Rauf kalasra

ملتان کے ڈاکٹر انوار احمد ساتھ واردات

زندگی میں انہونی ہوتی ہے اور ان لوگوں ساتھ ہوتی ہے جن کا آپ تصور تک نہیں کرسکتے۔ کم از کم ڈاکٹر انوار احمد صاحب جیسے استاد کے ہزاروں شاگرد جو انہیں جانتے ہیں وہ کبھی یہ نہیں مان سکیں گے کہ وہ انسان جس نے عمر بھر چھوٹے بڑے، کمزور طاقتور، غریب امیر سب کی بلاامتیاز مدد کی، درجنوں افسانے غریب اور غربت پر لکھے، مظلوموں کے حق میں ہمیشہ آواز اٹھائی، دل میں ان کا درد محسوس کیا وہ بھی اپنے ہی ملتان گھر میں دو ڈاکوئوں کے ہاتھوں گن پوائنٹس پر یرغمال بنا کر لوٹ لیے جائیں گے۔
ڈاکٹر انوار احمد کا گھر ملتان کی شالیمار کالونی میں واقع ہے۔ صبح کی واک کرتے ہیں۔ پھر گھر لوٹتے ہیں۔ اس دن قریبی اسٹور تک کوئی چیز لینے گئے۔ واپس لوٹے تو پہلے سے دو نقاب پوش گھر کے اندر پستول تھامے انتظار کررہے تھے۔
گھر کے اندر تو کتابوں اور اپنے گھر سے دور بچوں اور نواسے، نواسوں کی یادوں کے علاوہ کچھ نہیں رکھا تھالہذا ان ڈاکوئوں نے ان کا بازو مروڑ کر ان کاموبائل اور بٹوہ چھین لیا۔انہوں نے استاد ہونے کے ناطے ان سے ڈائیلاگ کرنے کی کوشش کی کہ شاید اتر جائے ترے دل میں میری بات۔
صرف اتنا کہا ان کی بڑی بیٹی نے انہیں کینڈا سے کچھ پیسے بھجوائے ہیں وہ بٹوے سے لے لیں۔ لیکن مہربانی کریں فون ان سے نہ لیں کہ انہوں نے اب اس بڑھاپے میں اپنے بچوں، نواسے نواسوں اور ہزاروں شاگردوں سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔ خیر ان کا وہ انداز گفتگو جسے سنتے ہوئے طالبعلم مسحور ہوتے تھے وہ ڈاکوئوں پر اثرانداز نہیں ہوا۔ شاید ڈاکوئوں کے نزدیک وہ جس پیشے سے تعلق رکھتے تھے وہاں جذبات یا رحم دلی جیسی فضولیات کی گنجائش نہیں تھی۔
میں نے ملتان کے سی سی پی او رانا منصور صاحب کو فون کیا۔ ان سے پرانی دعا سلام تھی۔ انہیں بتایا ہمارے استاد محترم پر کیا قیامت گزر گئی تھی۔ ہوسکتا ہے پولیس یا عام لوگوں کے لیے ایک معمولی بات ہو کہ یار کون سی قیامت آگئی۔ ایک گھر سے ڈاکو چند ہزار اور ایک موبائل گن پوائنٹ پر لے گئے۔ شکر کریں بندہ بچ گیا۔ جان ہے تو جہان ہے۔
لیکن جو لوگ ڈاکٹر انوار احمد کو برسوں سے جانتے ہیں صرف وہی اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ ان کے لیے کتنا بڑا واقعہ ہے اور اس واقعے نے پچھتر سالہ استاد کی روح کو کتنا گہرا زخم اور دکھ پہنچایا ہوگا۔ جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے روزانہ ان کے شاگرد اور خیرخواہ ان کے گھر جارہے ہیں اظہار افسوس اور اپنی سپورٹ شو کرنے کے لیے۔
اگرچہ یہ موقع تو نہیں لیکن کیا کروں یہ واقعہ خود ڈاکٹر انوار صاحب نے خود سنایا تھا کہ ان کے کسی جاننے والے کے گھر پچاس ساٹھ ہزار کا ڈاکا پڑ گیا. وہ بھی ان سے اظہار ہمدردی کرنے گئے تو وہ دوست بولے چلیں جو پچاس ساٹھ ہزار ڈاکو لے گئے لیکن اب اس کے بعد انے والے رشتہ داروں اور دوستوں کی مہمان نوازی پر جو ایک لاکھ خرچ ہوگیا ہے وہ کس سے ریکور ہوگا۔
یہی حالت اب شاید ڈاکٹر صاحب کی ہوگی جن کا سارا گزارہ اب پنشن پر ہے۔ یقینا اس پنشن سے بھی کچھ حصہ ان کے نئے پرانے شاگردوں یا مستحق طالبعلموں کو جاتا ہوگا کہ ساری عمر وہ یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔
زکریا یونیورسٹی ملتان اردو ڈیپارٹمنٹ کے استاد اور چیرمین کے طور پر وہ اکثر اپنے غریب طالبعلموں کو لاہور میں اپنے دوستوں اصغر ندیم سید، عطا الحق قاسمی، مسعود اشعر یا منو بھائی کے نام رقعہ دیتے کہ اس نوجوان کو نوکری میں کچھ مدد کر دیں اور ساتھ میں چپکے سے اس نوجوان کو لاہور تک جانے کا بس کرایہ بھی دیتے۔
ان کے قلم میں ایک کاٹ تھی جو آج بھی ہے۔ وہ جس انداز میں خط لکھتے تو لگتا اگلے بندے کو وہ ریکوسٹ نہیں کررہے بلکہ اسے اپنا فرض یاد دلا رہے تھے جس سے وہ غافل تھا۔
زندگی میں بہت کم لوگ آپ کو ملتے ہیں جنہیں آپ ایک انسان نہیں بلکہ پورا ادارہ سمجھتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جس نے برسوں تک ساوتھ، سینٹر پنجاب سے لے کر ترکی جاپان تک ہزاروں طالبعلموں کو اردو پڑھائی اور انسانیت سکھائی۔ وہ ایک ایسے ٹیچر رہے جنہوں نےنہ صرف عزت کمائی بلکہ عزت کمانڈ کی۔ میں نے زندگی میں دو لوگ ایسے دیکھے جنہیں اکثر لوگ صرف ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار ملنے کی خواہش رکھتے تھے۔ ایک ڈاکٹر ظفر الطاف اور دوسرے ڈاکٹر انوار احمد۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ آپ ان دونوں سے ملیں اور دوبارہ ملنے کی خواہش آپ میں نہ ابھرے۔ اس لسٹ میں آپ ہمارے لیہ کے مرحوم دوست اور میرے آخری گرو رانا اعجاز محمود کو بھی رکھ سکتے ہیں۔ نعیم بھائی کا ذکر کیا تو کہیں گے بھائی کی وجہ سے کہہ رہا ہوں گا وگرنہ جو لوگ انہیں جانتے تھے وہ بھی اس فہرست میں تھے جن سے ایک دفعہ مل کر آپ کا بار بار ان سے ملنے کو دل کرے۔ ان چاروں میں دو باتیں مشترک تھیں۔ کتابیں پڑھنے کا جنون اور انسان دوست۔
انوار احمد صاحب نے جو نام کمایا وہ لیفٹ کی سیاست میں کمایا۔ ہمیشہ اسٹیس کو کی قوتوں کے خلاف کھڑے ہوئے۔ اپنے علاقے کے طاقتوروں خلاف آواز بلند کی۔ جنرل ضیاء کے تاریک دور میں اصغر ندیم سید، عابد عمیق، صلاح الدین حیدر، اور دیگر کئی ترقی پسندوں ساتھ مل کر جدوجہد کی اور سزائیں بھگتیں۔ لیکن موقع ملا تو اسی بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو کے سامنے ملتان میں ہونے والے سیمنار میں انہیں کھری کھری سنا بھی دیں۔ ملتان میں دو تین دفعہ پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب صوبہ یا سیاست پر سیمنار رکھا تو انوار احمد اور مشہور صحافی مظہر عارف کو ہی چنا گیا کہ ان دونوں میں جرات تھی کہ وہ بینظیر بھٹو کے منہ پر ان کی پالیسوں کا پوسٹ مارٹم کرسکتے تھے اور انہوں نے بھی بغیر لگی لپٹے ہمیشہ اپنا فرض ادا کیا۔
ڈاکٹر انوار احمد نے یونیورسٹی دور میں بھی اپنا رول ادا کیا۔ لیفٹ کی سیاست کے سرخیل سمجھے جاتے تھے۔ مشکلات دیکھیں لیکن کبھی نہیں لڑکھڑائے۔ ہر شاگرد کا آخری ٹھکانہ ان کا شالیمار کالونی کا یہی گھر ہوتا تھا جہاں اب دو ڈاکوئوں نے ان سے عمر بھر کمائی چھین لی۔ یہ کمائی “کیش” میں نہیں تھی بلکہ ان کا اعتماد تھا کہ انہوں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ کسی ساتھ زیادتی نہیں کی۔ اپنے اسٹوڈنٹس کا خیال رکھا۔ غریبوں اور مظلوموں کی آواز بنے۔
پھر یہ سب کچھ ان کے ساتھ کیوں؟
میں نے ڈاکٹر صاحب کو واٹس ایپ پر میسج کیا کہ مجھے اس بات کا گہرا احساس ہے کہ آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہوگی۔آپ نے ساری عمر سب کا اچھا سوچا اور اچھا ہی کیا۔ اس وجہ سے آپ کی گھریلو زندگی بھی متاثر ہوئی اور ماحول بھی شاید خراب ہوا لیکن آپ نے چند باتوں پر کمپرومائز نہیں کیا۔
شروع میں ڈاکٹر صاحب نے ڈاکوئوں خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرائی، مجھے کہنے لگے یار ایسے پولیس والے کسی آتے جاتے غریب کو پکڑ لیں گے یا کسی بال بچوں والے گھر کے ملازم یا ملازمہ کی مارپیٹ ہوگی کہ تک بتائو تم نےاس گھر کی مخبری کی ہوگی ۔۔ اب کیا میں ان لوگوں کو تھانے بلائوں۔
ڈاکٹر صاحب کی بات سن کر مجھے عظیم فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا ناول Les Miserables کا ایک کردار یاد آیا۔ ایک چور بھوک مارے ایک چرچ سے کچھ چراتا ہے۔ کچھ دیر بعد پولیس اسے پکڑ کر فادر پاس لاتی ہے کہ یہ کہتا ہے اس نے یہاں سے چوری کی ہے۔ فادر نے ایک لحمے بھوک سے بے حال اس چور کو دیکھا اور پولیس کو کہا مائی سن آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں نے ہی اسے یہ چیز خود دی تھی۔
جب برسوں پہلے وہ ناول پڑھا تھا تو سوچا تھا ایسا صرف فلموں یا ناولز میں ہوتا ہے لیکن مجھے علم نہ تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی اس طرح کا جواب ملتان کے ڈاکٹر انوار احمد سے بھی مل سکتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں