Mazhar Barlas journalist

عمران خان چھبہ ڈوگر تو نہیں!!

نظروں کے سامنے سے ابھی ایک خبر گزری ہے کہ اسلام آباد( کوفہ) میں عمران خان پر ایک اور مقدمہ بنا دیا گیا ہے ، یہ مقدمہ اسلام آباد میں “آئین بچاؤ ریلی” نکالنے پر درج کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس دن عمران خان اسلام آباد میں موجود ہی نہیں تھے مگر پرچہ کرنے والوں کی مرضی ہے وہ کسی کو کہیں بھی دکھا سکتے ہیں ، کسی کو بھی چھلاوا بنا سکتے ہیں۔ پچھلے ایک سال سے ہر آنے والا دن حیرت میں مزید اضافہ کرتا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ نے اس سے پہلے یہ کھیل نہیں دیکھا تھا ، یہ حیرت انگیز کھیل عجیب و غریب ہے۔ آپ کسی اور جگہ ہوتے ہیں پرچہ کسی اور جگہ درج ہو جاتا ہے، اس ایک سال میں چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا، کئی شریف گھرانوں پر آدھی رات کو دھاوا بولا گیا، کہیں پہ بچوں کو ڈرایا گیا اور کہیں سے بچوں کو اٹھایا گیا۔ کہیں پہ عورتوں کی تذلیل کی گئی، کہیں پہ کسی کو گھسیٹا گیا۔ اس ساری صورتحال میں ان گھروں پر کیا بیتی ہو گی اور وہ کیا سوچتے ہوں گے ، یہ وہی بہتر جانتے ہیں مگر اس سے عام پاکستانی لوگوں کے بچے بھی ڈر گئے ، سہم گئے۔ لوگ تو ریاست کو ماں کے روپ میں دیکھتے ہیں لیکن اس بد سلوکی نے ان کے دل توڑ دیے۔ ایک سال سے یہ کام ایک غیر مقبول حکومت کر رہی ہے۔ اگر کوئی غیر مقبول بھی ہو اور ظلم بھی کرے تو تماشہ لگانے والوں پر حیرت ہوتی ہے ۔ ظلم کی گواہی کسی بھی گاؤں، قصبے یا شہر سے لی جا سکتی ہے۔ اس ایک برس میں ایسا بھی ہوا کہ بعض لوگوں کو اٹھایا گیا، انہیں گھمایا پھرایا گیا مگر کسی کو یہ نہ بتایا جا سکا کہ وہ کس کے پاس ہے؟۔ اٹھائے گئے افراد کے اہل خانہ بہت پیچھا کرتے تو بتایا جاتا کہ فلاں مقدمے میں وہ فلاں ادارے کے پاس ہے۔ اسے عدالت میں پیش کیا جاتا اور یہیں سے ایک نئے کھیل کا آغاز ہوتا۔ یہ کھیل بھی حیرت اور دلچسپی سے خالی نہیں کہ اگر کسی کی ضمانت اسلام آباد کی ایک عدالت سے ہوتی تو اسے نئے مقدمے میں گرفتار کرنے کے لئے خیبرپختونخوا کی پولیس موجود ہوتی۔ جب اس کی ضمانت پشاور یا کوہاٹ کی عدالت سے ہوتی تو ایک نیا مقدمہ درج کر کے گرفتاری کے لئے پنجاب پولیس پہنچ جاتی۔ جب اسے لاہور یا راولپنڈی کی عدالت میں پیش کیا جاتا تو نئی گرفتاری کے لئے سندھ پولیس کے اہلکار موجود ہوتے۔ جب کسی کی ضمانت سکھر، دادو یا حیدرآباد سے ہوتی تو وہاں کی عدالتوں کے احاطے میں گرفتاری کے لئے بلوچستان کی پولیس پہنچ جاتی۔ بدقسمتی سے یہ کھیل ہنوز جاری ہے۔احمقانہ فیصلے محبت کی فصلیں تیار نہیں کرتے، نفرت کے جنگل اگا دیتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال علی امین گنڈا پور ہیں جو رہائی کے بعد اپنے گھر گیا تو ڈی آئی خان میں 75 مقامات پر اس کا استقبال کیا گیا۔ لوگ بیس کلومیٹر تک اس کے قافلے کے ساتھ پیدل چلتے رہے۔ لوگوں نے اس طرح ظلم اور ظالم سے نفرت کا اظہار کیا۔آپ یقین کیجئے کہ راتوں کو گھروں پر چھاپوں کے طفیل بچے نفسیاتی مریض بن گئے۔ اس قوم کے ذہین ترین نوجوان ظالمانہ ہتھکنڈوں کے سبب ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ قوم سراپا احتجاج ہے کیونکہ اندھے ہوش کے ناخن نہیں لے رہے۔ لوگوں کو ان ظالمانہ کارروائیوں کا سامنا محض اس لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ عمران خان کی پیروی کر رہے ہیں اور عمران خان قانون اور انصاف کی باتیں کر رہا ہے۔
آپ سب کے علم میں ہے کہ عمران خان ایچی سن کالج لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ سے پڑھا۔ وہ کرکٹ کھیلتا رہا ، قومی ٹیم کا کپتان بنا ۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ پاکستان اسی کی کپتانی میں ورلڈ چیمپئن بنا۔ اس کی والدہ بیمار ہوئیں تو پتہ چلا کہ انہیں کینسر ہے، وہ کینسر سے لڑتے لڑتے مر گئیں مگر عمران خان کے دل و دماغ پر ایسے نقش چھوڑ گئیں کہ اس نے کینسر ہسپتال بنانے کا قصد کیا ۔ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود وہ اس کام میں جت گیا۔ ہسپتال کی مہم کے دوران اسے مسائل زدہ پاکستان دیکھنے کا موقع ملا ۔ لوگوں کے چہروں پر لکھی ہوئی ظلم کی داستانیں پڑھنے کا موقع ملا ۔ خوف سے ڈرے، ہانپتے اور کانپتے انسانوں کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ یہی اس کی سیاست کی پہلی اینٹ تھی ورنہ یہاں تو کسی کی سیاست کی پہلی اینٹ سکندر مرزا اور ایوب خان نے رکھی اور کسی کی پہلی اینٹ جنرل جیلانی اور ضیاء نے رکھی۔ اپنے مسائل زدہ لوگوں کو انصاف دلانے کیلئے عمران خان نے تحریک انصاف بنائی ۔ 22 سالہ جدو جہد کے بعد اسے اقتدار ملا۔ مگر اس سے پہلے مافیاز نے اس کے سامنے سنگلاخ دیواریں کھڑی کیں۔ وہ دیواریں عبور کر کے اقتدار تک پہنچا مگر دوران اقتدار مافیاز سے اس کی لڑائی رہی، پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب تمام مافیاز ایک جگہ اکٹھے ہو گئے اور اپنے پس پردہ آقاؤں کی حمایت سے اقتدار میں آگئے۔
گزشتہ ایک سال سے مافیاز اور ان کے حامی عمران خان کو پارٹی سمیت کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حیرت ہے جس شخص پر ساری زندگی کوئی مقدمہ نہیں بنا تھا اب اس پر ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مقدمات ہیں۔ انگریز کے کالے قوانین کا بھر پور استعمال کیا گیا ہے۔ کہیں وہ غدار ہے تو کہیں دہشت گرد۔ اسے چھبے ڈوگر سے بھی بدتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے کیونکہ اتنے مقدمات تو چھبے ڈوگر پر بھی نہیں تھے ۔ خطرات کے باوجود عمران خان جدو جہد میں مصروف ہے ۔ ہمارے دوست ممالک سیاسی استحکام لانے کے مشورے دے رہے ہیں۔ ہمارا دشمن ہم پر دہشت گردی کے الزام لگا رہا ہے اور ایسے میں جب ہمارا سابق وزیراعظم اور مقبول ترین سیاسی رہنما عدالتوں میں پیش ہوگا تو کیا یہ ریاست کے لئے باعث ندامت نہیں ہوگا کہ ملک کے ایک سابق وزیراعظم کو کہیں پہ دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے تو کہیں پہ غدار، چونکہ ان مقدمات کی کارروائی انٹرنیشنل میڈیا کا حصہ بنے گی تو اس مرحلے پر ریاست کو سوچنا ہو گا کہ وہ غداروں اور دہشت گردوں کو وزیراعظم بناتی رہی ہے۔ حکومتی جبر کی وجہ سے عوام اور ریاست میں فاصلے پیدا ہو رہے ہیں۔ کہ بقول شاعر
کسی کو راستہ دے دیں، کسی کو پانی نہ دیں
کہیں پہ نیل، کہیں پر فرات ہیں ہم لوگ

اپنا تبصرہ بھیجیں