محمد ارشد جیلانی

کشمیر کا مسئلہ : فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے ؟

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا پر ہیں۔۔۔کشمیری عوام ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور دفاعی و مزاحمتی حربے اور طریقے بھی خود ہی ایجاد کررہے ہیں اور بھارت ان کے جذبہ حریّت پسندی کو کچلنے کی ناپاک سازش کررہاہے ۔وہ وحشیانہ انسانیت سوزاور شرمناک مظالم کی ہر وہ ترکیب استعمال کررہاہے جو ایک ظالم ذہن میں آسکتی ہے لیکن اس کے باوجود جموں و کشمیر کی تحریک آزادی ایک انتہائی سنگین اور نازک دور میں داخل ہوکر پورے مقبوضہ کشمیر کوآتش فشاں بناچکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ محسوس ہوتاہے کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی اور قومی سطح پر ایک فیصلہ کن موڑ پر آچکا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت نے اپنی پروپیگنڈہ مہم تیز کرکے امریکی دبائو بھی پاکستان کی طرف بڑھانا شروع کردیاہے۔کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ نے جس بے اصولی جانبداری اور بے ضمیری کا ثبوت دیا ہے اس سے پوری دنیا واقف ہے ۔ کیا عدل وانصاف کے اس دعویدار ادارے کو اس بات کا احساس نہیں کہ اس نے مظلوم کشمیریوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں کیا وعدے کئے تھے؟ کیا وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ بھارت معصوم کشمیریوں پر کس طرح عرصہ حیات تنگ کررہاہے ان کے گھروں دوکانوں حتیٰ کہ مسجدوں کوآگ لگائی جارہی ہے اور شہید کیا جارہاہے۔ کیابھارت کے مظلوم مسلمانوں کی دلدوز آہوں اور ا ن پر مظالم کی وحشت ناک داستانوں سے ان کے کان آشنا ہیں؟کیا ان کے مصائب مصائب نہیں۔۔۔؟لیکن اب ہمیں سوچناہے کہ پاکستان کے مفادات کی کون نگہبانی کررہاہے ۔۔۔؟؟عوام اور حکمرانوں کو ہوشمندی سے اب فیصلے کرنے ہیں۔۔۔ اب یا کبھی نہیں کا مرحلہ سامنے آپہنچاہے۔ ! تاریخ کا یہ نازک موڑہمیں پکار رہاہے کہ ہم فرقہ واریت ،علاقائی تعصبات ، لسانی اور صوبائی تعصبات سے بالاتر ہوکر سیاسی مفادات سے آگے بڑھ کر انتشار کی بجائے ایک قوم بن کر اتحاد و اتفاق سے آزادی کشمیر میں اپنا کردار اداکریں اور حکمران ایسی پالیسی وضع کریں جس سے تکمیل پاکستان کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو۔۔۔ آج ہمیں عزم کرنا ہوگا کہ ہم متحد ہوکر ہندوئوں کے اس ناپاک عزائم اور ارادوں کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیںگے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے ۔آمین اخوت اور بھائی چارہ اسلامی معاشرے کا اہم جزو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں ہم آہنگی اور اتحاد برقرار رکھنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ کی ضرورت پر بہت زورے دیا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے’’بے شک تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں‘‘۔ اس طرح قرآن نے اخوت کو جزو ایمان بنا دیا ہے۔ قرآن حکیم اور سنت پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوجائے گاکہ اخوت کا اولین مقصد اسلامی معاشرے کے اندر تعاون اور امدادباہمی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔امدادباہمی معاشرے میں انسان کی زندگی پر کئی طرح سے اثر انداز ہوتی ہے اور یہ فرد کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑے بڑے سماجی مفکرین امدادباہمی کو انسانی بہبود کے فروغ کیلئے بہت زیادہ اہمیت دیتے آئے ہیں۔ ان میں سے بعض مفکرین کا خیال ہے کہ امدادباہمی کے بغیر انسانی زندگی برقرار نہیں رہ سکتی۔ انسان نہ اکیلا رہ سکتاہے اور نہ اپنی بنیادی ضروریات اکیلا پوری کرسکتاہے۔ موجودہ دور کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو دیکھا جائے تو امدادباہمی اور تعاون کی ضرورت کا شدت سے احساس ہونے لگتاہے ۔ امدادباہمی اور تعاون معاشرہ کی بنیاد ہے اور انسانی زندگی کی بقاء اور ترقی کو جاری رکھنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔یہ بھائی چارہ جب عالمی بھائی چارے کی صورت اختیار کرلیتاہے توانسان کے جسم کی مانند بن جاتا ہے۔ جسم کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو دوسرے حصے بھی بے چین ہوجاتے ہیں ، اس طرح وہ غم اور خوشی میں ایک دوسرے کے برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ مسلمانوں کو نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ برے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد سے منع کیا گیا ہے۔امدادباہمی کا جذبہ یقینا اسی وقت دلوں میں اجاگر ہوتاہے جب ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے اخوت، انصاف و رواداری اور رحم دلی پیدا ہوتی۔ خودغرضی اور نفسا نفسی انسان کو اپنی ذات میں محصور کردیتی ہے۔ امدادباہمی کے عمل دخل کے بغیر زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی و سرخروئی کے جھنڈے نہیں گاڑے جاسکتے ۔ آج ہمارے وطن کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے باہمی مدد کے اصول کو اپنائیں۔ ایسی فرسودہ رسوم جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح جڑ پکڑ چکی ہیں اور جن پر ہم لاکھوں روپے بلا وجہ ضائع کرتے ہیں اگر انہیں مثبت رخ دے دیا جائے تو کئی بھوکوں کا پیٹ بھر سکتاہے، کئی بیمار شفایاب ہوسکتے ہیں، بیشمار جاہل صاحب علم ہوسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر قومی معیشت کو مستحکم بنایا جاسکتاہے۔ہماری غیرت مندی اور خودداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپس میں مل کر ملکی وسائل کو بروئے کار لائیں۔ ہماری شناخت پاکستان سے ہے اور پاکستان کی بقاء کا انحصار ہماری اجتماعی و مشترکہ جدوجہد پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یکجہتی و اتفاق سے جینے کا سلیقہ سیکھا دے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں