ندیم اختر ندیم

اخلاق باختہ لوگ

اخلاق باختہ لوگ

ہم نے دنیا کے کچھ دوسرے ممالک کا سفر بھی کیا اور وہاں کی صحافت کے اصولوں پر غور بھی کیا ہے کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ایسے واقعات جو اس معاشرے کے وقار کے منافی ہوں انہیں خبر نہیں کیا جاتا روک دیاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں البتہ صحافت ہو کہ سیاست یہاں کے اصول و ضوابط ہی کچھ اور ہیں اصول تو رہے ایک طرف ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا بے لگام گھوڑا بہت سی ہلاکت انگیزیاں لئے ہوئے ہے اس لئے ہمارے معاشرتی زوال کے اسباب کی فہرست کچھ طویل ہے تاہم ان اسباب میں ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے دینی معاملات میں بگاڑ پیدا کیا جارہا ہے ۔ہم نے دین میں بھی ’ڈنڈی‘مارنی نہیں چھوڑی یا یوں کہئے کہ دین کو ہم نے دنیاوی کاموں کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ تعصب اپنی انتہاؤں کو چھو رہاہے اکثر قاری حضرات زیادہ تعلیمی قابلیت نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ہمارے مدارس بھی علمی فقدان کی زد میں آگئے ہیں میں سمجھتاہوں کہ ایک مدسرے کے قاری صاحب یا امام صاحب کی تعلیمی قابلت اسلامیات میں ایم اے تو ہونی چاہئے تبھی پڑھے لکھے حفاظ کرام معاشرتی اصلاح میں بہترین کردار ادا کر سکیں گے۔
اور معذرت کے ساتھ ہمارے بعض علماء کرام اپنے کردار کے حوالے سے ایسے پختہ بھی نہیں ہوتے۔ راقم السطور خود بعض اوقات کچھ ایسے قاری صاحبان کی امامت میں نماز پڑھتا ہے کہ قاری صاحب امامت سے ایک لمحہ قبل بتارہے ہوتے ہیں کہ میں فلاں شخص کو ’جھانسہ‘ دے آیا ہوں یہ کہہ کر وہ ساتھ ہی ایک نمازی سے کہتے ہیں تکبیر پڑھئیے اور نماز پڑھانا شروع کردیں گے میرے جیسے کم عقل کم فہم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے حضرات کی امامت میں نماز ہوتی بھی ہے کہ نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ امام صاحب کا اپنا کردار ہے اور ہمارا اپنا اور ہم جو علماء کرام کا احترام کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں اُنہیں کہہ بھی نہیں سکتے کہ حضرت جی یہ درست نہیں حالانکہ ہمارے علماء کرام کا کردار معاشرتی حوالے سے کلیدی ہے بچوں کی تعلیم و تربیت میں انکا حصہ اوّل ہے ملکی تعمیر و ترقی میں انکی تعلیمات اہم ہوتی ہیں ہم ایسے نیک سیرت علماء کو بھی جانتے ہیں جن کے اخلاق کی خوشبو باقاعدہ لوگ محسوس کرتے تھے انکی گفتگو سے مہک آتی تھی دوسری بات یہ کہ مساجد کی انتظامیہ کا کسی بھی مسجد میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے اور انتظامیہ میں شامل افراد اگر باعمل اور تعلیم یافتہ ہوں تو مساجد میں دنیاداری نہیں ہوگی کیونکہ مساجد تو دینی فرائض کی ادائیگیوں کی پاسدار اور امین ہوتی ہیں لیکن جب انتظامیہ ہی سیاسی ہو تو کیا کیجئے؟آپ ایسے صاحبان کو بھی جانتے ہونگے جو سیاست میں بھر پور حصہ لیتے ہوئے الیکشن لڑتے ہیں ہارتے یاجیتتے ہیں اور عالم دین بھی ہیں حالانکہ مساجد تو اللہ کے گھر ہیں قرآن کریم میں اللہ تعالی نے مساجد کو اپنی طرف خود منسوب کیا ہے، ارشاد پاک ہے:وَ اَنَّ الْمَسَاجِدَ للہِ.بے شک مساجد اللہ کی ہیں۔جہاں ہم دنیا جہان کا سکھ پاتے ہیں سکون حاصل کرتے ہیں اگر مساجد بھی ’استغفر اللہ‘ متنازعہ ہو جائیں گی تو ہماری حالت کیا ہوگی ہمارا پرسان حال کون ہوگا؟لہذا مساجد کی انتظامیہ میں شامل افراد کا پڑھا لکھا اور اچھی شہرت کا ہونا ناگزیر ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں سرکاری سطح پر مساجد کی انتظامیہ کا کوئی کرائیٹ ایریا مقرر ہونا چاہیے
قارئین ِ کرام!اس تمہید کی ضرورت اس لئے پیش آگئی کہ ایک وڈیو کلپ ہم تک پہنچا ہے جس میں دیکھا کہ ایک امام صاحب فرض نماز پڑھا رہے ہیں جماعت کھڑی ہے اور پیچھے کچھ لوگ مسجد کے اندر جھگڑ رہے ہیں شور کررہے ہیں اور ایک شخص بڑھ کر فرض نماز پڑھاتے ہوئے امام صاحب کو کھینچ لیتا ہے جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے نمازی حضرات کی نماز بھی جاتی ہے جسکا ’بار‘ بھی اس ایک شخص پر ہے جو جماعت کی امامت کراتے ہوئے امام صاحب کوکھینچ کر پیچھے کردیتا ہے
عالی جناب !دین تو حکمتوں سے مزیّن ہے ہمارا دین خیر کا دین ہے جس میں عفو درگذر ہے حکمت ہے دین جگہ جگہ ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ واقعہ بھی سب کو معلوم ہوگا جب ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرامؓ نے اسے روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو مت روکو لوگوں نے چھوڑ دیا جب وہ پیشاب سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور کہا: ’مسجدیں پیشاب اور نجاست کیلئے مناسب نہیں یہ تو اللہ کی یاد، نماز اور قرآن پڑھنے کیلئے بنائی گئی ہیں: پھر ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ ایک ڈول پانی لاکر اس پربہادے‘اس شخص کی غلطی پر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت ودانائی استعمال کرتے ہوئے صحابہ کرام کو سختی کرنے سے روکانہ ہوتا
او ردیہاتی کے ساتھ شفقت ونرمی کا معاملہ نہ کیا ہوتا تو ایک طرف یا تو وہ پیشاب کرتا ہوا بھاگتا اور جگہ خراب کرتا دوسری جانب انتشار کا اندیشہ بھی تھا ذرا سوچئیے ہمارے ایسی راہنمائیوں کے باوجود مساجد میں لڑائیاں اور جھگڑے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں پیشاب کرنے والے شخص سے کس اخلاق سے پیش آئے دوسری جانب ہمارا اخلاقی زوال دیکھئے کہ نماز ادا کراتے ہوئے امام صاحب کو گھسیٹا گیا سبب یہ تھا کہ مسجد پر قبضے، چندے اور امامت کی لڑائی تھی معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ تلہ گنگ کے علاقے جسیال میں پیش آیا.حالانکہ معاملہ جو بھی تھا نماز کے بعد بھی سلجھایا جا سکتا تھا۔
اس افسوسناک واقعہ سے بحیثیت مسلمان کیا پیغام دنیا کو ملا کہ ہم کس قدر کمزور عقیدہ رکھتے ہیں کوئی قوم جب اخلاقی زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس دوسری قوتوں کو ان پر مسلط ہونے کا موقع ملتا ہے
ہم بتدریج اخلاقی زوال کا شکار ہورہے ہیں جس کے سبب معاشرتی بگاڑ عروج پر ہے ہمارے نبی کریم ﷺ کے اعلی اخلاق ہوتے ہوئے بھی ہم اخلاق باختہ ہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے مثالی اخلاق سے دشمنوں کو بھی اپنا گرویدہ بنایا اور ہم آپس میں ہی گتھم گتھا ہیں مسجد کا تقدس بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھتے کیا یہودی، مجوسی۔کافر۔ عیسائی سب آپ ﷺ کے اخلاق سے متاثر تھے اور ہم اپنی اخلاقی گراوٹ سے مسلسل اپنا مقام کھوئے جارہے ہیں اس لئے اگر ہمیں دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام پانا ہے تو ہمیں اپنی اخلاقی حالت کو بہتر کرنا ہوگا اور اگر ہم مستحکم معاشرہ چاہتے ہیں تو بھی اخلاقی معیار بلند کرنا لازم ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں