ندیم اختر ندیم

إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ

دعا دل سے نکلی ایک فریاد ہوتی ہے جو پروردگار کی بارگاہ میں شرف قبولیت پاکر مرادوں کے پھول کھلادیتی ہے دعاؤں کی بہار جاوداں جیون خوشبوؤں سے معطر رکھتی ہے دعائیں کیسے بھی کی جائیں اثر رکھتی ہیں دعا طبیعت کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے کہ جب ہم یقین کی رعنائیوں میں ڈھل کر ہاتھ اٹھاتے ہیں یا پھر قدرت نے کچھ لمحات ہی ایسے رکھے ہیں کہ جب دل سے نکلی بات رب کریم کی بارگاہ میں فوری قبولیت پالیتی ہے پاکستان کے سابق صدر رفیق تارڑ نے بھی دوستوں کے ساتھ غالب کے مرغوب پھل سے لطف اندوز ہوتے گرمیوں کی ایک دوپہر میں کہا تھا کہ میں پاکستان کا صدر بن گیا تو عدلیہ کا نظام بہتر کردوں گا خدائے واحد نے انکے دل سے نکلی بات کو قبولیت کی سرفرازی بخشی اور وہ پاکستان کے صدر بن گئے ہمارے ایک ماموں جان مرحوم کوئی وقت تھا معاشی استحکام رکھتے تھے انکی رحلت کے بعد انکے اہلخانہ حالات کی تلخیوں سے دوچار ہوئے بچوں نے محنت کی اور ثمر پایا حالات معمول پر آگئے ایک روز ہماری ممانی اپنی ایک بیٹی کو لئے کہیں جانے کو نکلی راستے میں فقیر نظر آیا اسے دیکھتے ہی ماموں کی بیٹی بولی اماں جان خدا مجھے اس فقیر جیسا شوہر دے تاکہ گھر بیٹھے متلون کھانے میسر ہوں کیونکہ فقیر دردر سے مانگتا ہے اور مختلف ذائقوں کے کھانے لاتا ہے بس وہ وقت ہی ایسا تھا کہ جب اس بیٹی کے منہ سے نکلی بات قدرت کو پسند آگئی اور اللہ کریم نے اسکا بیاہ ایسی جگہ کردیا کہ جہاں اس کی آرزوؤں کا جہان آباد ہوا اسکے شوہر کراچی ایک ٹی وی چینل کے اعلی عہدے پر فائز ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں اچھی رہائشیں ہیں فارم ہاؤسز ملازم۔گاڑیاں اور خدا کا دیا سب کچھ ہے اور ماموں کی وہ بیٹی ان دنوں امریکہ نجی ٹی وی کی بیورو چیف ہیں اسکی ایک بیٹی ہے جو وہیں زیر تعلیم ہے۔
ہمدم دیرینہ جناب اعجاز بٹر مرحوم بتایا کرتے کہ بچپن میں ان سب بہن بھائیوں کو گھر سے پیسے ملتے تو ماں کسی بھائی کو پچاس پیسے تو کسی کو ایک روپیہ دیتی اور مجھے چار آنے ملتے تو میں کہتا ماں جی بڑے بھائی کو پچاس پیسے اور مجھے چار آنے؟توماں کہتی کہ میرا ’جج پتروی تے توں ای اے ناں‘(میرے جج بیٹے بھی تو آپ ہو) اور اللہ نے مجھے جج(سیشن جج رہے) بنا دیا حالانکہ ماں تو اعجاز نام کی نسبت اور پیار سے جج کہتی
ماں کی عقیدت سے یاد آیا سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب افضل ظلہ سے پوچھا گیا جناب یہ ظلہ آپکی کاسٹ ہے تخلص ہے کیا ہے؟ انہوں نے کہا میری ماں بچپن میں مجھے ظلہ کہتی تھی تو ماں کی محبت میں ظلہ کو میں نے اپنے نام کا حصہ بنالیا یعنی پنجابی میں افضل سے ظلہ۔ یقینا ماں کے ظلہ کہنے میں اپنائیت اور دعاؤں کا لازوال ذخیرہ مضمر تھا۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف کی والدہ دوسرے بیٹے کے گھر رہتی خواجہ صاحب گھر سے نکلتے تو عدالت جاتے ہوئے ماں کی قدم بوسی کیلئے جاتے انکی دعائیں پاتے
اب یہ واقعہ ہے تو طوالت طلب ہے لیکن پیش کئے چاہتا ہوں ہم نے سعودی عرب جدہ میں احمد فراز کے ساتھ مشاعرہ پڑھا وہاں ہم سابق وفاقی وزیر جناب شہباز چوہدری کی دعوت پہ پہنچے ایک دوست کو ضد تھی کہ پاکستان بائی روڈ جانا ہے سفارت خانوں سے ویزے لئے اور چل نکلے سعودیہ سے اردن۔ شام۔دمشق پہنچے شام کا تاریخی بازار دیکھا مؤذن رسول ﷺ حضرت بلال ؓ کے مزار پر حاضری دی پھر ترکیہ سے ایران پہنچے تو سرحد پر روک کرپاسپورٹ لے لئے گئے کہاگیا کہ ویزے میں سفارتخانے کے کسی افسر کے دستخط نہیں یا نہ جانے کیا تھا ہم نے کہا اس سفارتخانے سے رابطہ کرنے دیا جائے یا پاکستان وزارت خارجہ سے لیکن وہ نہ مانے شام کا وقت تھا
گاڑی ہمارے پاس اپنی تھی رات ہوئی تو گاڑی کی ایک سیٹ پر راقم السطور اور ایک پر دوست دراز ہواہمیں بارڈر کی سکیورٹی کی طرف سے کہا گیا رات آپ قیام کیجئے صبح فلاں افسر آئیں گے آپکو انکے حضور پیش کیا جائے گاوہاں سے جو حکم ہوا اسکے مطابق آپ سے سلوک روا رکھنا ہوگا دوست تو سفر کی تھکن سے لمحے میں سو گیا لیکن مجھ شاعر کو نیند کیا آتی رات آنکھوں میں کٹی اچانک یاد آیا کہ سرکار کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حضرت ام سلمیؓ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺکوئی مشکل میں ہو تو کیا کرے آپ سرکارﷺ نے فرمایا وہ یہ دعا پڑھے بس میں وہ دعا پڑھنے لگا اور پڑھتا ہی گیا صبح ہوئی بتایا گیا کہ مذکورہ افسر نے طلب کیا ہے ہمارے پاسپورٹ تو رات سے انکے پاس تھے ہم انکے دفتر پہنچے تو میں نے اس افسر کو ہاتھ پیچھے باندھے کمرے میں عالم اضطراب میں چکر کاٹتے پایا جیسے وہ ہمارا بڑی بے چینی سے انتظار کررہا ہو اس نے ہم سے کچھ سوال نہ کیا
اور ہمیں دیکھتے ہی میز کا دراز کھولا میرا پاسپورٹ مجھے اور دوست کا اسے دیتے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی ہم پاکستان پہنچے ہماری والدہ ماجدہ مرحومہ بیمار رہتی تھی اس لئے کبھی ان سے ایسی بات نہیں کی کہ وہ پریشان نہ ہوں میں گھر پہنچا باتیں ہوئی تو والدہ ماجدہ گویا ہوئیں کہ فلاں رات مجھے خواب آیا کہ تم کالے پانی میں ڈوب رہے ہو اور ایک نورانی صورت والے نے کہا کہ تمہارا بیٹا پانی میں ڈوبتا ہے اسے بچاؤ تو میں نے کہا حضرت میں تو بیمار ہوں آپ ہی مدد کیجئے تو اس خوبرو بزرگ نے تمہیں پکڑ کر پانی سے نکال دیا ماں کو یہ خواب جس رات آیا یہ وہی رات تھی جس رات ہم نے ایران اور ترکی سرحد پر پریشانی میں گذاری واللہ میرا ایمان ہے کہ ماں جی کے خواب میں آنے والی ہستی نبی کریم حضرت محمدﷺتھے جنکی بتائی دعا میں اس رات پڑھتا رہا لہذا دعائیں کرتے رہئے دعائیں دیتے رہئے اور دعائیں لیتے رہئے کیونکہ۔ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ

اپنا تبصرہ بھیجیں