muhammad mansoor khan

کڑوی گولی

عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جون میں پاکستان کو ادائیگیاں کرنی ہیں اور اس کے بعد کے حالات غیر یقینی ہیں ۔ اگر آئی ایم ایف کا بیل آوٹ پیکیج نہ ملا تو ملک ڈیفالٹ ہو سکتا ہے ۔ عالمی خبر رساں ادارے بلو مبرگ کے مطابق موڈیز انویسٹرز سروس نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے بیل آوٹ کے بغیر ڈیفالٹ کر سکتا ہے ۔پہلے 9ماہ جولائی تامارچ (2022-23)کے دوران پاکستان کی آمدنی 3.4ٹریلین روپے رہی ، اس لحاظ سے حکومت کابجٹ خسارہ 3ہزار 534روپے تک پہنچ گیاجبکہ دفاعی اخراجات ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔قرضوں اور سود کی ادائیگی پر 3ہزار 582ارب خرچ ہوئے ،اس طرح گزشتہ سال کے مقابلےمیں سود کی ادائیگی پر1464ارب روپے زیادہ اخراجات کئے گئے ۔ ترقیاتی منصوبوں پر 428ارب خرچ ہوئے ، سبسڈیز پر 524ارب اور پنشن کی ادائیگی پر 486ارب سے زائد اخراجات آئے ۔ ایف بی آر نے 5ہزار 156ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔
آئی ایم ایف جو شرائط رعائد کر رہا ہے ان کا مقصد اپنے ڈونرزکے مالی مفادات کاتحفظ کرنا ہے ،اسکے ساتھ ساتھ اپنے رکن ممالک کی مالی مشکلات میں مدد کرنا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بھی آئی ایم ایف کا یہی فارمولا ہے ۔ وہ پاکستان کی مدد کیلئے تیار ہے لیکن وصولی بھی یقینی بنانا چاہتاہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے کے بعد موجودہ ا فراط زر کی شرح جو اس وقت 25فیصد پر ہے وہ 35فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور ڈالر 300کی حد پار کر لے گا ۔بجلی ، گیس اگر عوام کیلئے دستیاب ہوگی تو اس کی قیمتوں میں بھی ہو شربا اضافہ ہوگا ۔پٹرول سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ درآمدات بھی مزید مہنگی ہوجائیں گی۔ آئی ایم ایف کی طرف سے جو نئے مطالبات سامنے آئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپنے ریونیو کے ہدف میں تین سے چار ہزار ارب روپے کا اضافہ کرے ۔ اس کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاکستان کو 30فیصد کی گروتھ چاہئے جونا ممکن امر ہے لیکن وہ حاصل نہ کی گئی تو پاکستان کا بجٹ کا خسارہ 8.5فیصد ہو جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کی مالیاتی پالیسی کا مقصد افراط زر کو کنٹرول کرکے گروتھ میں اضافہ کرنا ہوتا ہے جس کیلئے وہ اپنے ڈسکائونٹ ریٹ میں اضافہ کرکے طلب میں کمی لاتاہے تاکہ ڈیمانڈ میں کمی سے افراط زر یعنی مہنگائی کم ہو لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں اضافے سے نہ تو افراط زر یعنی مہنگائی میں کمی آئی ہے بلکہ وہ ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور جی ڈی پی گروتھ میں بھی اضافہ نہیں ہوا بلکہ وہ منفی سطح پر آگئی ہے ،جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ 21فیصد سے مزید بڑھانے سے بینکوں کے قرضوں کی شرح سود 23فیصد سے 24فیصد ہوگئی ہے اورمالی لاگت بڑھنے سے سود کی ادائیگیاں ناقابل برداشت ہوگئی ہیں جس کے باعث بینکوں کی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں نئی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہا ت میں بجلی ، گیس، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ، آئی ایم ایف کی شرائط پر پابندیاں ہیں۔
معاشی بحران سے نپٹنے کیلئے لازم تھا کہ یہ بوجھ عوام کی بجائے سرمایہ داروںپرڈالاجاتا۔اس ملک کے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے اربوں روپے سالانہ کی معاشی مراعات اور ٹیکسوں کی چھوٹ فوری طور پر ختم کی جاتی۔ وزیروں اورمشیروں کی مراعات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔ ججوں ، جرنیلوں اور بیورو کر یٹس کی تنخواہوں ، سہولتوں اور مراعات پر نظر ثانی کرکے نئے ضابطے اور قوانین بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے وسائل کے مطابق سرکاری عہد یدار مالی فوائد حاصل کریں۔آئی ایم ایف کی فیصلہ سازی پر امریکہ کا ناقابل تردیداثرور سوخ ہے اور اس صورتحال میں اتحادی حکومت کوچاہئے کہ وہ ان تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنائے جو دنیا کی اقتصادیات کو کنٹرول کر رہے ہیں ۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عوام جیئیں یا مریں حکومت کے پاس آئی ایم ایف پھندے سے نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اس مقصد کیلئے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام بحال ہوگا تو ہی پہلے مرحلے میں ڈالر کا ذخیرہ بڑھے گا لیکن نئے قرض کو ادا کرنے کیلئے وسائل کہاں سے آئیں گے ہر دور حکومت میں کہا جا تا رہا ہے کہ منصوبہ بندی کر لی گئی ہے ریاست اور عوام دونوں کو بچائیں گے ، مگر کل بھی اپنے اقتدار کو بچایا جاتا رہا ہے اور آج بھی اپنے اقتدار کیلئے ہی عوام کو آئی ایم ایف کی سولی پر لٹکایا جارہا ہے ۔ آئی ایم ایف پہلے قرض دیتی رہتی ہے ، ایک بار پھر آئی ایم ایف ڈیل مل جائے گی ، مگر آئی ایم ایف سے قرض لینا ہی کامیابی نہیں ،ہماری اصل منزل خود انحصاری ہےجو کسی قوم کی معا شی ،سیاسی آزادی کی ضامن ہو تی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں