Mohsin Naqvi

‏صحرا کو “فرات” کہہ رہا ہوں

‏صحرا کو “فرات” کہہ رہا ہوں
کتنی بڑی بات کہہ رہا ہوں

ہر لمحہ گزرتی زندگی کو
ڈھلتی ہوئی رات کہہ رہا ہوں

اے زہر غمِ فراق تجھ کو
لے، آبِ حیات کہہ رہا ہوں

اس دور کی مصلحت یہی ہے
میں دن کو بھی رات کہہ رہا ہوں

اب کون و مکاں کی وسعتوں کو
اک محبسِ ذات کہہ رہا ہوں

انسان کے ارتقاء کو محسن
لمحاتِ وفات کہہ رہا ہوں

محسن نقوی

(برگِ صحرا)

اپنا تبصرہ بھیجیں