Mir Hussain Haider Taklam

میر حسین حیدر تکلؔم

حروفِ ابجد کا ہے تقاضہ الف سے یے تک
لکھوں میں دیوانِ مدح تیراؑ الف سے یے تک

ا
الف سے پہلی ردیف “آقا” بنا کے لکّھوں
تمہارا سوچا ہُوا سراپا الف سے یے تک

ب
بناوں بے سے ردیف “رب” کی تیری ثنا میں
بتاوں دنیا کو رب کے معنیٰ الف سے یے تک

ت
ردیف تے ہو تو لفظ “غیبت” کا منتخب ہو
بیاں ہوں احوالِ غیبِ کبریٰ الف سے یے تک

ث
“حدیث” رکّھوں ردیف ثے کی جو باری آئے
حدوث میں ہو قِدَم کا جلوہ الف سے یے تک

ج
برائے دیواں ردیف پنجم “خروج” رکھ کر
دکھاوں تیری وغا کا نقشہ الف سے یے تک

ح
ردیف “تسبیح” رکّھوں حے پر قلم جو پہنچے
حروف بَن جائیں دانہ دانہ الف سے یے تک

خ
برائے مدحت ردیف “تاریخ” ہو مقرر
سناوں گیارا صدی کا قصّہ الف سے یے تک

د
ردیف “مرشد” میں حرف سارے مرید بَن کر
ورق پہ چمکیں مثالِ زُہرہ الف سے یے تک

ذ
ردیف “تعویذ” میں بناوں وہ نقش تیرے
کسی پہ سِفلی نہ ہو دوبارہ الف سے یے تک

ر
سفر ردیفوں کا “منتظَر” سے ہو “منتظِر” تک
نظام زیر و زبر ہو سارا الف سے یے تک

ز
ردیف “ہمراز” ہو گی بہرِ ثنائے قائمؑ
سنیں گے راز و نیازِ مولا الف سے یے تک

س
ردیف قسمت سے بارھویں ہو جنابِ “نرجس”
اتاریں بی بی کا مل کے صدقہ الف سے یے تک

ش
ردیف “عطش” میں جو دیکھیں معنی کا بہتا دریا
اٹھا لیں ہاتھوں میں اپنے کوزہ الف سے یے تک

ص
“قصاص” کی جب ردیف ہو گی ، دکھائی دیں گے
سخن کے میدان میں صف آرا الف سے یے تک

ض
ردیف ہو “قرض” ، ادائے اجرِ نبیؐ کی خاطر
ادھار اتاریں سب اپنا اپنا الف سے یے تک

ط
کرم سے زہراؑ کے ہو وہ مضموں ردیف “خط” کا
وہؑ پہلے میرا پڑھیں عریضہ الف سے یے تک

ظ
بفیضِ نادِ علیؑ بناوں ردیف “محفوظ”
علیؑ علیؑ کا ہو پھر وظیفہ الف سے یے تک

ع
“طلوع” رکھ کر ردیف ، لکھنا شروع کر دوں
ظہورِ قائمؑ کا ہر نظارا الف سے یے تک

غ
“چراغ” کی ہو ردیف ایسی ، چراغ پا ہَوں
عدوئے قائمؑ عدوئے زہراؑ الف سے یے تک

ف
ردیف چاہے “شرف” ہو لیکن مجھے خبر ہے
شرف مَیں اُن کے نہ لکھ سکوں گا الف سے یے تک

ق
ردیف سُن کر “فراق” ، ہو گا جنون طاری
گریباں کر لیں گے پارا پارا الف سے یے تک

ک
ردیف باندھوں “جھلک” تو معراج ہو سخن کو
دکھائی دیں سب بدونِ پردا الف سے یے تک

ل
“جلال” کی ہو ردیف لیکن کرم سے اُنؑ کے
گرے نہ کوئی بھی حرف میرا الف سے یے تک

م
ردیف “امام” اور ورق مصلّیٰ ، سماں یہ ہو گا
کریں گے سارے حروف سجدہ الف سے یے تک

ن
ردیف”قرآن” میں ہَوں نازل ادب کے سورے
برائے حجّت ہو ہر سپارا الف سے یے تک

و
ردیف “خوشبو” سے مہکے دیوان منقبت کا
لگائیں عطرِ ثنائے مولا الف سے یے تک

ہ
ردیف “خیمہ” ، زمینِ مدحت…..تو حرؑ کی صورت
کریں غزل سے سبھی کنارا الف سے یے تک

ی
ردیف “ہادی” سخن کے کعبے پہ ایسے اترے
صفوں میں لبّیک کا ہو نعرہ الف سے یے تک

میر حسین حیدر تکلؔم

اپنا تبصرہ بھیجیں