منقبت

یوں محمدؐ سے رابطہ رکھا
نام بیٹی کا فاطمہ رکھا

سیدہؑ آپ کے بھروسہ پر
کبریا نے مباہلہ رکھا

دستِ حیدرؑ پہ دستِ زہراؑ ہے
معجزے پر ہے معجزہ رکھا

ایک چکی نے رزق و عالم میں
ایک چکر کا فاصلہ رکھا

جس نے سید کا احترام کیا
محترم اسمِ سیدہؑ رکھا

احترامِ جنابِ زہراؑ نے
حؑر پہ توبہ کا در کھلا رکھا

میری خستہ دلی ترے ممنون
درِ زہراؑ پہ مجھکو لا رکھا

منہ پہ سلمانؑ مل رہا ہے اسے
جانے اس خاک میں ہے کیا رکھا

عشقِ حیدرؑ کا ہم نے سینے تک
صرف آنے کا راستہ رکھا

اک مزارِ بتولؑ ہے ورنہ
تجھ میں دنیا ہے اور کیا رکھا

میں ہوں منبر پہ یعنی زہراؑ نے
جس جگہ کا ہوں اس جگہ رکھا

یا الہی ہیں کون زیرِ کسا
کس نے لہجہ سوالیہ رکھا

انا اعطینا والے نے اکبرؔ
ھوالابتر پہ فیصلہ رکھا

Hassnain Akbarr

اپنا تبصرہ بھیجیں