مظہر برلاس

دولت چاٹ گئی سب کچھ

دولت چاٹ گئی سب کچھ

میرا خیال تھا کہ میں پورا کالم سانحہ ماڈل ٹاؤن پر لکھتا مگر میرے دیس کی غم زدہ آنکھوں کے سامنے یونان کا ساحل ہے۔ ساحل کی ریت پر میرے ہم وطنوں کے لاشے ہیں ۔ یہ لاشے کسی سندیسے کے منتظر ہیں، فضاؤں سے کہہ رہے ہیں کہ “کوئی آئے اور ہمیں لے جائے۔ ہمارے بے جان جسموں کو اسی عظیم مٹی کے حوالے کر دیا جائے جہاں خوف کے سائے ہیں ، جہاں بھوک بلکتی ہے، جہاں روزگار کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے، ہم کوئی شوق سے سمندری لہروں کے حوالے نہیں ہوئے تھے، ہمیں دکھوں کی نگری میں ایک ہی وقت میں خوف، بے روزگاری اور بھوک سے لڑنا پڑ رہا تھا۔ ہم نے سوچا کہ پانیوں پر تیر کر کسی ایسے وطن پہنچ جائیں جہاں خوف، بے روزگاری اور بھوک سے چھٹکارا مل جائے۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ موت ہمارے اپنے وطن ہی سے ہمارا پیچھا کر رہی تھی، بالآخر موت نے سمندر میں ہمارا گھیرا تنگ کیا۔ ہم میں سے کچھ سمندر نگل گیا ، کچھ ہم بے یارو مددگار ساحل پہ پڑے ہیں۔ حیرت ہے ہمارے لئے یونان کے شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن ہمارے اپنے دیس میں ہمارے لئے کوئی مظاہرہ نہیں ہو رہا شاید اس کی بڑی وجہ خوف ہے کیونکہ وہاں مظاہرہ کرنا کسی بڑے جرم سے کم نہیں۔ خوف میں لپٹے ہوئے لوگوں نے اپنی زبانوں پر قفل سجا لئیے ہیں۔ بند کمروں سے ہچکیوں کی آوازیں آرہی ہیں اور ہماری حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، یہ کمیٹی کیا خاک کرے گی؟ سب کو پتہ ہے کہ باہر بھیجنے والے ایجنٹوں کی پشت پناہی کون سی شخصیات کرتی ہیں۔کون سے سرکاری اہلکار ایجنٹوں سے پیسے بٹورتے ہیں اور پھر کس کس کو حصہ پہنچاتے ہیں،سب کو پتہ ہے سارے ایجنٹ سرکاری چھتری تلے کام کرتے ہیں۔ کچھ نہیں بنے گا۔ اس ملک کے پورے نظام کو دولت کی ہوس کھا گئی ہے، جس نظام کے سارے پرزے دولت کے چکر میں جائز و نا جائز کرنے پر تل جائیں وہاں انصاف کا خواب، سراب بن جاتا ہے۔ اگر انصاف ہوتا تو ہم سے پہلے شہید ہونے والے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف مل چکا ہوتا”۔
قارئین کرام! سانحہء ماڈل ٹاؤن کے 9 برس بیت چکے ہیں وہاں شہید ہونے والے قبروں میں انصاف کے منتظر ہیں جبکہ ان کے ورثاء انصاف کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔ ان شہیدوں کا لہو کس کے سر ہے۔ کسی نے تو وہاں گولیاں چلائی تھیں، کوئی تو قاتل ہے ؟ وہاں شہید ہونے والی ایک خاتون تنزیلہ کی صاحبزادی بسمہ امجد کہتی ہیں
“سانحہ ماڈل ٹاوُن والے دن، میں اپنی والدہ کے ساتھ کھڑی تھی جب گولیاں چلنے کی آواز آئی، میں نے دیکھا کہ میری والدہ کے چہرے پر گولی آ کر لگی۔ فوراً بعد ایک گولی پاس کھڑی میری پھپھو کے سینے میں لگی۔ مجھے یاد ہے کہ اس سے قبل آنسو گیس کے کئی شیل بھی برسائے گئے تھے۔ پھر میری والدہ کو ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ وہ بمشکل سانسیں لے رہی تھیں مگر ہسپتال پہنچتے ہی میری ماں کا جسم لاش میں بدل گیا۔ اسی دوران میری پھپھو بھی دم توڑ گئیں۔ 13 برس کی کم عمری میں یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ پولیس نے میری والدہ اور پھوپھی پر گولیاں کیوں برسائیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے میں اپنی والدہ کو انصاف دلانے کیلئے کئی احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں شریک ہوئی، کئی عدالتوں کے چکر لگائے لیکن ہنوز انصاف دور است۔ واضح رہے میں اس سانحے میں اکیلی نہیں ہوں۔”
ایک سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی میں بھی ہوا تھا ۔ کئی اور سانحات ہوئے مگر یہاں کے گلے سڑے نظام کے رکھوالے اہلکاروں نے منہ کھول رکھے ہیں۔ کوئی بھی آئے نوٹوں سے ان کا منہ بند کرے اور کچھ بھی کر جائے۔ اس معاشرے کی اقدار کو دولت کھا گئی۔ یہاں دولت کی پرستش اس قدر خوفناک ہے کہ جب حادثات ہوتے ہیں تو لوگ لاشوں کی جیبیں ٹٹولتے ہیں، بالیاں نوچتے ہیں۔ یہاں نہ زندہ لوگ ظلم سے بچ پاتے ہیں نہ مر کر، ظلم ہر حال میں، ہر موسم میں رواں دواں رہتا ہے۔ یہاں کی جمہوریت میں بھی دولت کا عمل دخل ہے ۔ میرے پیارے پاکستان کا پورا نظام دولت کے حوالے ہو چکا ہے۔ جس کے پاس دولت ہو وہ دولت کے بل بوتے پر طاقت خرید لیتا ہے، دولت اور طاقت رکھنے والے کا مقابلہ بھلا کون کر سکتا ہے ۔ دولت اور طاقت دونوں قانون شکنی کرتے ہیں، ظلم کو رواج دیتے ہیں۔ ظلم نا انصافی کو جنم دیتا ہے اور نا انصافی نفرت کے بیج بوتی ہے، صرف بیج نہیں بوتی، خوف ، غربت ، بھوک اور پیاس میں اضافہ کرتی ہے۔ دکھ تو یہ ہے کہ یہاں لوگ سب کچھ دولت کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور افسوس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ دولت سب کچھ چاٹ گئی ہے۔دولت کے اس گھناؤنے کھیل میں شکیل عارفی کا شعر یاد آگیا ہے

کہ

دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے
سر مل گیا حسین کا، بیعت نہیں ملی

دولت چاٹ گئی سب کچھ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں