عرفان اطہر قاضی

شایدکہ تیرے دل میں ….

شایدکہ تیرے دل میں ….

معاشی طور پر ہچکولے کھاتے پاکستان، ڈیفالٹ ہونے یا نہ ہونے کی بحث کے دوران اگر کوئی آپ کو روشنی کی کرن دکھائے تو آپ شایداسے دیوانہ ہی کہیں گے۔ ہمیں ناامیدی نے اس حد تک گھیر لیا ہے کہ کوئی اچھی خبر بھی بُری محسوس ہونے لگتی ہے۔ آپ ایک دوسرے کو لاکھ تسلیاں دیتے رہیں کوئی آپ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ آج کا کالم اسی پس منظر میں پڑھئے ممکن ہے کوئی راہ نکل آئے لیکن ضروری یہ ہے کہ امید کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیجئے اور ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے کی عادت سے نجات حاصل کریں ، تو بات بنے گی۔ نااہل حکمرانوں کے ساتھ ساتھ کچھ ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں ورنہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ یاد رکھئے چینیوں نے فاقہ کشی سے نکل کر دنیا کی معیشتوں پر چھا جانے کے بعد اب دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ جنگ و جدل سے صرف تباہی آتی ہے ترقی و خوش حالی نہیں۔ آج ہم سب کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ عالمی سیاست پر چین کا معاشی غلبہ ہر طرف نظر آرہا ہے ۔ امریکہ کی جنگی حکمت عملی اور ملکوں پر قبضہ کرکے تسلط قائم کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ خصوصاً امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے شکست خوردہ انخلاءکے بعد جیو پولیٹیکل صُورت حال نے جس تیزی سے کروٹ بدلی ہے، کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کی ’’لڑاؤ اور راج کرو‘‘ پالیسی آناً فاناً زمیں بوس ہو جائے گی۔ آج امریکی بھی اپنی معیشت اور عالمی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بچانے کی خاطر بیجنگ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو دامن میں رسوائی اور شرمندگی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف صرف دو ارب ڈالر قرض کے لئے ہم بھیک مانگ رہے ہیں اور ترلے منتوں اور دوستوں کی مالی ضمانتوں کے باوجود امریکی چھتری تلے آئی ایم ایف ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پوری قوم سے ناک سے لکیریں نکلوا رہا ہے۔ یہ سب امریکی سیاست کے وہ حربے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور اس سے بڑھ کر معاشی ایٹم بم سی پیک کو ڈی فیوز کیا جاسکے۔ اللہ کی حکمت کو غنیمت جانئے اور یقین رکھئے کہ اگر ہم متحد رہے اور کسی سازشی فتنے نے مزید سر نہ اٹھایا تو آنے والے دنوں میں ترقی و خوش حالی کے نئے راستے کھلیں گے۔ اس امید و یقین کا پس منظر یہ ہے کہ بیجنگ کے بڑے ہالوں میں ہونے والے اہم اجلاسوں میں شریک خطے کے طاقت ور لوگوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اب یہ بات طے ہو چکی ہے کہ دنیا کی ترقی و خوش حالی کے راستے پاکستان سے ہی ہو کر گزریں گے اور پاکستان کو کسی بھی صورت معاشی ، دفاعی و سیاسی لحاظ سے کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا اور جہاں تک ممکن ہوگا پاکستان کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ ختم کرنے کیلئے ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ تقریباً اپنی مدت پوری کرتی اتحادی حکومت تیزی سے گرتی اپنی عوامی ساکھ بحال کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ دوسری طرف قوم کے سپوت دہشت گردوں کا صفایا کرنے کیلئے دن رات اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ اچھی خبریں یہ ہیں کہ پہلی بار افغان طالبان انتظامیہ اور حکومت ایران دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ افغانستان اور ایران کے اندر پناہ لینے والے دہشت گرد ،ان کے ہینڈلرز کے نیٹ ورک ختم کئے جارہے ہیں۔ بیجنگ میں ہونے والے اہم اجلاسوں کے نتائج تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔آپ آنے والے دنوں میں بڑے بڑے دہشت گردوں کو انجام تک پہنچتا دیکھیں گے۔ یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ جن دہشت گردوں کو پاکستان میں آباد کرنے کی سازش کی گئی تھی وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے یا ہتھیار ڈال دیں گے۔ بصورت دیگر جہاں سے آئے تھے وہاں واپس جا کر امن و سکون کی زندگی گزاریں گے۔ آخری ہچکیاں لیتی ملکی معیشت، بڑھتی بے روزگاری، خودکشیوں پر مجبور کرتی غربت کے اس لمحے میں اگر خوشی یا امید کی کوئی ایک کرن بھی نظر آتی ہے تو ان خبروں اور حالات کے پس منظر میں تلاش کرلیجئے شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔ روس سے سستا تیل آنے کے بعد جو سبز باغ دکھائے گئے تھے وہ اتحادی حکومت نے حقیقت بنا کر قوم کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ خوشی کی خبر یہ ہے کہ تیل کی خریداری پر ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا گیا ۔ تمام ادائیگیاں چینی کرنسی آر ایم بی میں کی گئیں۔ گویا کہ ڈالر پر انحصار ختم کرنے کی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے اور اسے متوقع امریکی پابندیوں کے خلاف جنگی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے گا۔ مستقبل میں اس کا دائرہ کار وسطی ایشیائی ریاستوں، خلیج فارس اور عرب دنیا تک پھیلتا چلا جائے گا۔ پاکستان ، چین، روس اور ایران کے درمیان بارٹر سسٹم کے تحت تجارت ، سامان کے بدلے سامان، امریکی ڈالر کی بجائے مقامی کرنسیوں میں لین دین سے پاکستان میں مہنگائی اور غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ شاہراہ ریشم سے گزرتا ہوا گوادر تک پہنچنے والا سی پیک دنیا کو معاشی طور پر اس طرح جوڑ دے گا کہ کوئی بھی ملک اس میں شرکت کئے بغیر معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں کرسکے گا۔ سی پیک کے تحت عالمی تجارت کا انحصار ڈالر کی بجائے مقامی کرنسیوں پر کیا جائے گا۔ سی پیک دنیا کیلئے کتنی اہمیت اختیار کرچکا ہے اس کے منظر و پس منظر سے جڑے رہئے ۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں