ندیم اختر ندیم

یکم مئی کا پیغام کیا ہے؟

پاکستان میں ہر سال یوم مزدور یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔امریکہ میں مزدروں کا یہ دن ستمبر کی پہلی سوموار کو منایا جاتا ہے امریکہ میں اس دن کے منائے جانے کی وجہ ایک حادثہ ہے اس روز امریکی مزدوروں کی خدمات کا اعتراف اور امریکی معیشت میں انکے کردار کو تحسین پیش کرتے ہیں، یہ 19ویں صدی کا ذکر ہے جب امریکہ میں مزدوروں سے طویل کام لیاجاتاجبکہ اجرت کم ملتی۔مزدور کے بیمار پڑنے پر اسے چھٹی تک نہ ملتی مزدور تنظیمیں متحد ہوگئیں اوراپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی جس میں مزدور کے اوقات کار۔سہولیات۔اجرت شامل تھی اس احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا امریکہ میں مزدوروں کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ڈیوٹی کا دورانیہ آٹھ گھنٹے مقرر ہوا۔قانون سازی میں صحت اور دیگر سہولیات شامل تھیں پھر 28 جون 1894کو مزدروں کی خدمات کے اعتراف میں لیبر ڈے منانے کی منظوری دی گئی کینیڈا نے بھی امریکہ کی تقلید میں لیبر ڈے منانا شروع کیا اسکے بعد دنیا میں لیبر ڈے منایا جانے لگا 1886میں شگاگو میں سرمایہ داروں کے استحصالی نظام کے خلاف اٹھنی والی آواز دنیا بھر میں سنائی دی جب امریکی مزدوروں کا قتل عام کیا گیااُس وقت امریکہ میں اپنے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کی گونج آج بھی دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے لیکن پاکستان میں تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر مزدور کا معاشی قتل ہورہا ہے۔ استحصال کیا جارہا ہے مزدور سے سولہ سے بیس گھنٹے کام لیا جارہا ہے اور کسی کو ملال تک نہیں۔مزدور کا پسینہ تو رہا ایک طرف اسکا خون تک سرمایہ داروں کے کارخانوں کو استحکام بخش چکا ہے لیکن پاکستان کا مزدور صرف محنت کی بھٹی میں جلنے کے لئے ہے پاکستان میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہے کہ پاکستان کا مزدور یہاں کے امراء کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے اور پاکستان کے مزدور کے نام پر ہمدردیاں سمیٹنے کا اجر امراء تک پہنچنے کیلئے ہے
مزدور کے لئے محض پہاڑ دن کی مزدوری کے بعد روٹی کے چند ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں یہاں مزدور دن بھر اپنی پیٹھ پر سورج ڈھوتا ہے۔ مزدور مزدوری کا ایندھن بنتے ہوئے بیمار پڑگیا تو کسی کو کوئی غم نہیں
اگر وہ محنت کے ریگزاروں میں چلتے ہوئے مربھی گیا تو وقت کی ہوا محرومیوں کے صحرا میں اس پر مٹی ڈال دیتی ہے اور پھر اس مزدور کا بچہ بھی مزدوری کے سنگلاخ راستوں پر چلتے ہوئے پاؤں زخمی اور روح گھائل کرلیتا ہے لیکن اپنی محنت کا ثمر نہیں پاتا اور یہ سلسلہ روز اول سے ہنوز دراز ہے
پاکستان کے مزدور کا پیرہن دریدہ اور اسکی آنکھوں میں حسرت ہے ماتھے پر لاتعداد شکنیں ہیں جسم لاغر و نحیف مگر پھر بھی وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے سرگرداں ہے ہر رات وہ سوتے ہوئے بستر پرہر کروٹ کے ساتھ کراہتا ہے اسکی ہر صبح بوجھل ہے تھکن سے چور بدن اسے کام پر جانے کی اجازت نہیں دیتا لیکن جائے بغیر چارہ بھی نہیں یوں تو ہر سال حکمرانوں کی جانب سے مزدروں کے لئے بلند و بانگ دعوے ہیں اسکی ماہانہ تنخواہوں میں اضافے کا اعلان ہے لیکن صرف کہنے کو ہے اس میں عملی اقدامات نہیں ہیں امریکہ میں اٹھارہویں صدی کے بعدہونے والا حادثہ مزدروں کو حیات جاوداں دے جاتا ہے اور پاکستان میں آئے روز مزدور کبھی کوئلے کی کانوں میں دب کر تو کبھی فیکٹریوں کے دھویں میں گھٹ کر مرجاتا ہے
شہروں میں کام کے انتظار میں کھڑے مزدور کسی گاڑی کے آنے پر اس کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے کوئی خزانہ پالیا ہو ہمارا مزدور مزدوری کے دوران زخمی بھی ہوا تو اسے اپنے زخموں پر خود ہی مرہم رکھنا پڑتا ہے پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرکاری سطح پر 1972میں یکم مئی کو مزدروں کے دن سے تعبیر کیا تب سے آج تک پاکستان میں یوم مزدور منایا جاتا ہے کہ ذووالفقار علی بھٹو نے مزدور کی بات کی تھی پھراسکے بعد کسی کو ایسی توفیق نہ ہوئی۔ لیکن یکم مئی کا پیغام کیا ہے؟ کہ مزدور مجبور نہیں۔محنت کش کا نصیب برباد نہیں۔استحصال اسکا مقدر نہیں۔ظلم سہنا اسکا حصہ نہیں۔ایک مزدور محنت کے انگاروں کو بھی اپنے لئے پھول سمجھتا ہے اگر اسے اسکی محنت کا صحیح معاوضہ مل جائے لیکن صد افسوس ہمارے ہاں اسکی محنت کا سفر رائیگاں ہی ہے یوم مزدور محنت کشوں کے حقوق کا دن ہے جو اپنے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتا ہے لیکن پاکستان میں یوم مزدور پر مزدور اپنے جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ نہیں بلکہ اس روز بھی وہ دوقت کی روٹی کا متلاشی ہے مزدور کے لیے کسی فیکٹری میں اس مستقبل کے نام پر کوئی معاہدہ نہیں کوئی مزدور یونین مزدور کے لئے حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کررہی مزدور کیلئے منافع کے نام پر کچھ نہیں گویا ہمارے ہاں آج بھی مزدور کا استحصال جاری ہے اسی استحصالی نظام کی بات جناب فیض احمد فیض نے کی تھی جناب احمد ندیم قاسمی نے کی تھی لیکن آج مزدور کی بات کوئی نہیں کررہا اگر دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں محنتوں کشوں کے مسائل ہی پاکستان کا ایک اہم مسئلہ ہے حدیث مبارکہ ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسکی مزدوری ادا کردی جائے اور یہاں مزدور کئی کئی ماہ کی مزدوری کا معاوضہ نہیں پاتا بلکہ ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ وڈیرے خاندانوں کے خاندان یرغمال بنا کر ان سے کئی کئی سالوں سے مشقت کروارہے ہیں اور کوئی مزدور یونین انکے لئے متحرک بھی نہیں نہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے قاعد کے پاس مزدور کیلئے کوئی منصوبہ ہے شگاگو میں اپنے حقوق کی بقا کے لیے مرنے والوں اور مزدور رہنماؤں کو پھانسیاں دئیے جانے والوں کو امریکہ میں آج بھی شہید کہا جاتا ہے وہاں ایک مزدور کا رتبہ کسی افسر سے کم نہیں اور ہمارا مزدور معاشرے کا قابل ذکر رکن نہیں بس یہ تفریق جس روز ختم ہوگئی اس کے بعد ہی ہمیں یوم مزدور منانے کا حق ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں