ارشد اسدی الحسینی

انبیاء کی غرض بعثت

وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۞ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۞ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۞

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (خانہ کعبہ) کی بنیادیں بلند کر رہے تھے۔ (اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے جاتے تھے) اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ عمل) قبول فرما۔ بے شک تو بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔ ۔ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنا (حقیقی) مسلمان (فرمانبردار بندہ) بنائے رکھ۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ (فرمانبردار امت) قرار دے۔ اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے بتا۔ اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ ۔ اے ہمارے پروردگار ان (امت مسلمہ) میں انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر بھیج جو انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے یقینا تو بڑا زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔ ۔

🔸تفسیر آیات 🔸

مندرجہ بالا آیات میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ نے پیغمبر اسلامؐ کے ظہور کی دعا کے ساتھ ان کی بعثت کے تین مقاصد بیان کئے ہیں:
۱۔ پہلا مقصد لوگوں کے سامنے آیات خدا کی تلاوت ہے۔ یہ دراصل ان آیات کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات عمدہ ، جاذب نظر اور دلوں کو بھانے والی ہیں اور وحی کی صورت میں قلب پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں۔ تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبران آیات کے ذریعے خوابیدہ نفوس کو بیدار کرے۔ آیت میں لفظ (یتلو) استعمال ہوا ہے جس کا مادہ تلاوت سے ہے۔ اس کا لغوی معنی ہے پے در پے لانا۔ جب عبارتوں کو ایک دوسرے کے بعد اور صحیح نظم و ترتیب سے پڑھیں تو عرب اسے تلاوت کہتے ہیں۔ لہذا منظم و پے در پے تلاوت در اصل تعلیم و تربیت کے لئے مقدمہ و تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔
۲۔ دوسرا مقصد تعلیمِ کتاب و حکمت شمار کیا گیا ہے کیونکہ علم و آگاہی کے بغیر تربیت ممکن نہیں تربیت در اصل تیسرا مرحلہ ہے۔ کتاب و حکمت میں اس لحاظ سے فرق ہو سکتا ہے کہ کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہو اور حکمت سے مراد وہ علوم، اسرار و علل اور مقاصدِ احکام ہوں جن کی پیغمبر کی طرف سے تعلیم دی جاتی ہے۔
۳۔ تیسرا مقصد تزکیہ بیان کیا گیا ہے۔ تزکیہ کا معنی لغت میں نشو و نما بھی بیان کیا گیا ہے۔
یہ نکتہ خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ انسانی علوم محدود ہیں اور ان میں بھی ہزاروں ابہام اور خطائیں موجود ہیں۔ انسان جو کچھ جانتا ہے اس کی صحت کا کامل یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے پیشتر اپنے علوم کی غلطیاں دیکھ چکا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اس ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ پیغمبران خدا صحیح علوم جو ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہو مبداء وحی سے حاصل کر کے لوگوں کے درمیان تشریف لائیں تا کہ لوگوں کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور جو باتیں انہیں معلوم نہیں ان کی انہیں تعلیم دیں اور جو کچھ وہ جانتے ہیں اس کے بارے میں انہیں اطمینان دلائیں۔
دوسری بات جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ ہماری نصف شخصیت کی تشکیل عقل و خرد سے ہوتی ہے اور نصف شخصیت طبائع، میلانات اور خواہشات سے بنتی ہے۔ اس لئے ہمیں جتنی تعلیم کی ضرورت ہے اتنی ہی تربیت کی احتیاج ہے ہماری عقل و خرد کو بھی تکامل و ترقی کی ضرورت ہے اور ہمارے باطنی طبائع کو بھی صحیح تربیت و پرورش کے لئے رہبری کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو پیغمبر معلم بھی ہیں اور مربی بھی۔ تعلیم دینا بھی انہی کا کام ہے اور تربیت کرنا بھی۔
📚ماخذ تفسیر نمونہ

اپنا تبصرہ بھیجیں