Tasleem fazli

گیت میڈم نورجہاں کی خوبصورت آواز میں

‏ریڈیو پر یہ خوبصورت گیت میڈم نورجہاں کی خوبصورت آواز میں کس کس نے سنا ہوا ہے؟

ہماری سانسوں میں آج تک وہ
حنا کی خوشبو مہک رہی ہے
لبوں پہ نغمے مچل رہے ہیں
نظر سے مستی چھلک رہی ہے

کبھی جو تھے پیار کی ضمانت
وہ ہاتھ ہیں غیر کی امانت
جو قسمیں کھاتے تھے چاہتوں کی
انہی کی نیت بہک رہی ہے

کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے
نصیب ہی میں وفا نہیں ہے
جہاں کہیں پہ تھا حنا کو کھلنا
حنا وہیں پہ مہک رہی ہے

وہ جن کی خاطر غزل کہی تھی
وہ جن کی خاطر لکھے تھے نغمے
انہی کے آگے سوال بن کر
غزل کی جھانجر چھنک رہی ہے

وہ میرے نزدیک آتے آتے
حیا سے اک دن سمٹ گئے تھے
میرے خیالوں میں آج تک وہ
بدن کی ڈالی لچک رہی ہے

صدا جو دل سے نکل رہی ہے
وہ شعر و نغموں میں ڈھل رہی ہے
کہ دل کے آنگن میں جیسے کوئی
غزل کی جھانجر چھنک رہی ہے

تڑپ میرے بے قرار دل کی
کبھی تو ان پہ اثر کرے گی
کبھی تو وہ بھی جلیں گے اس میں
جو آگ دل میں دہک رہی ہے

تسلیم فاضلی

اپنا تبصرہ بھیجیں