوگوں کو نہ صرف بنیادی ضروریات میسر ہو ں گی بلکہ دوسری سہولتیں بھی حاصل ہوں گی ۔یوم امدادباہمی منانے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا کہ دنیا بھر کے تمام کوآپریٹران ہر سال اپنے اس پختہ یقین اورارادے کا اظہار کریں کہ وہ انسانیت کی بقا کے لیے کوشاں رہیں گے ، چنانچہ اس عظیم مقصد کی خاطر دنیا ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے کو کوآپریٹران سے اظہار یکجہتی اور تجدید عہد کے طور پر ’’کوآپریٹوڈے‘‘ مناتی ہے۔ 1992میں اقوام متحدہ نے بھی اسے باقاعدہ طور پر ’’عالمی کوآپریٹو ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔ کوآپریٹو ڈے منانے کا مقصدہر سال نئے مسئلہ پر کوآپریٹران کو آگاہ کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ مل کر اس کے سدباب کا سوچیں۔مستقبل ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں اس کو بنا لیں یا بگاڑ دیں ۔ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سچائی دیانتداری اور بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر خلوص دل سے تحریک امداد باہمی کو پاکستان میں زیادہ فعال اور موثر بنانے میں اپنا کردار ادا کر یں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔ آمین
درد دل کے واسطے پید اکیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں