ارشد اسدی الحسینی

مثنیٰ و ثلاث و رباع

سورۃ النساء ۔ 3
👈 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا ۞
🍁ترجمہ 🍁
اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکوگے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو دو دو، تین تین، چار چار سے اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ (ان کے ساتھ) عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی (بیوی) کرو۔ یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں (ان پر اکتفا کرو) یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بے انصافی نہ کرو۔ (ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ)۔ ۔
▫️تفسیر آیت▫️
👈 لغت میں مثنیٰ کا معنی ہے دو دو ۔ ثلاث کا تین تین اور رباع کا چار چار ۔ آیت میں روئے سخن چونکہ تمام مسلمانوں کی طرف ہے اس لئے اس کا معنی یوں ہو گا : یتیم لڑکیوں پر ظلم و ستم سے بچنے کے لئے تم ان سے شادی کرنے سے اجتناب کرو اور ان کی بجائے ایسی عورتوں سے شادی کرو جن کی معاشرتی اور خاندانی حیثیت ایسی ہو جو تمہیں ان پر ظلم کرنے کی اجازت نہ دے اور تم ان میں سے دو ، تین یا چار عورتوں سے شادی کر سکتے ہو ۔ البتہ مخاطب چونکہ تمام مسلمان ہیں اس لئے دو دو تین تین یا چار چار کہا گیا ہے ورنہ اس میں شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ بیویوں کی تعداد (وہ بھی خاص شرائط کی موجودگی میں ) چار ہے ۔
اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا جملہ میں واؤ در اصل ” او “ ( یا ) کے معنی میں ہے اور اس کا مقصد یہ نہیں کہ دو کے بعد مزید تین اور تین کے بعد مزید چار کیونکہ اس طرح تو نو بن جاتی ہیں اور اگر مقصود یہی ہوتا تو صراحت سے نو کہا جاتا نہ کہ اس طرح سے ایک دوسرے سے الگ اور پیچیدہ طریقہ پر ہوتا۔ علاوہ ازیں فقہ اسلامی میں یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے کہ چار سے زیادہ بیویاں کرنا مطلقا ً ممنوع ہے ۔ بہر حال مندرجہ بالا آیت تعدد ازدواج کے لئے صریح دلیل ہے البتہ ان شرائط کے ساتھ جن کی طرف جلد اشارہ کیا جائے گا۔
” فَإِنْ خِفْتُمْ اٴَلاَّ تَعْدِلُوا فَواحِدَةً” اس کے بعد فوراً کہا گیا ہے کہ یہ اجازت مکمل عدالت کو ملحوظ رکھنے سے مشروط ہے اور اگر عدالت نہیں کر سکتے تو اسی ایک بیوی پر اکتفاء کرو تاکہ دوسروں پر ظلم و ستم کرنے سے بچ سکو۔ ” اٴَوْ ما مَلَکَتْ اٴَیْمانُکُمْ ۔” یا کسی اور بیوی کے انتخاب کی بجائے جو کنیز تمہاری ملکیت ہے اس سے استفادہ کرو کیونکہ ان کی شرائط آسان سی ہیں ( اگرچہ انہیں بھی ان کے حقوق ادا کئے جانا چاہیئں ) ” ذلِکَ اٴَدْنی اٴَلاَّ تَعُولُوا۔” یہ (بیوی یا کنیز کے چناوٴ کا ) کام ظلم وستم اور عدالت سے انحراف سے بہتر بچاوٴ کرتا ہے غلامی کے مسئلے کے بارے میں اور اس سلسلہ میں اسلام کے نظریے کے متعلق متعلقہ آیات میں تفصیلی بحث کی جائے گی ۔
📚 تفسیر نمونہ

اپنا تبصرہ بھیجیں