مظہر برلاس

صرف احتجاج کافی نہیں

گزشتہ جمعے کو پورے پاکستان میں یوم تقدیسِ قرآن منایا گیا۔ اس موقع پر تمام شہروں میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ پہلے پہل احتجاج کی کال ایک زیر عتاب لیڈر نے دی تو پھر حکومت کو بھی یاد آ گیا کہ احتجاج کرنا چاہیئے ، خیر احتجاج ہوا، ایوانوں سے مذمتی قراردادیں بھی منظور ہوئیں مگر کیا حاصل؟ پچھلے چالیس برس سے تو یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے، کبھی مغرب کسی گستاخ کو پناہ دیتا ہے ، کبھی جھوٹی کتابیں لکھنے والوں کو تحفظ دیتا ہے ، صرف یہ نہیں کبھی توہین آمیز خاکے بنائے جاتے ہیں تو کہیں پہ گستاخانہ فلمیں بنانے کا سوچا جاتا ہے۔ ہر دو چار برس کے بعد کوئی نہ کوئی گستاخی ہوتی ہے اور مسلمان اپنے اپنے ملکوں میں احتجاج کر کے کلیجہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ اگر گزشتہ چالیس برسوں کو حقیقت کے آئینے میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ مسلمان عوام اور مسلمان ملکوں کے حکمران مختلف سوچ کے حامل ہیں یعنی عوام کی سوچ اور ہے اور حکمرانوں کا طرز فکر اور ہے۔ عوام بے چارے احتجاج کرتے ہیں، سیمینارز کرواتے ہیں، مضامین لکھتے ہیں اور احتجاجاً شاعری بھی کرتے ہیں مگر مسلمان ملکوں کے حکمران اپنے چند روزہ اقتدار کی محبت میں کچھ بھی کرنے سے گریزاں ہیں۔ان حکمرانوں کو پونے دو ارب مسلمانوں کے دکھی دلوں سے کوئی غرض نہیں، انہیں اپنی کرسیوں سے محبت ہے چونکہ ملکوں کے فیصلے حکمران کرتے ہیں، اس لئے مسلمان ملکوں کے حکمران کمزور فیصلوں کے ذریعے اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اللّٰہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات کو سامنے نہیں رکھتے کہ ہمیں دین اسلام یہ تاکید کرتا ہے کہ ظلم کو ہاتھ یعنی تلوار سے روکو یہ نہیں کر سکتے تو زبان سے روکو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں برا جانو۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مسلمان حکمران پہلے سبق کا تو نام ہی نہیں لیتے دوسرے سبق میں بھی کمزوری دکھاتے ہیں تیسرے کا مجھے معلوم نہیں، اس کا مطلب ہے کہ مسلمان حکمران کسی انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ نہ وہ خود بہادر ہیں نہ ان کے فیصلوں سے دلیری بولتی ہے بلکہ اسلامی ملکوں کی تنظیم بھی اکثر و بیشتر محو نیند ہی رہتی ہے۔ پتہ نہیں یہ کیوں نہیں سوچتے کہ احتجاج ہمیشہ کمزور لوگ کرتے ہیں، بہادروں کا یہ شیوہ نہیں۔ آج مجھے مسلمانوں کا ایک نامور مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی یاد آ رہا ہے ، اس عظیم سپہ سالار کو اس کے ایک سپاہی نے صرف یہ اطلاع دی تھی کہ شہر میں ایک مذہبی عالم آیا ہوا ہے ، اس کا بہت چرچا ہے ، وہ بڑی پر اثر باتیں کرتا ہے، لوگ اسے شوق سے سنتے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ باتیں سنیں تو فیصلہ کیا کہ وہ خود بھیس بدل کر اس عالم کے پاس جائے تاکہ دیکھ تو سکے یہ کون ہے۔ ایک دن سلطان صلاح الدین ایوبی بھیس بدل کر اس کی محفل میں گئے، جب اس کی میٹھی باتوں پر مشتمل تقریر ختم ہوئی تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا کہ مسلمانوں سے بیت المقدس کیوں فتح نہیں ہورہا، اس کی کیا وجہ ہے۔ اس عالم نے کہا کہ دعا مانگتے رہو، بیت المقدس فتح ہو جائے گا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ سنتے ہی تلوار نکالی اور پوچھا تم کون ہو؟ تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ وہ خاموش رہا تو سلطان نے کہا تم یہودی جاسوس ہو، عالم کا بھیس بدل کر آئے ہو، لوگوں کو جہاد کی بجائے دعا کا حکم دے رہے ہو۔ بس پھر سلطان نے اس کا سر قلم کر دیا۔
اس واقعہ کو صدیاں بیت چکی ہیں مگر آج کے مسلمان عملی جدو جہد کو چھوڑ کر صرف دعاؤں پر اکتفا کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دعاؤں سے کشمیر اور فلسطین آزاد ہو جائے، برما کے مسلمانوں پر ظلم رک جائے۔ جب بہت کچھ بوسنیا میں ہو رہا تھا تب بھی عمل سے گریز کیا گیا ، دعاؤں سے کام چلانے کی کوشش کی گئی دین یہ نہیں کہتا بلکہ دین تو یہ کہتا ہے کہ تیکھی تیز تلواریں لے کر میدانِ جنگ میں اترو اور پھر اپنے اللہ سے مدد مانگو۔صرف دعاؤں سے مشکلات حل نہیں ہوتیں، عمل کرنا پڑتا ہے۔ بقول نواب زادہ نصر اللہ خان
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

کبھی اس دنیا میں مسلمان فاتحین کا طوطی بولتا تھا مگر پھر کمزوریوں نے انہیں اس قدر کمزور کر دیا کہ وہ غلامی کی آغوش میں چلے گئے ،جب انہیں غلام بنایا جا رہا تھا تو فرانسیسی جرنیل گورو شام میں صلاح الدین ایوبی کی قبر پر لات مار کر کہنے لگا ، اٹھو صلاح الدین ہم آ گئے ہیں ۔ ایک اور فرانسیسی جرنیل لیوتی مراکش میں یوسف بن تاشفین کی قبر پر پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے بولا، اے تاشفین کے بیٹے اٹھو، ہم تمہارے سرہانے پہنچ گئے ہیں۔ صلیبیوں نے جب دوبارہ اندلس پر قبضہ کیا تو الفونسو نے حاجب منصور کی قبر پر چارپائی بچھائی اور بیوی کے ساتھ شراب پیتے ہوئے کہنے لگا دیکھو! میں نے مسلمانوں کی سلطنت پر قبضہ کر لیا ہے۔ ترکی میں داخل ہوتے وقت یونانی فوج کا سربراہ سوفوکلس وینز یلوس خلافت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی کی قبر پر کہنے لگا، اٹھو! اے بڑی پگڑی والے ، اپنے پوتوں کی حالت دیکھو، ہم نے اس عظیم سلطنت کا خاتمہ کر دیا ہے جس کی بنیاد تم نے رکھی تھی۔
کاش! آج کے مسلمانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی ہوتا، کوئی عثمان غازی ہوتا مگر افسوس مسلمان ملکوں کے غلام حکمرانوں پر افسوس ۔ اب تو حالات یہ ہے کہ بقول احمد فراز

کس طرف کو چلتی ہے اب ہوا نہیں معلوم
ہاتھ اٹھا لیے سب نے اور دعا نہیں معلوم

اپنا تبصرہ بھیجیں