پچھلے ہفتے بھارت میں جی 20 کے اجلاس کے موقع پر سرکاری سرپرستی میں ایک کتابچہ شائع کیا گیا جس کا ٹائٹل تھا ’’بھارت، جمہوریت کی ماں‘‘۔ اسی موضوع پر جی 20 کے مہمانوں کیلئے بھارتی وزارت ثقافت نے ایک نمائش بھی رکھی۔آپ کو یاد ہو گا کہ دو سال قبل بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی لیڈرز کے سامنے یہ کہا تھا کہ بھارت کو جمہوریت کی ماں سمجھا جاتا ہے۔ یہی بات انہوں نے اپریل 2021 میں بھارتی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز سے خطاب کرتے ہوئے بھی کی تھی۔ اپنے ملک کی عظمت اور شاندار ماضی کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے کیلئے وہ ہر ایسا فورم استعمال کر رہے ہیں جو بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ قائم کرنے کیلئے اہم ہے۔ نریندر مودی کا بھارت کو جمہوریت کی ماں قرار دینا کس حد تک درست ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔دس ہزار سال قبل انسان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں رہتا تھا جو تقریباً پچاس سے سو افراد پر مشتمل ہوتی تھیں۔ ان افراد کو جب کسی معاملے کو حل کرنا پڑتا تو یہ آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کر لیتے۔ جمہوریت کے بنیادی عناصر کی موجودگی کی قدیم ترین نظیر ان ہی ٹولیوں میں ملتی ہے جو اپنے اراکین کی آرا کو اہمیت دیتی تھیں اور ان کی فلاح کا خیال بھی رکھتی تھیں۔معلوم تاریخ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی ٹولیاں سب سے پہلے افریقہ میں موجود تھیں۔ موجودہ بھارت میں لوگ نسبتاً بعد میں رہائش پذیر ہوئے۔اسمبلی کے ذریعے حکومت چلانے کی اولین مثال ہمیں 12 ویں صدی قبل مسیح میں ملتی ہے جب بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ملک فونیشیا (موجودہ لبنان) میں ریاست کا سربراہ ملکی مسائل کے حل کے لیے خاص چنے ہوئے لوگوں سے صلاح مشورہ کیا کرتا تھا۔معروف تاریخ دان جان کین اپنی کتاب ’جمہوریت کی زندگی اور موت‘ میں ایک مصری تاجر کا ذکر کرتے ہیں جسے بحری قزاقوں نے گھیر لیا تو معاملے کے حل کے لیے وہاں کے شہزادے نے اسمبلی بلائی۔ گویا اس دور میں بھی چنے ہوئے لوگوں سے مشورہ کر کے مسائل کے حل کا رواج موجود تھا۔ جمہوریت کی بنیاد ساتویں صدی قبل مسیح میں ایتھنز میں ڈالی گئی جب سولون کو بادشاہ منتخب کیا گیا۔ اس نے ایتھنز کا کوڈ آف لا ترتیب دیا اور خاندانی برتری کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ سولون کے بعد کلیستھینز کے دور میں تمام مردوں کے لیے برابر حقوق دینے کا اعلان کیا گیا۔ اسی لیے اسے بابائے جمہوریت تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی دور میں دنیا میں پہلی بار لفظ ’ڈیموکراٹیا‘ لکھا اور بولا گیا جس کا مطلب لوگوں کی حکومت بنتا ہے۔یونانیوں نے یہ لفظ اپنے نظام حکومت کے لیے استعمال کیا۔ بعد ازاں ڈیموکریسی کے خیال پر افلاطون نے جمہوریہ اور ارسطو نے پالیٹکس نام سے کتابیں لکھیں۔ جمہوریت کے حوالے سے انہی خدمات کی بدولت ایتھنز کو ’جمہوریت کا گہوارہ یا برتھ پلیس آف ڈیموکریسی‘ سمجھا جاتا ہے۔جس زمانے میں یونان میں یہ سب ہو رہا تھا تب بھارت کے لوگ چار بڑی ذاتوں میں تقسیم تھے اور وہاں جمہوریت کے بنیادی عناصر، حقوق کی برابری اور حکومتی امور میں یکساں شرکت سرے سے غائب تھے۔ چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر اس کی گواہ ہے۔پولیٹکل فلاسفی کی بنیاد ارسطو نے رکھی، جدید طرز کی سیاسی جماعتوں کا آغاز برطانیہ سے ہوا اور دنیا میں مرد و خواتین کو ووٹ کا یکساں حق دینے والا پہلا ملک نیوزی لینڈ تھا۔ بھارت اس پورے کینوس میں جمہوریت کے لیے خدمات کے حوالے سے کہیں موجود نہیں۔ پھر اسے کیوں جمہوریت کی ماں سمجھا جائے؟موجودہ دور کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سو سے زائد ممالک بھارت سے قبل اپنے نام کے ساتھ جمہوریہ کا اضافہ کر چکے تھے۔ پھر یہ کیسی ماں ہے جو بچوں کے بعد پیدا ہوئی؟اگر صرف لوگوں کی تعداد کے حوالے سے دیکھنا ہے تو چین اس وقت سب سے بڑا ملک ہے جو جمہوریہ ہونے کا دعویدار ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ مغربی ممالک کو اس کے ری پبلک ہونے پر یقین نہیں۔اگر جمہوریت کے حوالے سے خدمات کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ اپنے آپ کو سب سے بڑا جمہوریت پرست سمجھتا ہے۔سو، بھارتی وزیر اعظم نے بھارت کو جمہوریت کی ماں کیوں قرار دیا، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں اور تاریخ اس سادگی پر مسکرائے دیتی ہے۔ انفارمیشن کی جنگ میں وہی جیتتا ہے، جو ہر وقت ٹارگٹ آڈینس کے ساتھ رابطہ قائم رکھ کر مخصوص بیانیہ پہنچاتا رہے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کے روشن پہلوئوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کیلئےاقدامات کرنا ہوں گے، اس سلسلے میں وزارتِ اطلاعات کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
