maqsood anwar

مادر علمی، گورنمنٹ کالج لاہور

” میں نے گورنمنٹ ہائی سکول جڑانوالہ سے میٹرک امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کیے اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور 1983 میں اکنامکس ، سٹیٹس ، نفسیات فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا اور لاہور شہر میرے لیے انگلینڈ اور پیرس کی مانند تھا ۔ جڑانوالہ سے لاہور میں اپنے والد صاحب جناب رانا محمد انور صاحب مرحوم کے ہمراہ ٹرین پر آیا تھا اور اس روز حبس اپنے زوروں پر تھا ، شدید گرم دن اور اگست کا مہینہ تھا ۔ میں دل میں دعائیں کر رہا تھا کہ میرا داخلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہو جائے کیونکہ میرے والد صاحب کے دلی خواہش تھی کہ میں کسی بڑے ادارے میں تعلیم حاصل کروں اور میٹرک میں ٹاپ کرنے کے بعد میں اور والد صاحب گورنمنٹ کالج میں ایڈمیشن کے لئے آئے اور خدا کے فضل و کرم سے میرا داخلہ گورنمنٹ کالج میں ہو گیا اور یہ وہ دن تھا جب میں باضابطہ طور پر جڑانوالہ کی متبرک اور خوبصورت مٹی سے ہمیشہ کے لئے دور ہوگیا ۔ لاہور شہر کے سحر انگیز روشنیوں نے مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ، گورنمنٹ کالج میں داخلہ کے بعد رہائش کا مسئلہ درپیش آیا تو ابا جان کے پرانے دوست صحت دواخانہ موچی گیٹ پیارے بھائی مجیب اور مغیث کے گھر پڑاؤ ڈالا اور انکل موج ایک باکمال کھلی ڈلی طبیعت اور مریض کا چہرہ دیکھ کر مرض کا اندازہ لگا لیتے تھے اور اعلی پائے کے طبیب تھے ۔ میں نے اپنے کالج کے ایام کے پہلے چھ ماہ موچی گیٹ پانی والا تالاب انہیں کے گھر گزارے اور پھر اپنے ماموں منظور کے گھر شاہدرہ باغ شفٹ ہوگیا اور پھر میرے والد صاحب جناب رانا محمد انور صاحب مرحوم نے امی جان جو کہ جڑانوالہ کے سکول میں بطور ٹیچرس اپنی زندگی کی جمع پونجی اکٹھی کرکے شاہدرہ باغ کوٹ شھاب دین میں مکان خرید لیا جو کہ میرے ماموں منظور کے گھر کے پاس ہی تھا اور پھر زندگی کے یادگار سفر کا آغاز ہوا ، صبح بس پر کالج جانا ، دوپہر کو نان چنے ، رات کا کھانا گل خاں کے ہوٹل پر جو عموما دال اور روٹی پر مشتمل ہوتا تھا ، رات کو بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن پر پی ٹی وی کے ڈرامے ، دور درشن کا چترہار اور فلمیں ، ہر ہفتے تاج سینما ، کراون سینما ، ریگل سینما ، الفلاح سینما ،اور کبھی کبھار مون لائٹ سینما میں بالغ لوگو والی فلم دیکھ کر خوب عیاشی ماری۔
اس زمانے میں وی سی آر کا دور دورہ تھا اور ہم سارے دوست پیسے ڈال کر وی سی ار اور رنگین ٹیلی ویژن کندھے پر اٹھا کر گھر لے آتے اور ایک رات میں 4 چار فلمیں دیکھتے اور خوب لطف اندوز ہوتے ۔ کالج کے ایام میری زندگی کے سب سے سنہری دن تھے ۔ کوئی فکر فاقہ نہیں تھا ، گھر میں کھانا میں خود بنا لیتا تھا یا پھر گل خان کا ہوٹل زندہ باد ، زندگی میں کوئی روک ٹوک نہیں تھی ، دوستوں کی محفلیں ، لائبریری میں نوٹس بنانا ، دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ، لاہور شہر کی چمکتی گلیوں میں آوارہ گردی ، انگلش فلموں کا جنون ، ان دنوں شاید ہی کوئی انگلش فلم میں نے چھوڑی ہو ۔ شاہدرہ باغ کے گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا اور ہر دوسرے ہفتے والدین کو ملنے کے لیے اپنے آبائی گھر جڑانوالہ چکر لگاتا تھا ۔
میں نے 1985 کے دوران گورنمنٹ کالج لاہور سے جنرل سائنس گروپ میں ایف اے کر لیا اور پھر ادھر ہی بی اے میں داخلہ لے لیا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں اپنی زندگی کے یادگار ترین دن گزارے ۔ بخاری آڈیٹوریم کے اوپر جناب فارانی صاحب کا کمرہ ہوتا تھا جہاں پر میوزک سوسائٹی واقع ہوتی تھی اور میں اکثر و بیشتر میوزک سوسائٹی باقاعدگی سے جاتا تھا ۔ اپنے وقت میں بندہ ناچیز انتہائی ذہین ، شرارتی ، من موجی اور انتہائی زندہ دل نوجوان تھا ۔ صبح کا ناشتہ اکثر و بیشتر کینٹین میں سموسے اور چائے کے ساتھ ہوتا تھا ، اورینٹل کالج کے باہر بھیا حلیم والے کے پاس دوپہر کا کھانا نان اور حلیم سے کرتا اور پھر شاہدرہ باغ روانہ ہو جاتا ۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے دوستوں کو میں اکثر یاد کرتا ہوں جن کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے سنہری دن گزارے ۔ میرا پاک پروردگار میرے ان تمام دوستوں کو سدا سلامت رکھے اور زندگی رہی تو پھر ان سے ملاقات ہو گئی اگر سانسوں نے وفا کی تو ۔۔۔۔۔ مجھے فخر اور ناز ہے کہ میں نے اپنی جوانی کے ایام اس خوبصورت اور تاریخی عظیم درسگاہ میں گزارے اور وہ خوبصورت پل ہمیشہ میرے دل میں اور میری آنکھوں میں سما جا چکے ہیں ۔ مجھے فخر ہے کہ میں اولڈ راوینز ہوں ۔
جڑانوالہ کی مٹی سے آنکھوں میں خواب سجائے جو نوجوان داتا کی نگری لاہور شہر میں آیا تھا وہ پھر جڑانوالہ واپس نہ جا سکا اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دھرتی کا ہو کے رہ گیا اور شہر لاہور سے رشتہ جوڑتے جوڑتے آپ نے بہت سارے رشتوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ آج ماضی کے جھروکوں میں جاگتا ہوں تو سب ایک خواب کی مانند لگتا ہے ۔
میں گورنمنٹ کالج لاہور کے اسی ٹاور کے نیچے کھڑا تھا جس کے نیچے بینچ پر بیٹھ کر میں نے بہت سارے سپنے بنے تھے آج اسی ٹاور کے نیچے کھڑا ہو کر میں سوچ رہا تھا کہ وہ دن کتنے خوبصورت ہے جب میں خواب دیکھا کرتا تھا اور آج ان خوابوں کی کرچیاں اور جوبن میری آنکھوں میں موجود ہے 😪😪🙏🏻

مادر علمی، گورنمنٹ کالج لاہور” ایک تبصرہ

  1. I see You’re really a excellent webmaster. This website loading velocity is incredible. It kind of feels that you are doing any unique trick. Also, the contents are masterpiece. you’ve done a excellent job on this topic! Similar here: najtańszy sklep and also here: Tani sklep

اپنا تبصرہ بھیجیں