Afzaal Rehan

پارلیمینٹ کے بالمقابل : اتنی بڑی جسارت؟

بانیان پاکستان میں سے ایک خواجہ ناظم الدین اس ملک کے گورنر جنرل بھی رہے اور وزیراعظم بھی ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کس عہدے پر زیادہ طاقتور تھے ؟بولے ’’جب میں گورنر جنرل تھا تو وزیر اعظم زیادہ طاقتور تھا اور جب میں وزیر اعظم بنایا گیا تو گورنر جنرل زیادہ پاور فل تھا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قواعدوقوانین کچھ بھی کہتے ہوں کچھ لوگ شخصی طور پر اس قدر شریف اور **اس قدر خودسر ہوتے ہیں کہ وہ چھوٹے عہدے پر بھی چھلانگیں بڑی مارلیتے ہیں اور ایسے شاطر لوگ اگر بدقسمتی سے کسی بڑے عہدے پر براجمان ہوں جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو ایک مدت سے ہماری سپریم جوڈیشری میں ہو رہا ہے اس خرابی بسیار کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتا کہ انہیں میچے میں لانے کیلئے نہ صرف یہ کہ ان کے اطراف قواعد و ضوابط سخت کر دیئے جائیں بلکہ صوابدیدی اختیارات کی گنجائش سرے سے ختم کر دی جائے اور یہ بھاری پتھر صرف پارلیمان ہی اٹھا سکتی ہے لیکن اگر پارلیمان کی طاقت کو چیلنج کر دیا جائے گا تو پھر بھینس اس کی ہو گی جس کے ہاتھ میں لٹھ ہو گی یہی صدیوں کا آزمودہ نسخہ ہے ۔
ملک بدنصیب پاکستان میں اس وقت جو کھچڑی پکی ہوئی ہے یا جو دھینگا مستی انارکی کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے اس کی باعث **کوئی ایک بے اصولی یا کمینگی نہیں ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں مسائل حل ہو جائیں یا فلاں لوگ بڑے غلط ہیں اگر وہ ہٹا دیئے جائیں تو اس ملک کا سسٹم سدھر جائے گا یوں یہ ملک آئین و جمہوریت کی پٹڑ ی پر چڑھ کر ترقی و خوشحالی کی طرف رواں دواں ہو جائے گا اگر ایسے خواب دیکھنے والوں کو جنت الاحمقا ءکے باسی نہ بھی گردانا جائے بھولے بادشاہ ضرور قرار دیا جاسکتا ہے ۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح اس ملک کی برتھ ابنارمل طریقے سے ہوئی تھی اسی طرح اس کی پرورش بھی ہوئی ہے اور یہ پروان بھی چڑھا ہے جوانی اگر ایک ذہین فطین بچے پر آتی ہے تو کھلنڈرے پر جوآتی ہے کہلاتی وہ بھی جوانی ہی ہے لیکن لچھن الگ الگ ہوتے ہیں اگر کھلنڈرے بھی کچھ تعلیم حاصل کرنے یا ذمہ داریاں پڑنے پر کچھ نہ کچھ بہتر دکھنے لگتے ہیں تو بحیثیت قوم کبھی کبھی ایسے ہم بھی دکھائی دیئے ہیں یا دیں گے لیکن ہماری اصلیت نہیں بدلے گی جب تک کہ ہم جوہری طور پر اپنا قبلہ تبدیل نہیں کریں گے یہاں کنویں سے ناپسندیدہ جانور نکالنے والی مثال شاید لطافت کے لحاظ سے مناسب نہیں لگے گی ۔
آج ایک طاقت کے حریص خود سر، مفاد پرست اور پارٹی باز شخص نے آئین ،قانون اور انصاف کے نام پر جو حجت بازیاں کی ہیں بلاشبہ ہمارے بہت سے لوگ اس کی حمایت میں بھی مطب اللسان ہونگے کہ موصوف تو انصاف کی دہائی دیتے ہوئے آئین کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن واقفان حال سے کونسا امر مخفی و پوشیدہ ہے کسی کے حال کو سمجھنے کیلئے ماضی بہترین دستاویز ہوتی ہے کیونکہ جیسے کہتے ہیں کہ فلاں شخص چاہے چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہ جائے عمومی انسانی رویوں میں فطرت نہیں بدلتی ہماری اسی سپریم جوڈیشری میں کراچی کے ایک انسانی لیڈر کا کیس آیا کہ اس نے کس طرح قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کیا کارستانیاں کی تھیں اب اس ادارے کی چند برس قبل قائم کردہ روایت کے مطابق اس کی تاحیات نااہلی والی وہی سزا بنتی تھی جو تین مرتبہ منتخب ہونے والے سا بق وزیر اعظم کو مخصوص ایجنڈے کے تحت من گھڑت الزامات و القابات سے نوازتے ہوئے اندھا دھند نہ صرف سنائی گئی تھی بلکہ پوری ڈھٹائی سے لاگو کروائی گئی مگر یہاں براجمان وہ شخص رونے لگ گیا کہ اتنی معمولی بات پر اتنی بڑی سزا یہ تو ڈریکونین لا ہے کسی نے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ چند برس قبل تمہاری انہی مبارک آنکھوں پر کیا پٹی بندھ گئی تھی ؟
ن لیگیوں میں اگر کچھ بھی غیرت ہے تو کسی بھی مذاکراتی چکمے میں آکر گیلی وٹ پر قدم رکھنے سے انکار کر دیں رحمن کے فضل ،مولانا کے ایمانی جذبے سے کچھ طاقت پکڑیں اور ڈٹ جائیں کہ اے سرکاری و غیر سرکاری انصافیو!جب تک ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہونگے ہم نہ تو چین سے بیٹھیں گے اور نہ کسی کو کرکٹ یا گلی ڈنڈا کھیلنے دیں گے اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو آئوٹ کرتے ہوئے روایتی مریل لوگوں کو پیچھے کریں انرجیٹک لوگوں کو آگے لائیں اپنے سوشل میڈیا کو منظم کریں جواں عزم کارکنان اور بالخصوص وکلاء مجاذ کو تیز کریں اور پروپیگنڈہ مہم میں اپنے مخالفین کو ناکام بنائیں اگر آپ لوگوں سے ایک متشدد شخص نااہل یا گرفتار نہیں ہو رہا تو اپنی قانونی ٹیم کی تطہیر کیجئے ذمہ داریاں کارکردگی و آئوٹ پٹ سے مشروط کیجئے اور لیڈر صاحبہ بھی اپنے اندر کچھ میجورٹی لے آئیں ۔درویش کی تمنا ہے کہ چھوٹے میاں صاحب جوڈیشل مارشل لا کے ہاتھوں گھر بھیج دیئے جائیں اس سے لیگی بیانیے کو دہرا فائدہ پہنچے گا اور وہ شخص خود بھی اپنی ناکامیوں کے علی الرغم اس سیاسی شہادت کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ کچھ نہ کچھ بہتر قرار دلوانے کے قابل ہو پائے گا ۔
دوسری طرف سرکاری اضافی جو دہائی ڈالے ہوئے ہیں انہیں یا تو فیس سیونگ کی خاطر سمجھوتہ کرنا پڑے گا یا اپنی توہین آپ کا سمبل بننا پڑے گا، قانونی حدود اور دیواروں کو پھلانگنے والی ان کی حرکات ان کے اپنے گلے پڑنے والی ہیں وہ چھوٹے ماتحتوں کو کیوں احکامات صادر فرماتے اور عدم تعمیل پر توہین کرواتے پھرتے ہیں حسب روایت اصل شخص کو اپنے حضور طلب فرمائیں اور لگائیں تو ہین عدالت اب کسر کون سی رہ گئی ہے تو جائز یا ناجائز سو موٹو کو آپ لوگوں نے جس شتابی میں اٹھایا تھا پہنچائیں اس کو منطقی انجام تک پنجاب حکومت قائم کروانے کیلئے آپ نے جس طرح قانونی پینترے بدلے منحرفین کو دیکھ کر آپ کا خون جوش مارتا تھا اور آپ نے لاکھوں ووٹرز کے نمائندوں کو فلور کراسنگ کا جرم ثابت ہوئے بغیر ہی ان کا حق رائے و نمائندگی چھین لیا ہائیکورٹس میں اپیلیں چل رہی تھیں مگر سب کچھ بلڈوز کر دیا الیکشن کمیشن کی اتھارٹی کو رونڈ ڈالا اس کے کیس میں محض ایک پارٹی کوسنا اور دوسروں کا پوری ڈھٹائی سے حق سماعت چھین لیا ساتھی ججز کو او ایس ڈی بنائے رکھا کوئٹہ، لاہور رجسٹری کو ویران کر ڈ الا تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد اسمبلی نہیں توڑی جا سکتی آئین واضح ہے جن لوگوں نے اس حوالے سے کھلی آئین شکنی کی ان کے سامنے آپ کی پیشانی پر شکن تک نہ آیا حجتوں پر حجتیں، انہیں خبر نہیں ہوئی ہو گی آگ انہوں نے نہیں لگائی ہو گی اپنے آپ لگ گئی ہو گی صبح، دوپہر اور شام من مانیوں سے بنچز بنائے اور توڑے جس کا پورے قومی میڈیا میں سکینڈل چل رہا تھا اسے سینے سے لگائے ہوئے حکومت کو کونسا پیغام انصاف بھیجا جا رہا ہوتا ؟ آپ فلاں سے معاملات طے کر لیں یا مک مکا ورنہ پھر قانون کی تلوار لہرائے گی ۔
چاہے یہ سب باتیں بے معنی پروپیگنڈہ کہہ کر مسترد فرما دیں لیکن بائیس کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمینٹ کے سامنے کھڑے ہو جانا کہ وہ جو قانون بنانے یا قواعد وضع کرنے جا رہی ہے میں وہ نہیں کرنے دونگا ۔کیوں بھائی آپ کیا ہیں ؟آپ کی ڈومین کیا ہے ؟کیا آپ پارلیمینٹ پر بھی حاوی و عاری سپرمین ہیں ؟تو پھر ڈکٹیٹر کس کو کہتے ہیں؟پارلیمینٹ کا وہ بچہ جو ابھی ماں کے پیٹ میں ہے آپ کہتے ہیں اسے پیدا ہی ہونے ہی نہیں دونگا اتنی بڑی جسارت اور وہ بھی آئین، قانون اور انصاف کے نام پر رہ گئے پنجاب کے انتخابات تو وہ آپ جمع خاطر رکھے 14مئی کو ناممکن قرار پا چکے ہیں بلکہ کسی متنازعہ شخص کے زیر سایہ ممکن نہ ہو پائیں گے اتحادیوں ہی کا نہیں پوری قوم کا ایک ہی موقف ہونا چاہئے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات جب بھی ہونگے اکٹھے ہونگے اور الیکشن کمیشن کی دی ہوئی تاریخ 8اکتوبر میں کئوی مضائقہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں