Jalil-Aali

بُجھنے لگے چراغ

بُجھنے لگے چراغ تو گھر کو جلا لیا
سو آندھیوں میں جشنِ تمنّا منا لیا

جن کی قبا پہ شاہ نے کاٹے لگا دیے
لوگوں نے ان کو اپنے سروں پر بٹھا لیا

اِک جنّتِ سراب کے بدلے میں کون دے
سو سومنات بھینٹ چڑھا کر خدا لیا

اُس کے لیے یہ عین فراست کی بات ہے
اپنے کہے کو جس طرح چاہا گُھما لیا

قابو میں کس طرح دلِ سرکش کو لائیے
وحشی نے جیسے بندِ سلاسل تُڑا لیا

آنکھوں نے ایک عکس اُتارا درونِ دل
باغِ خیالِ یار نے کیا کچھ اُگا لیا

کتنے سخن وروں نے فقط حرصِ نام میں
عرضِ ہنر کو ایک تماشا بنا لیا

جلیل عالی

اپنا تبصرہ بھیجیں