ارشد اسدی الحسینی

روزے کے طبی اثرات

سورہ بقرہ ایات 183 185
اے ایمان والو! روزہ اس طرح تم پر لکھ دیا گیا ہے (فرض کر دیا گیا ہے) جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھ دیا گیا تھا۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ ۔ یہ گنتی کے چند دن ہیں (اس کے باوجود) اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو۔ تو اتنے ہی دن اور دنوں میں پورے کرے۔ اور جو اپنی پوری طاقت صرف کرکے بمشکل روزہ رکھ سکتے ہوں تو وہ فی روزہ ایک مسکین کی خوراک فدیہ ادا کریں۔ اور جو اپنی مرضی سے کچھ (زیادہ) بھلائی کرے تو وہ اس کیلئے بہتر ہے اور اگر تم (فدیہ دینے کی بجائے) روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اگر تم علم و واقفیت رکھتے ہو۔ ۔ ماہ رمضان وہ (مقدس) مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں راہنمائی اور حق و باطل میں امتیاز کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جو اس (مہینہ) میں (وطن میں) حاضر ہو (یا جو اسے پائے) تو وہ روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے ہی روزے کسی اور وقت میں (رکھے)۔ اللہ تمہاری آسانی و آسائش چاہتا ہے تمہاری تنگی و سختی نہیں چاہتا اور یہ بھی (چاہتا ہے) کہ تم (روزوں کی) تعداد مکمل کرو۔ اور اس (احسان) پر کہ اس نے تمہیں سیدھا راستہ دکھایا تم اس کی کبریائی و بڑائی کا اظہار کرو۔ تاکہ تم شکر گزار (بندے) بن جاؤ۔
🩺 طبی فوائد🩺
طب کی جدید اور قدیم تحقیقات کی روشنی میں امساک (کھانے پینے سے پرہیز ) بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثر رکھتا ہے جو قابل انکار نہیں۔ شاید ہی کوئی حکیم ہو جس نے اپنی مشروح تالیفات اور تصنیفات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہ کیا ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہیں۔چونکہ مواد اضافی بدن میں جذب نہیں ہوتا جس سے مزاحم اور مجتمع چربیاں پیدا ہوتی ہیں یا یہ چربی اور خون میں اضافی شو گرکا باعث بنتی ہے۔ عضلات کا یہ اضافی مواد در حقیقت بدن میں ایک متعفن بیماری کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتاہے۔
ایسے میں ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین حل یہ ہے کہ گندگی کے ان ڈھیروں کو امساک اور روزے کے ذریعے ختم کیا جائے۔ روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلا دیتا ہے۔ در حقیقت روزہ بدن کو صفائی شدہ مکان بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں روزے سے معدے کو ایک نمایاں آرام ملتاہے اور اس سے ہاضمے کی مشینری کی سروس ہو جاتی ہے ۔ چونکہ یہ بدنِ انسانی کی حساس ترین مشینری ہے جو سارا سال کام کرتی رہتی ہے۔ لہذا اس کے لئے ایسا آرام بہت ضروری ہے۔ یہ واضح ہے کہ حکم اسلامی کی رو سے روزہ دار کو اجازت نہیں کہ وہ سحری اور افطاری کی غذا میں افراط اور زیادتی سے کام لے ۔ یہ اس لئے ہے تاکہ اس حفظان صحت اور علاج سے مکمل نتیجہ حاصل کیاجاسکے ورنہ ممکن ہے کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کیا جاسکے۔
ایک روسی دانشور الکسی سوفرین لکھتاہے:
روزہ ان بیماریوں کے علاج کے لئے خاص طور پر مفید ہے:
خون کی کمی، انتڑیوں کی کمزوری، التہاب زائدہ (۱)(appendicitis) خارجی و داخلی قدیم پھوڑے ، تپ دق (T.B.)، اسکلیر وز، نقرس (۲)، استسقار(۳)،جوڑوں کا درد(۴)، نورا ستنی، عرق النسار(۵)، خراز (جلد کا گرنا)، امراضِ چشم، شوگر، امراضِ جلد، امراض گردہ، امراضِ جگر اور دیگر بیماریاں۔
امساک اور روزے کے ذریعے علاج صرف مندرجہ بالا بیماریوں سے مخصوص نہیں بلکہ وہ بیماریاں جو بدنِ انسانی کے اصول سے مربوط ہیں اور جسم کے خلیوں سے چمٹی ہوئی ہیں مثلاً سرطان، سفلین اور طاعون کے لئے بھی یہ شفا بخش ہے۔
ایک مشہور حدیث پیغمبر اکرمؐ سے مروی ہے۔ آپؐ نے فرمایا:
صوموا تصحوا
روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو ۔(۶)
پیغمبر اکرمؐ سے ایک اور حدیث مردی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا:
المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل دوائ
معدہ ہر بیماری کا گھر ہے اور امساک و فاقہ اعلیٰ ترین دوا ہے۔(۷)

۱۔ایک مرض جس میں اندھی آنت سوج جاتی ہے اور اس میں سوزش ہوتی ہے۔ (مترجم)
۲۔ ایک قسم کا گٹھیا،ایک شدید درد جو پاؤں کی انگلیوں سے اٹھا کرتا ہے۔ (مترجم)
۳۔ جلندر کی بیماری جس میں بہت پیاس لگتی ہے اور پیٹ دن بدن بڑھتا رہتا ہے۔ (مترجم)
۴۔ اسے وجع مفاصل کہتےہیں۔ (مترجم)
۵۔ چڈوں سےٹخنوں تک پہنچنے والا درد۔ (مترجم)
۶۔کتاب روزہ، روش نویں، ص ۶۵، اشاعت اول۔
۷۔ بحار الانوار، ج ۱۴ (قدیم)
📚 ماخذ تفسیر نمونہ
_____
التماس دعا
ارشد اسدی الحسینی

اپنا تبصرہ بھیجیں