عمرا ن علی خان

لاہور قلندرزکی جہد مسلسل و کامیابی!!!

وطنِ عزیز پاکستان میں ذہین اور باصلاحیت لوگوں کی کمی کسی دور میں بھی نہیں رہی، ہمارے ہاں ججز، سیاستدان، بیوروکریٹس، صنعتکار، انجینئرز، ڈاکٹرز اور کرکٹرز کو کئی طریقوں سے ہمیشہ تنقید کا نشا نہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مگر یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ معاشرے کے یہ افراد مُلکی ترقی میں مسلسل اپنا حصّہ ڈالتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے وطنِ عزیز کا نام پوری دُنیا میں روشن ہوتا ہے۔را قم بطور صحافی مُلک میں بہت سی شخصیات سے نا صرف ملا قا ت ہو تی ہے بلکہ دو را ن ملا قات ان کی بہت سی صلا حتیں اور خوابیا ں بھی مجھ پر افشاں ہو تی ہیں اور پحر انہیں اپنے قلم کو نو ک سے نقش تحریر سے اجا گر کر نے کا شرف حا صل کر لیتا ہو ں ۔گزشتہ دنو ں حسین اتفاق سے مجھے لاہور قلندرز کے نایاب جوہروّں سے ملنے کا موقع ملا جس میں انکی چُھپی صلا حیتوں اور خوبیوںکو دیکھ کر قلم کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کرنے سےاپنی ذات کو رو ک نہیں سکا۔
آٹھ سال پہلے 2016 میں جب پی ایس ایل سیزن کا انعقاد کیا گیا تو زندہ دلانِ لاہور نے اپنی زندہ دلی کی بنیاد پر اس ٹیم کا نام لاہور قلندرز کے نام سے رکھا جس کےسی ای او بزنس تائیکون عاطف راناجبکہ کوچ سابق کرکٹر عاقب جاوید تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ سا
تھ لاہور قلندرز اپنی وہ پرفارمنس نہ دکھا سکی جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی یہ ٹیم مسلسل شکست کا سامنا کر تے ہو ئے تنزلی کی طرف جا تی رہی یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اس ٹیم کی مینجمنٹ کو تبدیل کیا جائے تاکہ یہ ٹیم اپنی کا رکر دگی کو بہتر اندا ز میں پیش کر سکے ۔لاہور قلندز کی ٹیم سلیکشن نا صرف بہت اچھی تھی بلکہ تو قع کی جا رہی تھی کی یہ کھلا ڑی اپنے نا م اور تجربے کی بنیا د پر کامیا بیو ں کے جھنڈے گا ڑیں گے۔ اس بات کے لئےلا ہور قلندر کے سی ای اوعاطف رانا اور کوچ عاقب جاوید پُر اعتماد تھے کہ ہم ضرور جیتیں گے ہم مزید محنت کریں گے اور اپنے نوجوانوں کو مزید موقع دیں گے کیونکہ ہماری امید ہماری ٹیم کے یہ نوجوان ہیں۔ کوچ عاقب جاوید کی دور اندیشی، محنت و مسلسل جدو جہدکی بدو لت لاہور قلندرز نے کامیا بی کے زینے چڑھنا شروع کئے ، جس میں بہترین کھلاڑیوں کو موقع دیاگیا جن میں فخرزمان، شاہین شاہ آفریدی، زمان خان اور حارث رؤف قابلِ ذکر ہیں۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے عوام کے دل جیتے اور لاہور قلندرز کو وہ مقام دلوایا جس کی وہ اہل تھی۔ لاہور قلندرز میں فخر زمان اور زمان خان ایسے کھلاڑی ثابت ہوئے جنہوں نے اپنے سامنے کسی کی نہ چلنے دی اور پھر وہ ہوا جس کی کسی کو بھی امید تک نا تھی۔ لاہور قلندر زنے بازی پلٹ دی، ان کی ناکامیاں کامیابیوں میں تبدیل ہو نے لگیں ان کی کامیابیوں کے پیچھے لاہور قلندرز کی مینجمنٹ کا اعتماد نظر آنے لگا۔ کوچ عاقب جاویدکی مہارت اور تجربہ نے شاہین شاہ آفریدی کو بطور کپتانی کی ذمہ داری سونپی جس نےلاہور قلندرز ٹیم میں جیت کا ایک نیا جذبہ اور روح پھونکی یہی وہ گیدڑ سنگی تھی جسے لاہور قلندرز کی مینجمنٹ نے اپنایا تو لگاتار دو بار شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں یہ ٹیم سپر لیگ کی چیمپئن بنی۔ اس ٹیم کا زیرو سے ہیرو بننا ناقابلِ یقین تھا مگر عاطف رانا کی مستقل مزاجی اور عاقب جاوید کی خدادا صلاحیتوں نے انکے اس سفر کوآسان کر کے کامیاب بنا دیا۔یہ وہی ٹیم ہے جس کی صلا حیت سے لوگ ما یوس ہو چکے تھے مگر اب اسی ٹیم پرجس پرسارا مُلک فدا ہے۔
\ یقینا پی ایس ایل کے اگلے جیتنے بھی سیزن ہوں گے اُن میں لاہور قلندر سب سے فیورٹ اور دلوں کا محور ہو گی۔
گراونڈ میں موجود شا ئقین بو لیں گے ہم جیتیں گے کیونکہ ہم ہیں “قلندر دل سے”!!!………

اپنا تبصرہ بھیجیں