حنا پرویز بٹ

خربوزے کے کھیت !

خربوزے کے کھیتوں میں گیدڑ اور کیلے کے باغ پر حملہ آور بندر اجاڑا ہی پھیرا کرتے ہیں، چوکیداروں کو پتہ ہونا چاہئے کہ گیدڑاور بندر پیار اور منت کی زبان نہیں سمجھتے ، وہ تو قرار واقعی مرمت کے مستحق ہوتے ہیں، اگر انھیں مسدودنہ کیا جائے تو کھیت کھلیان اور باغ ویران ہوجاتے ہیں جس کے بعد ایسا قحط مسلط ہو جاتا ہے جو انسانوں کی جانیں لے جاتا ہے ۔ قہر خدا کا ہنستا بستا چہکتا مہکتا ترقی خوشحالی کی منزلیں طے کرتا ملک برباد کردیا گیا، دنیا حیران ہے کہ کیسے ایک اینٹ لگائے بغیر ملک پر ستر سال کے برابر قرضہ چڑھایا جاتا ہے، عوامی پیسے کی چوری کا عالمی ریکارڈ بنانے والے سینہ زوری کرتے رہے اور عوام لٹتے رہے۔ کہاں ہیں وہ جو 35 روپے کلو آٹا ملنے پر مہنگائی کا بھونپو بجاتے تھے،انھیں کیوں سانپ سونگھ گیا ہے کہ انکی غلط پالیسیوں کی بدولت آج آٹا 170 روپے کلو ہوگیا ہے، غریب بھوکوں مر گیا لیکن شاہ دولہ کے حامی اور شاہ دولہ کے چوہے ایک ہی دھن میں دف بجا رہے ہیں کہ بندہ ایماندار ہے، سچ تو یہ ہے کہ حقیقی کرپٹ نے گھڑی سے لے کر کشمیر تک کوڑیوں کے بھائو بیچ ڈالے ،جب تباہی کے حقیقی ذمہ دار شاہ دولہ کو حراست میں لے لیا گیا تو اسے بچانے والے فوراً آگئے،اس کی رہائی کے حکم پر عوام جان چکے ہیں جانبدارانہ فیصلے کیا ہوتے ہیں،چار دیواری میں پیر پکڑنے جبکہ میڈیا پردھمکیاں دینے والے شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور فواد چوہدری کو حراست میںلے کر انتشار کا راستہ بند کیا گیا ہے، تینوں مبینہ ٹکر کے لوگوں نے گرفتاری سے بچنے کی پوری کوشش کی لیکن اس بار گرفتاری کا حکم تھا ڈرانے کا نہیں، بے چارے شاہ محمود نے ابھی پارٹی کا لائحہ عمل بذات خود طے کرنیکا سوچا ہی تھا کہ اسد عمر نے اعلان کردیا کہ یہ کام سات رکنی کمیٹی کریگی، پرویز الٰہی بولے میں نے بازو فی سبیل اللہ نہیں تڑوایا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی نے سپین اڑان بھرنے کیلئے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں، اس نازک صورتحال میں وسیم اکرم پلس عثمان بزدار ہی بچتے ہیں پارٹی قیادت سنبھالنے کیلئے ،پی ٹی آئی والے خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ پارٹی پر پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے، ایک صائب رائے بھی زبان زد عام ہے کہ اس جماعت پر پابندی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بس اس کے سر سے ہاتھ اٹھالیا جائے، اے ٹی ایم مشینیں بند کردی جائیں اور زکوٰۃ کے غلط استعمال پر پابندی لگا دی جائے باقی کا کام خود بخود ہو جائیگا، سونامی لانے کے دعویدار رہنما اتنے بزدل نکلے کہ پارٹی کو چاہنے والےکارکنوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا،فرط جنون میں سرکاری عمارتوں پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کرنے وا لی قوم یوتھ سمجھ جائے کہ انکی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے اگر وہ اس احتجاج میں مبینہ جان بھی دیدیں تو ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہوگا، سوشل میڈیا پر دولے شاہ کے چوہےانتشار بھرے ٹرینڈ چلا کرانتشار پھیلانے کی روش پر اترے ہوئے ہیں، جلائو گھیرائو ہو یا تشدد، توڑ پھوڑ ہو یا ٹریفک کی بندش، ہر انتشاری سرگرمی میں ڈنڈا بردار شریک تھے، اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کے دوران للکارا گیا کہ ہم کسی قانون کو نہیں مانتے لیکن جیسے ہی ایک انسپکٹر نے انھیں ڈالے میں ڈالنے کیلئے ساتھیوں کو بلایا تو یہ پیر سر پر رکھ کر بھاگ نکلے،یہ وہی تھے جو جیل بھرو تحریک میں بھی فرار ہوگئے تھے، شاہ دولہ کے نائبین نے جارحانہ سرگرمیوں سے علیحدگی کا ڈرامہ رچایا انکے مکالموں اور انکی بدن بولی میں بالکل بھی میچ نہیں تھا، اچھے وقتوں میں وہ ریڈ لائین کی تکرار کیا کرتے تھے، دور حاضر کے شاہ دولہ ایک رات حوالات میں گزارنے کے بعد رہا ہونے پریقیناًپھر سے وہی کچھ کرے گا جس کام کیلئے وہ آیا ہے،جس نے آپ کو استعمال کیا وہ رہا ہوگیا لیکن آپ نے اس کے لئے جو اس ملک کی املاک جلائیں اور قانون کی دھجیاں اڑائیں اب سڑو جیلوں میں کئی کئی سال کوئی تمہیں پوچھے گا بھی نہیں،مرشد نے اپنے لوگوں کی غنڈہ گردی کی کھلی کچہری میں بھر پور مذمت اور لاتعلقی سے اپنی بے مروتی کا ریکارڈ قائم رکھا،آج ثابت ہوگیا کہ اگر کوئی لاڈلا گھڑی سے لے کر کشمیر تک بیچ دے، مڈل کلاس کو خط غربت سے نیچے بھی گرا دے تو کوئی قانون اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا ہے،اگر اسے حراست میں لیا جائیگا تو اسکےمتوالےپورے ملک کو آگ میں جھونک دیں گے اورانصاف کہے کہ ایسا ہی ردعمل آئیگا، غضب خدا کا ملک میںآگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی، ذمہ دار کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں